چکوال میں آسٹریلوی پلٹ 9 سالہ بچی کی مبینہ مقابلہ کے دوران ہلاکت، سی سی ڈی کا ملوث افسر جیل منتقل

ڈکیتی کرنے والے دونوں ملزمان بھی ہلاک ہوگئے۔ خصوصی تفتیشی ٹیم نے زخمی والد عدیل احمد کا تفصیلی بیان قلمبند، ذرائع

آسٹریلوی پلٹ خاندان کی 9 سالہ بچی کی ہلاکت میں ملوث سی ٹی ڈی افسر کو گرفتار کرلیا گیا جبکہ اُسے جوڈیشل ریمانڈ پر جیل منتقل کردیا گیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق چکوال میں سی سی ڈی اہلکاروں نے ایک گاڑی پر فائرنگ کر کے ڈاکو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا، واقعے میں 9 سالہ بچی جاں بحق جبکہ 39 سالہ عدیل اور عفان زخمی ہوئے تھے۔

واقعے کے بعد سی سی ڈی اہلکار کے خلاف درج مقدمے میں دفعہ 302 (قتلِ عمد) شامل کر دی گئی ہے، جبکہ اس سے قبل مقدمہ دفعہ 322 (قتلِ خطا) کے تحت درج کیا گیا تھا۔

اس کے بعد واقعے میں ملوث سی سی ڈی افسر کو گرفتار کرلیا گیا جبکہ ترجمان سی سی ڈی نے اعلامیہ میں کہا کہ حادثے سے متعلق تفصیلی مؤقف 10 جون کو ہی جاری کردیا گیا تھا۔

سی سی ڈی ترجمان نے بتایا کہ ڈکیتی ناکام بنانے کی کوشش میں 10 سالہ ہانیہ جاں بحق، والد اور بھائی زخمی ہوئے، متعلقہ افسر نے ایس او پیز کی خلاف ورزی کی اور ایک غلط فیصلے کے باعث معصوم بچی جان سے گئی۔

سی سی ڈی کے مطابق ملوث افسر کو معطل اور گرفتار کرلیا گیا جبکہ اُس کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل منتقل کردیا گیا ہے اور متاثرہ والد کی درخواست پر فوری مقدمہ درج کر لیا گیا۔ اس کے علاوہ افسر کا اسلحہ اور خول فرانزک جانچ کے لیے بھجوا دیے گئے جبکہ سی سی ڈی شفاف تحقیقات اور انصاف کی فراہمی کے لیے پرعزم اور متاثرہ خاندان سے مسلسل رابطے میں ہیں۔

سی سی ڈی نے اپنے بیان میں کہا کہ انسانی جان کا تحفظ اولین ترجیح ہے، طاقت کے کم سے کم استعمال کے اصول پر سختی سے عملدرآمد کیا جاتا ہے، ایس او پیز سے انحراف کا کوئی جواز قبول نہیں، اس لیے واقعہ کی جامع اور غیر جانبدارانہ تحقیقات جاری ہیں۔

سی سی ڈی نے متاثرہ خاندان کے ساتھ مکمل تعاون اور حمایت جاری رکھنے کا اعلان بھی کیا۔

دوسری جاننب سی سی ڈی پنجاب کے سربراہ چکوال پہنچے جہاں انہوں نے مقتولہ ہانیہ عدیل کی قبر پر فاتحہ خوانی کی اور ورثا سے اظہار تعزیت کیا اور انصاف کا یقین دلایا۔

اُدھر تفتیشی ذرائع کا کہنا ہے کہ متوفیہ بچی کے زخمی والد عدیل کا بیان بھی قلمبند کرلیا ہے جبکہ فائرنگ کرنے والے اہلکار کا تھانہ سی سی ڈی میں حاضری ریکارڈ بھی چیک کرلیا گیا اور پولیس کانسٹیبل شجاع سے فائرنگ میں استعمال سرکاری بندوق برآمد کرلی گئی ہے۔

ذرائع کے مطابق کانسٹیبل شجاع سے تفتیش مکمل کر کے اسلحہ برآمد اور اُسے تفتیش مکمل ہونے پر جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھجوا دیا گیا۔ کانسٹیبل شجاع کو علاقہ مجسٹریٹ سدرہ گل نواز کی عدالت سے جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھجوایا گیا اور عدالت نے آئندہ سماعت26جون کو مقدمہ کا چالان طلب کرلیا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ متاثرہ خاندان سے ڈکیتی کرنے والے دونوں ڈاکو بھی مبینہ مقابلہ میں ہلاک کر دیئے گئے، جن کی شناخت محمد فیاض اور محمد عباس کے نام سے کی گئی، دونوں ہلاک ڈاکو ریکارڈ یافتہ،پولیس کو متعدد مقدمات میں مطلوب تھے۔

سی سی ڈی ذرائع کے مطابق ہلاک ڈاکو عباس4سال قبل بھی گرفتار ہوا،بعد میں رہا ہو گیا تھا، ڈاکو،بچی کے جانبحق ہونے سے اگلے دن پولیس مقابلہ میں ہلاک ہوئے۔

 

Load Next Story