بے گناہ شہریوں اور اپوزیشن ارکان کے خلاف منشیات کی جھوٹی برآمدگیاں عام، جسٹس ملک شہزاد

سپریم کورٹ نے اس تنازع کو حل کرنے کے لیے لارجر بینچ تشکیل دیا تھا

اسلام آباد:

سپریم کورٹ کے جسٹس ملک شہزاد احمد خان نے قرار دیا کہ بے گناہ شہریوں، اپوزیشن جماعتوں کے ارکان بااثر افراد، پولیس اہلکاروں سے دشمنی رکھنے والوں کے خلاف منشیات کی جھوٹی برآمدگیاں ہمارے معاشرے میں عام ہے۔

لہٰذا 1997 کے کنٹرول آف نارکوٹکس ایکٹ کے تحت درج مقدمات میں کسی بھی بے گناہ شخص کو ناجائز ملوث کیے جانے کے امکان کو ختم کرنے یا کم سے کم کرنے کیلیے قواعد کی سختی سے تشریح کی جانی چاہیے۔ 

انھوں نے قانون کی دفعہ 36 اور 2001 کے قواعد کے قاعدہ 6 کے تحت فرانزک ماہرین کی رپورٹس کے قابل قبول ہونے سے متعلق متعدد قانونی سوالات کے فیصلے کے سلسلے میں اپنے 14 صفحات پر مشتمل اختلافی نوٹ میں یہ ریمارکس دئیے۔

سپریم کورٹ نے اس تنازع کو حل کرنے کے لیے لارجر بینچ تشکیل دیا تھا جس میں کئی متضاد فیصلے تھے۔ 2015 میں عدالت نے قرار دیا تھا کہ رپورٹ میں مکمل پروٹوکولز کا ذکر کرنا لازمی ہے اور ایسا نہ کرنے کی صورت میں اس کی شہادتی حیثیت متاثر ہو جاتی ہے، تاہم ایک دوسرے مقدمے میں سپریم کورٹ نے اس کے برعکس مؤقف اختیار کیا تھا۔

اب اکثریتی فیصلے میں قرار دیا گیا ہے کہ سرکاری فرانزک ماہرین کو ٹیسٹ کے نتائج کے ساتھ استعمال ٹیسٹ کے مکمل پروٹوکولزکو جمع کرانا لازمی نہیں تھا بلکہ صرف ہدایتی نوعیت کا تھا۔

تاہم جسٹس ملک شہزاد احمد نے اکثریتی رائے سے اختلاف کیا اور کہا کہ پاکستان کے ہر شہری کا یہ آئینی حق ہے کہ آئین کے آرٹیکل 4 اور 10-اے کے تحت اسے منصفانہ ٹرائل کیا موقع فراہم کیا جائے،آئین کے مذکورہ آرٹیکلز سے یہ واضح ہے کہ کسی بھی شخص کی زندگی، آزادی، جسم، شہرت یا جائیداد کے خلاف کوئی خلاف قانون کوئی اقدام نہیں اٹھایا جا سکتا۔

مذکورہ ایکٹ کا بنیادی مقصد منشیات کے استعمال، فروخت، خریداری، نقل و حمل وغیرہ کی روک تھام ہے لیکن اگر کیمیکل ایگزامینر اپنی رپورٹ میں مکمل طریقہ کار (پروٹوکولز) کا ذکر نہ کرے تو اس سے استغاثہ کے مقدمے میں شک پیدا ہوگا، جس کے نتیجے میں ملزم کو اس بنیاد پر بری کیا جا سکتا ہے۔

"اسی طرح، مذکورہ بالا قاعدے کی عدم تعمیل بھی ایک ایسے ملزم کے مقدمے کو متاثر کرے گی جسے ممکن ہے کہ منشیات کے مقدمے میں جھوٹا ملوث کیا گیا ہو۔

اسی طرح، آئین کی دفعات میں یہ بھی فراہم کیا گیا ہے کہ کسی بھی شخص پر عائد فوجداری الزام کی صورت میں اسے منصفانہ ٹرائل اور قانونی تقاضوں (ڈیو پروسیس) کا حق حاصل ہوگا۔

Load Next Story