بولنگ ایکشن کی جانچ سعید اجمل کی کل برسبین روانگی پہلے ون ڈے سے باہر
سری لنکا کیخلاف دیگرمیچز میں شرکت کا انحصار بائیو میکنکس تجزیے کی طوالت پرہوگا، آسٹریلوی ماہرین کی مصروفیات کے سبب۔۔۔
ٹیسٹ، سفری و رہائشی اخراجات آئی سی سی برداشت کرے گی، پاکستان کرکٹ بورڈ صرف ڈیلی الاؤنس دینے کا پابند،25 سے 30 بالز پر اعتراضات کیے گئے۔ فوٹو: فائل
پاکستانی آف اسپنر سعید اجمل بولنگ ایکشن کی جانچ کیلیے ہفتے کو برسبین روانہ ہوں گے، وہ سری لنکا سے سیریز کے پہلے ون ڈے سے باہر ہوگئے جبکہ دیگر میچز میں شرکت کا انحصار ٹیسٹ کی طوالت پر ہوگا۔
ان کے ایکشن کی گال ٹیسٹ کے دوران میچ آفیشلز سے رپورٹ کی تھی، انھیں 21 روز میں خود کو کلیئر کرانا ہوگا جبکہ اس دوران بولنگ کی اجازت ہے،پی سی بی کی درخواست پر آئی سی سی تاخیر سے ٹیسٹ کرانے پر آمادہ تھی مگر آسٹریلوی ماہرین کی مصروفیات کے سبب انھیں جلدی بھیجنا پڑ رہا ہے، ٹیسٹ اور سعید اجمل کے سفری و رہائشی اخراجات کونسل ہی برداشت کرے گی، ان کی 25 سے 30 گیندوں پر اعتراضات کیے گئے، خصوصاً جب وہ راؤنڈ دی وکٹ گیند کرتے ہیں تو اس پر شبہ ہوتا ہے، مکمل آستین والی شرٹ پہن کر بولنگ کرنے سے وہ مزید شکوک کی زد میں آتے ہیں، بورڈ نے اکیڈمی کوچ محمد اکرم کو ان کی رپورٹ سونپی جنھوں نے بغور جائزہ لینے کے بعد اسپنر کی کلیئرنس کے حوالے سے اعتماد ظاہر کیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق سعید اجمل کا بولنگ ایکشن سری لنکا سے گال ٹیسٹ کے دوران رپورٹ ہوا،آئی سی سی قوائد کے مطابق انھیں 21 روز میں ٹیسٹ دے کر خود کو کلیئر کرانا ہے، اس دوران انھیں بولنگ کرنے کی بھی اجازت ہو گی، تین ہفتوں کی مہلت 31 اگست کو مکمل ہو رہی ہے، اس دوران پاک سری لنکا ون ڈے سیریز کا بھی اختتام ہو جاتا، پی سی بی کی خواہش تھی کہ اسپنر اس میں حصہ لیتے، کونسل ڈیڈ لائن میں اضافے پر بھی تیار ہے، مگر برسبین کی بائیومیکنکس لیب کے ماہرین ستمبر میں دستیاب نہیں ہوں گے، اسی لیے اب سعید اجمل کو 23 اگست کی شام کولمبو سے برسبین بھیجنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، اسی روز گرین شرٹس پہلے ایک روزہ میچ میں بھی حصہ لیں گے۔
اسپنر کے ایکشن کی جانچ آسٹریلین کیتھولک یونیورسٹی برسبین کیمپس کے بائیو میکنکس لیب میں ہوگی، اسے حال ہی میں آئی سی سی نے ایکریڈیٹیشن سے نوازا ہے، قبل ازیں پرتھ میں ہی ٹیسٹ ہوا کرتے تھے۔ عموماً ٹیسٹ میں ایک دن ہی لگتا ہے اگر سعید اجمل بھی جلد فارغ ہو گئے تو انھیں دوبارہ سری لنکا بھیج دیا جائے گا جہاں27 اور 30 اگست کو بقیہ 2 ون ڈے میچز ہوں گے، تاخیر کی صورت میں وہ آسٹریلیا سے براہ راست وطن واپس آ جائیں گے۔
