مشرق وسطیٰ میں امن کی نئی سفارتی صبح
وزیراعظم شہبازشریف نے امریکا اور ایران کے درمیان امن معاہدے کو عالمی امن کے لیے تاریخی سنگ میل قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس تاریخی امن معاہدے پر دستخط کی باضابطہ تقریب ، جمعہ 19 جون کو، جنیوامیں پاکستان کی میزبانی میں منعقد ہوگی، یہ صرف دو ممالک کے درمیان معاہدہ نہیں، بلکہ امن، مکالمے کی طاقت کی فتح اور سفارت کاری کی کامیابی ہے۔
تاریخ کے بعض موڑ ایسے ہوتے ہیں جہاں توپوں کی گھن گرج سے زیادہ اہم وہ سرگوشیاں ثابت ہوتی ہیں جو بند کمروں میں سفارت کاروں، حکمرانوں اور فیصلہ سازوں کے درمیان ہوتی ہیں۔ جنگیں میدانوں میں لڑی جاتی ہیں، لیکن ان کے انجام کا فیصلہ اکثر مذاکرات کی میزوں پر ہوتا ہے۔
ایران اور امریکا کے درمیان امن معاہدہ بھی بظاہر اسی نوعیت کا ایک واقعہ معلوم ہوتا ہے جس نے نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ پوری دنیا کی توجہ اپنی جانب مبذول کر رکھی ہے۔ گزشتہ کئی ماہ سے جاری کشیدگی، عسکری تصادم، اقتصادی بے یقینی اور توانائی کے بحران کے خدشات کے درمیان جب مفاہمت کی خبریں سامنے آئیں تو دنیا نے سکھ کا سانس لیا۔ مالیاتی منڈیوں نے اطمینان کا اظہار کیا، تیل کی قیمتیں نیچے آئیں اور سرمایہ کاروں نے مستقبل کو نسبتاً روشن نگاہ سے دیکھنا شروع کیا۔
معاہدے کے حوالے سے سامنے آنے والی تفصیلات یہ ظاہر کرتی ہیں کہ دونوں فریق مکمل مفاہمت کے بجائے مرحلہ وار اعتماد سازی کی حکمت عملی اختیار کر رہے ہیں۔ امریکا کی جانب سے پابندیوں میں نرمی، منجمد اثاثوں کے اجراء اور اقتصادی رعایتوں کے اشارے دیے جا رہے ہیں جب کہ ایران بھی آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت کے لیے نسبتاً نرم مؤقف اختیار کرتا دکھائی دیتا ہے، لیکن ساتھ ہی تہران یہ واضح کر رہا ہے کہ یہ معاہدہ ماضی کے تنازعات کو فراموش کرنے کا نام نہیں۔ اس دہری کیفیت میں دراصل اس پورے عمل کی پیچیدگی پوشیدہ ہے۔ اعتماد کا فقدان ابھی ختم نہیں ہوا، صرف اس کے باوجود آگے بڑھنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
اس معاہدے کی سب سے بڑی اہمیت آبنائے ہرمز سے وابستہ ہے۔ دنیا کی توانائی کی سیاست میں اس آبی گزرگاہ کی حیثیت ایسی ہے جیسے کسی عظیم الشان عمارت میں مرکزی ستون کی ہوتی ہے۔ خلیجی ممالک سے نکلنے والے تیل اور گیس کا بڑا حصہ اسی راستے سے عالمی منڈیوں تک پہنچتا ہے۔ جب بھی اس راستے کی بندش یا محدودیت کا خطرہ پیدا ہوتا ہے، پوری دنیا کی معیشت لرز اٹھتی ہے۔
تیل کی قیمتوں میں اضافہ صرف پیٹرول پمپوں تک محدود نہیں رہتا بلکہ خوراک، ٹرانسپورٹ، صنعت اور تجارت سمیت ہر شعبے کو متاثر کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ معاہدے کی خبروں کے ساتھ ہی عالمی منڈیوں میں خام تیل کی قیمتوں میں کمی اور حصص بازاروں میں تیزی دیکھی گئی۔ سرمایہ کاروں نے اس امکان کو خوش آئند قرار دیا کہ توانائی کی سپلائی میں تعطل کے خطرات کم ہو سکتے ہیں۔
