فضا میں ہلچل؛ اسرائیلی مسافر طیارے سے رابطہ منقطع؛ نیٹو جنگی طیارے ایکشن میں آگئے
ہنگری میں اسرائیلی مسافر طیارے کی تلاش میں نیٹو جنگی طیاروں کی پرواز
فضا میں اس وقت ہائی الرٹ کی صورت حال پیدا ہوگئی جب ایک اسرائیلی مسافر بردار طیارے سے رابطہ منقطع ہونے پر نیٹو نے جنگی طیارے فضا میں بھیج دیے۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیل سے یورپ جانے والی ایک مسافر پرواز سے فضائی رابطہ منقطع ہونے پر ہنگری کی فضائیہ نے فوری کارروائی کرتے ہوئے جنگی طیارے روانہ کر دیے جس سے سیکیورٹی اداروں میں ہلچل مچ گئی۔
عبرانی میڈیا نے دعویٰ کیا کہ اسرائیلی فضائی کمپنی آرکیا کی پرواز تل ابیب سے جمہوریہ چیک کے دارالحکومت پراگ جا رہی تھی کہ ہنگری کی فضائی حدود میں داخل ہونے کے بعد مقامی ایئر ٹریفک کنٹرول سے اس کا رابطہ قائم نہ ہوسکا۔
میڈیا رپورٹس میں مزید بتایا گیا کہ رابطہ نہ ہونے پر نیٹو کے فضائی دفاعی نظام نے اعلیٰ درجے کا الرٹ جاری کیا جس کے بعد ہنگری کی فضائیہ کے دو جنگی طیاروں کو فوری طور پر فضا میں بھیجا گیا تاکہ مسافر طیارے سے بصری اور ریڈیو رابطہ قائم کیا جا سکے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ ان جنگی طیاروں نے اسرائیلی مسافر طیارے کے قریب پہنچ کر اس سے رابطہ کیا اور ہائی جیک ہونے یا کسی اور مشکوک سرگرمی کے بارے میں تصدیق کی۔
اسرائیلی پائلٹ کی جانب سے نفی میں جواب ملنے پر صورتحال معمول پر آ گئی اور پرواز نے بغیر کسی رکاوٹ کے اپنا سفر جاری رکھتے ہوئے پراگ میں بحفاظت لینڈنگ کی۔
واقعے کے بعد آرکیا ایئرلائن نے ایک مختصر بیان میں کہا کہ اس حساس معاملے کی اندرونی سطح پر تحقیقات کی جا رہی ہیں۔
کمپنی کے بیان میں مزید کہا گیا کہ پرواز کا عملہ منظور شدہ فلائٹ پلان اور پہلے سے طے شدہ فضائی راستوں کے مطابق کام کر رہا تھا۔
بیان میں تصدیق کی گئی ہے کہ مذکورہ پرواز کے دوران کسی بھی مرحلے پر نہ طیارے، نہ مسافروں اور نہ ہی عملے کو کوئی خطرہ درپیش ہوا تھا۔
واضح رہے کہ یورپ کی فضائی حدود میں کسی بھی مسافر طیارے کا ایئر ٹریفک کنٹرول سے رابطہ منقطع ہونا انتہائی سنجیدگی سے لیا جاتا ہے کیونکہ موجودہ عالمی سکیورٹی حالات میں ایسے واقعات کو ممکنہ ہائی جیکنگ، تکنیکی خرابی یا سکیورٹی خطرے کے تناظر میں دیکھا جاتا ہے۔