معاہدے پر دستخط کے بعد آبنائے ہرمز سے 12.5 ملین بیرل تیل کی ترسیل ہوئی؛ امریکی نائب صدر
آبنائے ہرمز سے تیل و گیس کی محفوظ ترسیل جاری ہے؛ جے ڈی وینس
امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے ایران کے ساتھ مفاہمتی یادداشت پر دستخط کے بعد پہلی پریس کانفرنس میں اہم نکات اُٹھائے ہیں جس کا براہ راست تعلق مشرق وسطیٰ کی پیچیدہ صورت حال سے ہے۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے بتایا کہ مفاہمتی یادداشت پر دستخط کے بعد آبنائے ہرمز سے 12.5 ملین بیرل تیل گزرا ہے اور ایران نے کسی جہاز پر فائرنگ نہیں کی۔
انھوں نے مزید کہا کہ امریکی بحریہ نے بھی ایرانی بحریہ کی ناکہ بندی کے باوجود ایک درجن کے قریب تجارتی بحری جہازوں کو گزرنے کی اجازت دی ہے۔ جس سے اس معاہدے کی افادیت کا پتا چلتا ہے۔
نائب صدر جے ڈی وینس نے واضح کیا کہ ایران کے لیے 300 ارب ڈالر کے مبینہ تعمیراتی فنڈ سے متعلق غلط فہمیاں پھیلائی جا رہی ہیں۔ امریکا ایران کو ایک پیسہ بھی نہیں دے گا اور ایران کو یہ فوائد صرف اس صورت میں ملیں گے جب وہ اپنے رویے میں واضع تبدیلی لائے گا۔
امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کا مزید کہنا تھا کہ ایران کی معیشت شدید مہنگائی کے باعث زوال کا شکار ہے۔ تیل کی معمولی فروخت سے ان کی معیشت نہیں بدلے گی۔ اگر ایران نے تعاون نہ کیا تو امریکا تمام پابندیاں دوبارہ نافذ کر سکتا ہے۔
انھوں نے کہا کہ جوہری انفرااسٹریکچر کی تباہی کے بعد اب ایران کو دوبارہ ایٹمی ہتھیار بنانے کے لیے بھاری فنڈز کی ضرورت ہوگی اور امریکا اس وقت تک امریکا کو معاشی گرفت سے آزاد نہیں کرے گا جب تک وہ افزودہ یورینیم کا ذخیرہ ختم نہیں کرتا اور سخت ترین تفتیشی نظام کو قبول نہیں کرتا۔
امریکی صدر جے ڈی وینس نے زور دیا کہ عالمی آبی گزرگاہوں پر کوئی ٹول ٹیکس نہیں ہونا چاہیے اور اسے عالمی معیشت کے لیے خطرہ نہیں بننے دیا جائے گا۔ خلیجی ممالک مستقبل میں اس کے تحفظ کا فریم ورک خود تیار کریں گے۔
جے ڈی وینس نے اسرائیلی کابینہ کی جانب سے معاہدے پر تنقید کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل کو حقیقت پسندی کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔ اس وقت دنیا میں ڈونلڈ ٹرمپ ہی اسرائیل کے واحد ہمدرد سربراہِ مملکت ہیں۔
صدر ٹرمپ کی جانب سے بیروت میں حالیہ بمباری پر تنقید کا حوالہ دیتے ہوئے جے ڈی وینس نے کہا کہ اسرائیل کو بھی دیگر ممالک کی طرح امن عمل کا احترام کرنا ہوگا۔ سویلین علاقوں میں دھماکے ناقابلِ قبول ہیں۔ خطے میں ایسا فریم ورک چاہتا ہے جس سے حزب اللہ کی فنڈنگ بند ہو اور اسرائیل پر حملے رکیں۔
امریکی نائب صدر نائب صدر نے تصدیق کی کہ امریکی وفد تکنیکی مذاکرات کے لیے رواں ہفتے کے آخر میں سوئٹزرلینڈ جائے گا۔ اگرچہ باقاعدہ دستخطی تقریب منسوخ کر دی گئی ہے کیونکہ معاہدے پر پہلے ہی آن لائن دستخط ہو چکے ہیں تاہم تفصیلی بات چیت کے لیے وفود کی ملاقات اب بھی متوقع ہے۔