معاشی اشاریے اکثر سیاست سے زیادہ سچ بولتے ہیں۔ جب سرمایہ کار کسی پیش رفت کا خیرمقدم کرتے ہیں تو اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ وہ مستقبل میں استحکام کی امید دیکھ رہے ہیں۔ امریکی اسٹاک مارکیٹوں میں نمایاں اضافہ، نیسڈیک کی بلند پرواز، ڈاؤ جونز کی نئی سطحیں اور ایشیائی منڈیوں کی تیزی اس امر کی عکاسی کرتی ہیں کہ عالمی سرمایہ اس معاہدے کو ایک مثبت علامت سمجھ رہا ہے، لیکن یہ خوش فہمی نہیں ہونی چاہیے کہ مالیاتی منڈیوں کا ردعمل ہمیشہ سیاسی حقیقتوں کی درست ترجمانی کرتا ہے۔ بازار امید پر چلتے ہیں جب کہ سیاست مفادات پر۔ امید اور مفاد کے درمیان فاصلہ بعض اوقات بہت طویل ثابت ہوتا ہے۔ اس ساری صورتحال میں سب سے زیادہ توجہ اسرائیل کے ردعمل نے حاصل کی ہے۔
اسرائیلی سیاسی قیادت کے مختلف حلقوں سے آنے والے بیانات دراصل ایک گہری بے چینی کی عکاسی کرتے ہیں۔ بعض وزراء اس معاہدے کو اسرائیل اور مغربی دنیا کے لیے نقصان دہ قرار دے رہے ہیں، بعض اسے ایران کے حق میں ایک رعایت سمجھتے ہیں اور بعض کھلے الفاظ میں یہ تاثر دے رہے ہیں کہ واشنگٹن نے تل ابیب کے تحفظات کو مکمل اہمیت نہیں دی۔ اسرائیل کے سیاسی اور سلامتی کے اداروں میں پیدا ہونے والی یہ بے چینی دراصل اس حقیقت سے جڑی ہوئی ہے کہ ایران کو وہ اپنے سب سے بڑے تزویراتی حریف کے طور پر دیکھتا ہے۔
یہاں ایک بنیادی نکتہ سمجھنا ضروری ہے۔ اسرائیل کی سلامتی کی پالیسی کا مرکز ہمیشہ ممکنہ خطرات کا قبل از وقت سدباب رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ ایران کے جوہری پروگرام کو محض ایک تکنیکی مسئلہ نہیں بلکہ اپنے وجود سے جڑا ہوا معاملہ تصور کرتا ہے۔ چنانچہ جب بھی ایران کے ساتھ کسی قسم کی مفاہمت یا مذاکراتی پیش رفت سامنے آتی ہے تو اسرائیل کے اندر شکوک و شبہات پیدا ہو جاتے ہیں۔ حالیہ بیانات اور سیاسی تناؤ اسی ذہنیت کی توسیع ہیں۔ معاہدے کے باوجود لبنان، شام اور غزہ میں اسرائیلی فوجی موجودگی برقرار رکھنے کے اعلانات بھی اسی سوچ کی عکاسی کرتے ہیں کہ زمینی حقائق کو سفارتی بیانات کے تابع نہیں کیا جا سکتا۔ اسرائیل کے اندر ابھرنے والا سیاسی بحران ایک اور حقیقت کو بھی آشکار کرتا ہے۔ طویل جنگوں اور مسلسل محاذ آرائی کے بعد ریاستیں صرف بیرونی دباؤ کا شکار نہیں ہوتیں بلکہ داخلی سطح پر بھی تھکن محسوس کرنے لگتی ہیں۔
اپوزیشن کی تنقید، حکومتی حلقوں میں اختلافات اور سلامتی کے ماہرین کی تشویش اس امر کی نشاندہی کرتی ہے کہ اسرائیلی معاشرہ بھی مسلسل کشیدگی کے بوجھ سے آزاد نہیں۔ یہی کیفیت ایران کے اندر بھی کسی نہ کسی شکل میں موجود ہے، جہاں پابندیوں اور اقتصادی دباؤ نے عوامی زندگی کو متاثر کیا ہے۔ اس تناظر میں دیکھا جائے تو معاہدہ صرف حکومتوں کی ضرورت نہیں بلکہ عوامی خواہشات کا بھی ایک عکس ہے۔اس پورے منظرنامے کا ایک اہم پہلو پاکستان کا کردار بھی ہے۔ پاکستان نے فریقین کے درمیان رابطوں، اعتماد سازی اور مذاکراتی عمل کو آگے بڑھانے میں موثر کردار ادا کیا ہے تو یہ اس کی سفارتی تاریخ کا ایک اہم باب قرار دیا جا سکتا ہے۔ گزشتہ برسوں میں پاکستان کو زیادہ تر معاشی مشکلات، داخلی سیاسی کشمکش اور علاقائی سلامتی کے تناظر میں دیکھا جاتا رہا ہے۔ ایسے میں اگر اسلام آباد ایک بڑے بین الاقوامی تنازع کے حل میں سہولت کار کے طور پر ابھرا ہے تو یہ اس کے لیے ایک نئی سفارتی شناخت کا باعث بن چکا ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے حوالے سے سامنے آنے والی کاوشوں کو بین الاقوامی سطح پر بھی تسلیم کیاگیا ہے ، یہ پاکستان کی خارجہ پالیسی کے لیے ایک اہم اور عظیم کامیابی ہے۔ یہ بھی قابلِ غور ہے کہ اس عمل میں قطر، سعودی عرب، ترکیہ، چین اور دیگر علاقائی و عالمی طاقتوں کا کردار بھی نمایاں بتایا جا رہا ہے۔ اس سے یہ حقیقت مزید مستحکم ہوتی ہے کہ آج کی دنیا یک قطبی نہیں رہی۔ بڑے تنازعات کے حل میں اب متعدد طاقتیں حصہ لیتی ہیں اور سفارت کاری کا دائرہ وسیع ہو چکا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کسی بھی امن عمل کو صرف ایک ملک کی کامیابی قرار دینا حقیقت کا مکمل عکس نہیں ہوگا۔ یہ دراصل اجتماعی سفارتی کوششوں کا نتیجہ ہوتا ہے۔ ایک اور اہم پہلو جو نظر انداز نہیں ہونا چاہیے وہ یہ ہے کہ معاہدے کے باوجود اختلافات اپنی جگہ موجود ہیں۔ ایران کا جوہری پروگرام، اسرائیل کے سلامتی کے خدشات، شام اور لبنان کی صورتحال، غزہ کا بحران اور خطے میں مختلف مسلح گروہوں کی سرگرمیاں وہ عوامل ہیں جو کسی بھی وقت حالات کو دوبارہ پیچیدہ بنا سکتے ہیں۔ اس لیے یہ معاہدہ منزل نہیں بلکہ ایک طویل سفر کا آغاز ہے۔ اصل امتحان اب شروع ہوگا۔لیکن ان پر عمل درآمد مشکل مرحلہ ہوتا ہے۔
دنیا کی جدید تاریخ اس حقیقت کی گواہ ہے کہ جنگیں جیتنے والے ہمیشہ کامیاب نہیں ہوتے اور مذاکرات کرنیوالے ہمیشہ کمزور نہیں ہوتے۔ بعض اوقات ایک مضبوط قوم وہ ہوتی ہے جو اپنے مفادات کا تحفظ کرتے ہوئے تصادم کے بجائے مکالمے کا راستہ اختیار کرے، اگر ایران اور امریکا واقعی اس سمت میں آگے بڑھتے ہیں تو یہ نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ عالمی سیاست کے لیے بھی ایک مثبت مثال بن سکتی ہے۔اس وقت پوری دنیا کی نظریں جنیوا کی جانب لگی ہوئی ہیں۔ وہاں ہونے والی دستخطی تقریب محض ایک سفارتی تقریب نہیں ہوگی، بلکہ ایک ایسے دور کے خاتمے اور ممکنہ طور پر ایک نئے دور کے آغاز کی علامت ہوگی جس نے عالمی معیشت، علاقائی سلامتی اور بین الاقوامی سیاست کو مسلسل بے یقینی میں مبتلا رکھا۔
تاہم امید اور حقیقت کے درمیان فاصلہ ہمیشہ موجود رہتا ہے۔ امن کا سورج طلوع ہونے کی نوید ضرور سنائی دے رہی ہے، مگر اس کی روشنی کو پائیدار بنانے کے لیے دانش، صبر، سیاسی عزم اور باہمی اعتماد کی ضرورت ہوگی۔فی الحال دنیا اس لمحے کو ایک محتاط امید کے ساتھ دیکھ رہی ہے۔ اگر یہ امید حقیقت میں بدل گئی تو آنے والی نسلیں اسے اس دور کے ایک اہم موڑ کے طور پر یاد رکھیں گی، ایک ایسا موڑ جہاں بندوق کی آواز پہلی مرتبہ مکالمے کی آواز سے دبتی ہوئی محسوس ہوئی، جہاں مفادات کے تصادم کے باوجود سمجھوتے کا راستہ نکلا اور جہاں ایک بار پھر یہ ثابت ہوا کہ تاریخ کی طویل ترین راتوں کے بعد بھی امن کی صبح طلوع ہو سکتی ہے۔