ذرائع نے مزید بتایا کہ پاکستانی اسپنر کی سفری اور رہائشی اخراجات اور ٹیسٹ کی رقم آئی سی سی ادا کرے گی، پی سی بی صرف انھیں ڈیلی الاؤنس دینے کا پابند ہو گا۔ پاکستانی ٹیم کے منیجر معین خان کو دی گئی رپورٹ میں سعید اجمل کی25 سے30 گیندوں پراعتراضات کیے گئے ہیں، خصوصاً جب وہ راؤنڈ دی وکٹ گیند کرتے ہیں تو اس پر شبہ ہوتا ہے، مکمل آستین والی شرٹ پہن کر بولنگ کرنے سے وہ مزید شکوک کی زد میں آتے ہیں، پی سی بی نے ان کے کیس کا مطالعہ کرنے کی ذمہ داری اکیڈمی کوچ محمد اکرم کو سونپی تھی جنھوں نے بغور جائزہ لینے کے بعد رپورٹ پیش کر دی، اس کی روشنی میں بورڈ کو امید ہے کہ سعید اجمل کلیئر ہو جائیں گے۔
برسبین سے آئی سی سی کو ماہرین کی رپورٹ 8 سے 10 روز میں موصول ہوگی، اس کے بعد 24 گھنٹے میں کوئی فیصلہ سامنے آ جائے گا، یہ بھی ممکن ہے کہ اسپنر کو ''دوسرا'' یا کوئی اور مخصوص گیند کرنے سے روک دیا جائے۔ یاد رہے کہ اکتوبر میں 37 ویں سالگرہ منانے والے سعید اجمل اب تک 35 ٹیسٹ میں 178 کھلاڑیوں کو آؤٹ کر چکے ہیں، 110 ون ڈے میچز میں ان کی وکٹیں 182 ہیں۔ اس سے قبل اپریل 2009 میں بھی ''دوسرا'' کرتے ہوئے ان کے بولنگ ایکشن کی رپورٹ ہوئی تھی مگر اگلے ماہ ٹیسٹ میں کلیئر ہو گئے تھے۔ آئی سی سی نے جون میں کرکٹ کمیٹی میٹنگ کے دوران مشکوک ایکشن کے حامل بولرز سے سختی سے نمٹنے کا فیصلہ کیا تھا، سعید سے قبل سری لنکن سچترا سینانائیکے اور کیوی بولر کین ولیمسن کی بھی رپورٹ ہو چکی ہے۔
ان کے ایکشن کی گال ٹیسٹ کے دوران میچ آفیشلز سے رپورٹ کی تھی، انھیں 21 روز میں خود کو کلیئر کرانا ہوگا جبکہ اس دوران بولنگ کی اجازت ہے،پی سی بی کی درخواست پر آئی سی سی تاخیر سے ٹیسٹ کرانے پر آمادہ تھی مگر آسٹریلوی ماہرین کی مصروفیات کے سبب انھیں جلدی بھیجنا پڑ رہا ہے، ٹیسٹ اور سعید اجمل کے سفری و رہائشی اخراجات کونسل ہی برداشت کرے گی، ان کی 25 سے 30 گیندوں پر اعتراضات کیے گئے، خصوصاً جب وہ راؤنڈ دی وکٹ گیند کرتے ہیں تو اس پر شبہ ہوتا ہے، مکمل آستین والی شرٹ پہن کر بولنگ کرنے سے وہ مزید شکوک کی زد میں آتے ہیں، بورڈ نے اکیڈمی کوچ محمد اکرم کو ان کی رپورٹ سونپی جنھوں نے بغور جائزہ لینے کے بعد اسپنر کی کلیئرنس کے حوالے سے اعتماد ظاہر کیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق سعید اجمل کا بولنگ ایکشن سری لنکا سے گال ٹیسٹ کے دوران رپورٹ ہوا،آئی سی سی قوائد کے مطابق انھیں 21 روز میں ٹیسٹ دے کر خود