ماں

سب کی ماؤں اور اپنی دھرتی ماں کا خیال ہم سب نے مل جل کر رکھنا ہے

’’میرے بچے کو خون آ رہا ہے، اس کی حالت بہت خراب ہے۔‘‘

وہ اچانک مخاطب ہوئی تھی، سورج جیسے سر پر تھا، تپتی دھوپ اور حبس میں اس کے چہرے پر اذیت کے ساتھ غم بھی نمایاں تھا۔

’’آپ اسے اسپتال لے جائیں۔ سرکاری اسپتال اچھے ہوتے ہیں۔‘‘

’’جی میں اسپتال گئی تھی، انھوں نے مجھے دوسرے اسپتال جانے کو کہا، کیونکہ پہلے اسپتال والوں نے کہا کہ ہم دوائیاں نہیں دیتے اور انھوں نے مجھے دو ہزار روپے کا نسخہ پکڑا دیا۔

اب آپ بتاؤ! میں کاغذ کے اس پرچے کا کیا کروں گی؟ انھوں نے میرے بچے کو دیکھا اور ٹیسٹ اور دوائیاں لکھ دیں، اب ایک ایک ٹیسٹ اتنا مہنگا، دوائیاں بھی نہیں دیتے، مجھے کیا فائدہ۔‘‘

اس کی آنکھوں میں دکھ کے ساتھ ہزاروں سوال بھی تھے۔

’’اب میں کیا کروں، میرے بچے کو تین دن سے اجابت نہیں ہو رہی بلکہ خون آ رہا ہے۔ کھانے کے پیسے نہیں اور میں کہاں سے دو ہزار روپے کی دوائیاں خریدوں۔‘‘

’’ دوسرے اسپتال سے بھی دوائیاں ملتی ہیں مفت میں اور ڈاکٹرز بھی تجربہ کار ہوتے ہیں۔‘‘

’’جی بالکل، وہاں بھی گئی، اتنا کرایہ خرچ کرکے یقین کریں اتنے پیسے کرائے کے بڑھ گئے ہیں اوپر سے وہاں بھی مسائل، کہتے ہیں اپنا شناختی کارڈ لاؤ، اپنے شوہر کا شناختی کارڈ لاؤ۔‘‘

’’تو کیا آپ کے پاس آئی ڈی کارڈ نہیں؟‘‘ (کچھ شکل و صورت کو دیکھ کر جاگا تو سوال ہوا) آپ پاکستانی ہیں کیا، کہیں آپ بنگلہ دیش سے تو تعلق نہیں رکھتیں؟‘‘

سوال کے جواب میں اثبات میں گردن ہلی تھی۔

ؔ’’اور آپ کے شوہر پاکستانی ہیں یا وہ بھی بنگلہ دیشی ہیں؟‘‘

’’نہیں وہ پاکستانی ہیں، بلوچی ہیں۔‘‘

’’تو ان کے پاس تو شناختی کارڈ ہوگا ناں۔‘‘

’’جی، ان کے پاس تھا پر کھو گیا۔ میں نے کتنا کہا کہ نادرا سے جا کر بنوا لو، پر وہ میری سنتے ہی نہیں۔‘‘

’’کیا کام کرتے ہیں آپ کے شوہر؟‘‘

’’نشہ کرتے ہیں۔‘‘ جواب میں اداس سی مسکراہٹ کے ساتھ تین لفظ۔

’’ایک ہی بچہ ہے میرا۔‘‘ آواز آنسوؤں میں رندھ گئی، ’’میں خود کینسر کی مریض ہوں، ایسے گرمی لگتی ہے مجھے کہ نہ پوچھیں، سارے جسم میں الرجی ہوتی ہے، پر کیا کروں علاج کیسے کرواؤں۔ اتنی مہنگی دوائیاں کہاں سے لاؤں؟‘‘

’’اوہ۔‘‘ دکھ کا ایک در اور وا ہوا۔ ’’آپ فلاں ادارے کیوں نہیں جاتیں؟‘‘ ایک مشہور فلاحی ادارے کا نام لیا جن کے سرکردہ اکثر ویڈیوز میں اپنی خدمات اور سرگرمیوں سے عوام کو باخبر کرتے رہتے ہیں۔

’’ارے کیا بتاؤں، ان کے پاس بھی گئی تھی۔ وہ بھی پہلے تو اتنا خوار کرایا اتنا انتظار اتنے چکر پھر وہی شناختی کارڈ۔۔۔ بتاؤ میں کیا کروں۔‘‘

وہ رنج و الم کی تصویر بنی تھی۔ دکھ بھی ممتا کے اور غم بھی ممتا کے، پر کون جانے۔ ہر بچے کی عمر کے شروع کے چند سال بہت اہم ہوتے ہیں جو اس کی زندگی میں سنگ میل ثابت ہوتے ہیں، اگر ان چند سالوں میں بچوں کی صحت، تعلیم و تربیت، غذا پر توجہ نہ دی جائے تو ساری زندگی بچہ انھی علتوں میں لگا رہتا ہے۔

ایک ہی جگہ دو بچے اور اتنے بڑے حادثات اور بیماریوں کا شکار۔ اس تین سالہ بچے کے سر پر پٹی بندھی تھی، بچہ نیند میں تھا۔ اس قدر گرمی میں اتنی سخت بینڈیج۔

