پاکستان کا مالی بحران ٹیکس نظام کی ناکامی کا نتیجہ

رئیل اسٹیٹ، زراعت، تاجروں، ڈیجیٹل معیشت کو ٹیکس نیٹ میں لانے کی ضرورت

اسلام آباد:

ماہرین اقتصادیات کا کہنا ہے کہ پاکستان کو درپیش مالی بحران وسائل کی کمی نہیں، بڑے معاشی شعبوں کوٹیکس نیٹ سے باہر رکھنے کا نتیجہ ہے، حکومت ہر سال بجٹ میں تنخواہ دار طبقے اوررسمی معیشت پر مزید ٹیکس عائد کرتی ہے، جبکہ رئیل اسٹیٹ، بڑے زمیندار، تاجر برادری اورڈیجیٹل معیشت جیسے شعبے مؤثرٹیکس وصولی سے بڑی حد تک محفوظ ہیں۔

تجزیہ کاروں کے مطابق پاکستان کا رئیل اسٹیٹ سیکٹرکھربوں روپے مالیت کاحامل ہے، لیکن قومی محصولات میں اس کاحصہ انتہائی محدودہے، سرکاری اور مارکیٹ ویلیو میں فرق کے باعث بڑی مقدارمیں دولت غیر دستاویزی رہتی ہے۔

ماہرین کاکہناہے کہ جائیدادکی حقیقی مارکیٹ ویلیو پر ٹیکس عائدکرنے اور خالی پلاٹوں پر مؤثر ٹیکس نافذکرنے سے حکومت کو بھاری آمدنی حاصل ہو سکتی ہے،اسی طرح زرعی شعبہ ملکی جی ڈی پی کا 22 فیصدسے زائد حصہ فراہم کرتا ہے، مگر براہ راست ٹیکسوں میں اس کاحصہ نہ ہونے کے برابر ہے۔

ماہرین کے مطابق چھوٹے کسانوں کو تحفظ دیناضروری ہے، تاہم بڑے جاگیرداروں اوروسیع زرعی اراضی کے مالکان پر مؤثرزرعی آمدنی ٹیکس نافذکیاجانا چاہیے۔

رپورٹ میں کہاگیاکہ ریٹیل اور ہول سیل تجارت، جو ملکی معیشت کا تقریباً 18 فیصدحصہ ہے، اب بھی بڑی حد تک غیر دستاویزی ہے، تاجروں کی مزاحمت کے باعث متعدد دستاویزی اقدامات کامیاب نہ ہوسکے،جس سے قومی خزانے کو اربوں روپے کے ممکنہ ریونیوسے محروم ہوناپڑتاہے۔

ماہرین نے ڈیجیٹل معیشت کو بھی مستقبل کا اہم شعبہ قرار دیتے ہوئے کہاکہ پاکستان کے فری لانسرز اورآئی ٹی ماہرین ملکی معیشت میں قیمتی زرمبادلہ لارہے ہیں، لیکن انہیں مناسب سہولیات اور عالمی ادائیگی کے نظام تک رسائی  نہیں دی  جارہی۔

تجزیہ کاروں کے مطابق جب حکومت بااثر طبقوں کو ٹیکس نیٹ میں لانے سے گریزکرتی ہے توخسارہ پوراکرنے کیلیے بالواسطہ اوررجعتی ٹیکسوں کاسہارالیاجاتاہے،جس کابوجھ عام شہری اور متوسط طبقہ برداشت کرتاہے، پاکستان کو محصولات کی کمی نہیں بلکہ ٹیکس قوانین کے مؤثر نفاذاور ٹیکس نیٹ  بڑھانے کی ضرورت ہے۔

Load Next Story