کو کلیئر کرانا ہے، اس دوران انھیں بولنگ کرنے کی بھی اجازت ہو گی، تین ہفتوں کی مہلت 31 اگست کو مکمل ہو رہی ہے، اس دوران پاک سری لنکا ون ڈے سیریز کا بھی اختتام ہو جاتا، پی سی بی کی خواہش تھی کہ اسپنر اس میں حصہ لیتے، کونسل ڈیڈ لائن میں اضافے پر بھی تیار ہے، مگر برسبین کی بائیومیکنکس لیب کے ماہرین ستمبر میں دستیاب نہیں ہوں گے، اسی لیے اب سعید اجمل کو 23 اگست کی شام کولمبو سے برسبین بھیجنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، اسی روز گرین شرٹس پہلے ایک روزہ میچ میں بھی حصہ لیں گے۔
اسپنر کے ایکشن کی جانچ آسٹریلین کیتھولک یونیورسٹی برسبین کیمپس کے بائیو میکنکس لیب میں ہوگی، اسے حال ہی میں آئی سی سی نے ایکریڈیٹیشن سے نوازا ہے، قبل ازیں پرتھ میں ہی ٹیسٹ ہوا کرتے تھے۔ عموماً ٹیسٹ میں ایک دن ہی لگتا ہے اگر سعید اجمل بھی جلد فارغ ہو گئے تو انھیں دوبارہ سری لنکا بھیج دیا جائے گا جہاں27 اور 30 اگست کو بقیہ 2 ون ڈے میچز ہوں گے، تاخیر کی صورت میں وہ آسٹریلیا سے براہ راست وطن واپس آ جائیں گے۔
ذرائع نے مزید بتایا کہ پاکستانی اسپنر کی سفری اور رہائشی اخراجات اور ٹیسٹ کی رقم آئی سی سی ادا کرے گی، پی سی بی صرف انھیں ڈیلی الاؤنس دینے کا پابند ہو گا۔ پاکستانی ٹیم کے منیجر معین خان کو دی گئی رپورٹ میں سعید اجمل کی25 سے30 گیندوں پراعتراضات کیے گئے ہیں، خصوصاً جب وہ راؤنڈ دی وکٹ گیند کرتے ہیں تو اس پر شبہ ہوتا ہے، مکمل آستین والی شرٹ پہن کر بولنگ کرنے سے وہ مزید شکوک کی زد میں آتے ہیں، پی سی بی نے ان کے کیس کا مطالعہ کرنے کی ذمہ داری اکیڈمی کوچ محمد اکرم کو سونپی تھی جنھوں نے بغور جائزہ لینے کے بعد رپورٹ پیش کر دی، اس کی روشنی میں بورڈ کو امید ہے کہ سعید اجمل کلیئر ہو جائیں گے۔
برسبین سے آئی سی سی کو ماہرین کی رپورٹ 8 سے 10 روز میں موصول ہوگی، اس کے بعد 24 گھنٹے میں کوئی فیصلہ سامنے آ جائے گا، یہ بھی ممکن ہے کہ اسپنر کو ''دوسرا'' یا کوئی اور مخصوص گیند کرنے سے روک دیا جائے۔ یاد رہے کہ اکتوبر میں 37 ویں سالگرہ منانے والے سعید اجمل اب تک 35 ٹیسٹ میں 178 کھلاڑیوں کو آؤٹ کر چکے ہیں، 110 ون ڈے میچز میں ان کی وکٹیں 182 ہیں۔ اس سے قبل اپریل 2009 میں بھی ''دوسرا'' کرتے ہوئے ان کے بولنگ ایکشن کی رپورٹ ہوئی تھی مگر اگلے ماہ ٹیسٹ میں کلیئر ہو گئے تھے۔ آئی سی سی نے جون میں کرکٹ کمیٹی میٹنگ کے دوران مشکوک ایکشن کے حامل بولرز سے سختی سے نمٹنے کا فیصلہ کیا تھا، سعید سے قبل سری لنکن سچترا سینانائیکے اور کیوی بولر کین ولیمسن کی بھی رپورٹ ہو چکی ہے۔