پنجاب پولیس، سی سی ڈی نے چکوال میں بچی پر فائرنگ کی ‘غلطی' تسلیم کرلی
فوٹو: اسکرین گریب
پنجاب پولیس اور کرائم کنٹرول ڈپارٹمنٹ (سی سی ڈی) نے چکوال میں رواں ماہ کے شروع میں فائرنگ سے بچی کے جان بحق ہونے غلطی تسلیم کرتے ہوئے یقین دلایا ہے کہ واقعے کے ذمہ دار کسی بھی اہلکار کی غیر قانونی اور اختیارات کو تحفظ نہیں دیں گے۔
سانحہ چکوال پر آئی جی پنجاب عبدالکریم اور سی سی ڈی کے سربراہ سہیل ظفر چٹھہ نے پریس کانفرنس کی اور آئی جی پنجاب نے کہا کہ چکوال میں انتہائی افسوس ناک واقعہ پیش آیا، ایک بچی شہید ہوئی، بھائی اور والد زخمی ہوئے، اس واقعے کو الفاظ میں بیان نہیں کیا جاسکتا اور پوری فیملی سے اظہار تعزیت کرتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ یہ واقعہ کسی دباؤ میں آکر مشکلات کے پیچھے نہیں چھپایا جاسکتا، اس واقعے کی فوجداری کے تحت کارروائی کی گئی، ذمہ دار اہلکار کو حراست میں لے کر تفتیش جاری ہے اور اس کیس کی تفتیش شفافیت سے کی جا رہی ہے، کسی اہلکار کے غیر قانونی اور اختیارات کو تحفظ نہیں دیں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ یہ صرف ایک افسوس ناک واقعہ نہیں تھا ایک بچی کی زندگی تھی، ڈی جی خان میں دہشت گردوں کے حملے میں دو جوان شہید ہوئے، ایک جوان کے بزرگ والد اور دوسرے کے چھوٹے بچوں سے ملا، اس حملے کے باوجود پولیس جوان وہاں ہی ڈیوٹی کررہے ہیں۔
آئی جی پنجاب نے کہا کہ پولیس نے اپنی جگہ نہیں چھوڑی، اپنی ذمہ داریاں نبھا رہی ہے، کچھ عرصے میں سی سی ڈی کے دو اہلکار بھی شہید ہوئے، دونوں جوان مقابلہ کرتے ہوئے شہید ہوئے۔
ایڈیشنل آئی جی سی سی ڈی سہیل ظفر چٹھہ نے بتایا کہ بچی کے والد کی مدعیت میں فوری مقدمہ درج کیاگیا ہے، جیسی درخواست ملی تھی اسی کے مطابق ایف آئی آر درج کی گئی۔
انہوں نے کہا کہ واقعے کی حساسیت کے مطابق متن تبدیل نہیں کیا جاسکتا تھا، اسلحہ اسی اہلکار کے نام سے جاری ہوا، اس لیے وہ بچ نہیں سکتا۔
ان کا کہنا تھا کہ حسن اتفاق ہے کہ واردات کے وقت ایک افسر وہاں سے گزر رہا تھا، ہانیہ کے والدین کو لوٹا جا رہا تھا، پولیس اہلکار نے ڈاکووں کا مقابلہ کیا اور کراس فائرنگ کے نتیجے میں اہلکار کو غلط فہمی ہوئی۔