ایران معاہدے کا مقصد عارضی جنگ بندی نہیں، مستقل امن ہونا چاہیے؛ برطانوی وزیراعظم

برطانیہ کسی بھی ممکنہ امن معاہدے پر عمل درآمد کیلیے بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ مل کر کام کرے گا

برطانوی وزیراعظم کیئر اسٹارمر کا صدر ٹرمپ سے ٹیلی فون پر رابطہ

برطانوی وزیراعظم کیئر اسٹارمر نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ ٹیلیفونک گفتگو میں ایران کے ساتھ مجوزہ معاہدے کی حمایت کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا ہے کہ یہ معاہدہ خطے میں پائیدار اور دیرپا امن کے قیام کا باعث بننا چاہیے۔

برطانوی وزیراعظم کے دفتر کی جانب سے جاری بیان کے مطابق وزیراعظم کیئر اسٹارمر نے کہا کہ ایران سے متعلق کسی بھی مفاہمتی معاہدے کا مقصد صرف فوری کشیدگی کا خاتمہ نہیں بلکہ ایک ایسا فریم ورک ہونا چاہیے جو مستقبل میں بھی امن اور استحکام کو یقینی بنا سکے۔

بیان میں کہا گیا کہ برطانیہ کسی بھی ممکنہ امن معاہدے پر عمل درآمد میں تعاون کے لیے تیار ہے اور اس سلسلے میں بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ مل کر کام کرے گا تاکہ معاہدے کی کامیابی اور خطے میں استحکام کو یقینی بنایا جا سکے۔

دونوں رہنماؤں نے مشرقِ وسطیٰ کی تازہ صورتحال، ایران کے ساتھ جاری سفارتی رابطوں اور عالمی معیشت پر پڑنے والے اثرات پر بھی تبادلہ خیال کیا اور اس بات پر اتفاق کیا کہ آبنائے ہرمز میں بحری آمد و رفت کی مکمل بحالی ضروری ہے۔

برطانوی وزیراعظم کے دفتر کے مطابق اسٹارمر اور ٹرمپ نے آئندہ دنوں میں بھی قریبی رابطہ برقرار رکھنے پر اتفاق کیا اور خطے میں امن و استحکام کے لیے مشترکہ سفارتی کوششوں کی ضرورت پر زور دیا۔

یہ رابطہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ دعویٰ کر چکے ہیں کہ کل بروز اتوار ایران کے ساتھ مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے جائیں گے۔

 

Load Next Story