’’یہ عید کے دن اوپر سے نیچے گر گیا تھا۔‘‘

حیرانگی ازحد ابھری تو فوراً وضاحت دی گئی۔

’’گھر میں ہی گرا تھا۔ دراصل ہم نے اوپر دیوار نہیں بنوائی تھی بس سب مصروف تھے کسی کو دھیان نہیں رہا اور یہ اوپر چلا گیا اور نیچے گر گیا۔ ہم فوراً اس کو لے کر اسپتال دوڑے۔ میرے شوہر کی تو حالت خراب ہو گئی تھی یہ تو بالکل بے سدھ پڑا تھا، وہ پرائیویٹ اسپتال تھا انھوں نے فوری اس کے ٹانکے لگائے۔ خون بہہ رہا تھا رُک نہیں رہا تھا۔ انھوں نے کہا اس کا آپریشن ہوگا۔ پر ہمارے پاس آپریشن کے لیے پیسے ہی نہیں تھے۔‘‘

’’کتنے پیسے کہے تھے؟‘‘

’’پانچ لاکھ روپے۔۔۔۔ اب ہم غریب لوگ، ہمارے پاس پانچ لاکھ روپے کہاں۔۔۔۔ ہم اس کو لے کر ایک سرکاری اسپتال گئے، انھوں نے اس کے ٹیسٹ کیے چیکنگ کی تو انھوں نے بتایا کہ اس کا فوری طور پر آپریشن ہوگا کیونکہ اس کے سر کی ہڈی ٹوٹ کر اندر دھنس گئی ہے، اس کو نکالنے کے لیے آپریشن ہوگا، لیکن ایک فی صد کامیابی کا چانس ہے اور ننانوے فی صد ناکامی کا۔‘‘

چہرے پر ایک اداس سی مسکراہٹ۔

’’ورنہ یہ۔۔۔۔ (آگے کہا نہ گیا)۔ میرے شوہر تو ڈر کے مارے اسے فوراً لے آئے، ان سے تو برداشت نہیں نہ ہوا۔ اب میں اسے لے کر اسپتال جا رہی ہوں، دور سے آئی ہوں تو شوہر تو کام پر ہے، ڈائریکٹ اسپتال چلے جائیں گے اور میں گھر سے آ رہی ہوں۔‘‘

امید کی کرن چہرے پر پھیلی تھی۔ مامتا کا دوسرا نام ہمت اور صبر۔

’’آپ فکر نہ کریں اللہ قادر ہے اور اس ا آپریشن کامیاب ہی ہوگا۔ بچہ ہے اس کی ہڈی نرم ہے، جڑ جائے گی آرام سے اور نکل بھی جائے گی۔‘‘

مہنگائی بہت بڑھ گئی ہے، علاج مہنگائی کی اونچی سطح پر جا رہا ہے ایسے میں غریب مزدور طبقہ مہنگے ڈاکٹروں کی فیس اور مہنگی دواؤں کا خرچ کیسے برداشت کرے۔

ہمارے یہاں نعرے بہت لگتے ہیں خدمت عوام کے مرض میں مبتلا بڑے ادارے اپنے خیراتی صندوقوں کا حجم وسیع کرتے جا رہے ہیں لیکن سرکاری اور غیر سرکاری ادارے، عام انسان کی بیماریوں، مسائل اور معاشی الجھنوں کا کوئی حل پیش کرسکتے ہیں۔

’’کراچی کے اپنے بہت فنڈز ہیں، کوئی کمی نہیں ہے پھر بھی قرضے حاصل کیے گئے ہیں اور کروڑوں روپے تو کوڑا ٹھکانے لگانے پر خرچ ہو رہے ہیں، سڑکوں کی مرمت کے نام پر اب بھی اونچی نیچی ٹوٹی راہیں مسافروں کی منتظر ہیں۔‘‘

’’پانی نہیں ہے، میرے بچوں نے تو بچپن سے ہی پانی کے اتنے مسائل دیکھے ہیں کہ انھیں زیادہ نہانے کی عادت ہی نہیں رہی، پھر بھی عام استعمال کے لیے جو کھارے پانی کے ساتھ میٹھا پانی ملا کر دیا جا رہا تھا اس پر بھی قدغن، اب کیا کریں؟‘‘

’’ہمارے گھر تو بجلی پانی آتا ہی نہیں۔ بجلی باقاعدگی سے دن میں اٹھارہ گھنٹے غائب رہتی ہے اور پانی کے لیے ہم ٹینکر ڈلواتے ہیں وہ بھی پرائیویٹ۔‘‘

’’گرمی لگ گئی تھی، دو دن اسپتال میں رہا، اب غریب آدمی اسپتال کے خرچے کیسے برداشت کرے۔‘‘

مسائل کا ایک انبار ہے، عوام کی پکار ہے بات صرف اتنی سی ہے کہ قیام پاکستان سے ہی پاکستان کی معیشت کو نقصان پہنچانے کی ترکیبیں استعمال ہوتی رہی ہیں، اب کھانے پینے کی عادت اتنی پڑ گئی ہے کہ عوام کے لیے ساری سہولیات عام کرتے ہچکچاہٹ سی ابھرتی ہے۔

یاد رکھنا ہے آج کے بچے کل اس دھرتی کے پاسبان بن کر ابھریں گے، ہمیں شکووں شکایات کو رد کرنے کی عادت سے نکلنا ہے، اپنی ذمے داریوں کو سمجھنا ہے، آسانیاں فراہم کرنے سے ہماری آخرت میں آسانی رہے گی، اگر واقعی اس بات پر یقین بھی ہے کہ ہمیں لوٹ کر اسی رب کے پاس جانا ہے جس نے ہمیں پرکھنے کے لیے اس دنیا میں اتارا ہے کہ کھرے کھوٹے کا پیمانہ مستقل طور پر جنت دوزخ کا انتخاب بنتا ہے۔

سب کی ماؤں اور اپنی دھرتی ماں کا خیال ہم سب نے مل جل کر رکھنا ہے، کسی کے صبر کو اتنا بھی نہ آزمائیں کہ مظلوم کی آہ سے عرش لرز اٹھے۔

Load Next Story