سرکاری و نجی ملازمین کے لیے متوازن نظام کی ضرورت
پاکستان میں معاشی دباؤ، مہنگائی میں مسلسل اضافہ اور محدود سماجی تحفظ کے نظام نے تنخواہ دار طبقے کو شدید مشکلات سے دوچار کر رکھا ہے۔ اس طبقے میں سرکاری اور نجی دونوں شعبوں کے ملازمین شامل ہیں، جو اپنی ماہانہ آمدنی کا بڑا حصہ انکم ٹیکس، دیگر کٹوتیوں اور بالواسطہ ٹیکسوں کی صورت میں ریاست کو ادا کرتے ہیں۔ تاہم جب ریٹائرمنٹ کے بعد تحفظ اور مالی سہولتوں کی بات آتی ہے تو دونوں شعبوں کے درمیان واضح فرق سامنے آتا ہے، جو پالیسی سطح پر نظرِ ثانی کا متقاضی ہے۔
یہ ایک تسلیم شدہ حقیقت ہے کہ سرکاری ملازمین کو ریٹائرمنٹ کے بعد پنشن، گریجویٹی اور بعض صورتوں میں فیملی پنشن جیسے مستقل مالی تحفظ حاصل ہوتے ہیں، جو بڑھاپے میں ایک مضبوط سہارا فراہم کرتے ہیں۔ اس کے برعکس نجی شعبے کے ملازمین کی بڑی تعداد محدود پروویڈنٹ فنڈ یا کمپنی کی انفرادی پالیسیوں پر انحصار کرتی ہے، جن میں تسلسل اور یکسانیت کا فقدان پایا جاتا ہے۔
یہ صورتحال اس بنیادی سوال کو جنم دیتی ہے کہ اگر دونوں شعبوں کے ملازمین ریاستی نظام کا حصہ ہوتے ہوئے ٹیکس ادا کر رہے ہیں تو پھر ریٹائرمنٹ کے بعد تحفظ کے نظام میں یہ فرق کس حد تک قابلِ قبول ہے؟
موجودہ ٹیکس ڈھانچہ اور بنیادی عدم توازن
پاکستان کا ٹیکس نظام عمومی طور پر آمدنی کی بنیاد پر ترتیب دیا گیا ہے، جس میں تنخواہ دار طبقہ نسبتاً زیادہ شفاف طریقے سے ٹیکس ادا کرتا ہے۔ تاہم یہ نظام اس حقیقت کو نظر انداز کرتا ہے کہ ہر تنخواہ دار طبقہ یکساں سماجی تحفظ سے مستفید نہیں ہوتا۔
سرکاری ملازمین کو حاصل ریٹائرمنٹ فوائد ایک طویل المدتی ریاستی ذمہ داری کا حصہ ہیں، جبکہ نجی شعبے میں یہ ذمہ داری زیادہ تر اداروں اور انفرادی معاہدوں تک محدود رہتی ہے۔ نتیجتاً ایک طبقہ ریٹائرمنٹ کے بعد مستقل آمدنی کا حامل ہوتا ہے، جبکہ دوسرا طبقہ غیر یقینی مالی صورتحال سے دوچار رہتا ہے۔
یہی وہ فرق ہے جو موجودہ پالیسی ڈھانچے پر سوال اٹھاتا ہے اور ایک زیادہ متوازن ٹیکس و سماجی تحفظ ماڈل کی ضرورت کو اجاگر کرتا ہے۔
پالیسی اصلاح کی سمت: ایک منصفانہ فریم ورک
اصل ضرورت اس بات کی ہے کہ حکومت پاکستان اور صوبائی حکومتیں ٹیکس پالیسی اور ریٹائرمنٹ تحفظ کو ایک مربوط نظام کے طور پر دیکھیں، نہ کہ علیحدہ علیحدہ شعبوں کے طور پر۔اور مندرجہ ذیل اقدامات کو یقینی بنایا جائے۔
1۔ ٹیکس اسٹرکچر میں شعبہ جاتی حساسیت
یہ وقت کی ضرورت ہے کہ انکم ٹیکس پالیسی کو صرف آمدنی کی سطح پر نہیں بلکہ ملازمت کے شعبے کی نوعیت کو بھی مدنظر رکھتے ہوئے بہتر بنایا جائے۔ سرکاری اور نجی شعبے کے درمیان موجود ریٹائرمنٹ تحفظ کے فرق کو پالیسی سازی میں شامل کرنا ایک منطقی قدم ہوگا، تاکہ ٹیکس بوجھ اور فوائد کے درمیان توازن قائم کیا جا سکے۔
2۔ نجی شعبے کے لیے منظم ریٹائرمنٹ سسٹم
نجی شعبے کے ملازمین کے لیے ایک واضح، مضبوط اور قانونی طور پر نافذ العمل ریٹائرمنٹ سسٹم ناگزیر ہے۔ اس میں لازمی پنشن کنٹریبیوشن، پروویڈنٹ فنڈ میں بہتری اور ریاستی سطح پر نگرانی کا نظام شامل ہونا چاہیے تاکہ ہر ملازم کو بڑھاپے میں مالی تحفظ حاصل ہو سکے۔
3۔ سرکاری پنشن نظام میں اصلاح
سرکاری پنشن نظام کو بھی جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کی ضرورت ہے۔ غیر کنٹریبیوٹری ماڈل کے بجائے بتدریج ایسے نظام کی طرف جانا چاہیے جس میں ریاست، آجر اور ملازم مشترکہ طور پر ریٹائرمنٹ فنڈ میں حصہ ڈالیں، تاکہ نظام زیادہ پائیدار اور مالی طور پر متوازن ہو۔
4۔ یکساں سماجی تحفظ کی سمت پیش رفت
ریاست کی ذمے داری ہے کہ وہ تمام شہریوں کے لیے ایک بنیادی سماجی تحفظ کا ڈھانچہ قائم کرے، جس میں ریٹائرمنٹ کے بعد کم از کم مالی استحکام ہر فرد کو حاصل ہو۔ اس مقصد کے لیے قانون سازی کے ساتھ ساتھ عملی اقدامات بھی ضروری ہیں، تاکہ قوانین محض کاغذی حیثیت تک محدود نہ رہیں۔
5۔ ٹیکس ریلیف کا منصفانہ اور ہدفی نظام
ٹیکس پالیسی میں ریلیف اگر دیا جائے تو وہ شعبہ جاتی بنیادوں کے بجائے آمدنی اور ضرورت کی بنیاد پر ہونا چاہیے۔ اس سے نہ صرف ٹیکس نظام منصفانہ ہوگا بلکہ ریاستی آمدنی بھی متاثر نہیں ہوگی۔
عملی اقدامات کی ضرورت
پاکستان میں مسئلہ صرف قوانین کی کمی نہیں بلکہ ان کے مؤثر نفاذ کا بھی ہے۔ اگر نجی شعبے کے لیے ریٹائرمنٹ تحفظ کے قوانین بنائے جائیں تو ان پر عمل درآمد کے لیے مضبوط ادارہ جاتی ڈھانچہ بھی ضروری ہے۔ اسی طرح سرکاری شعبے میں پنشن اصلاحات کو بھی مرحلہ وار نافذ کرنا ہوگا تاکہ کسی طبقے پر اچانک بوجھ نہ پڑے۔
ریاست اگر واقعی انصاف کے اصول کو عملی شکل دینا چاہتی ہے تو اسے ایک ایسا نظام تشکیل دینا ہوگا جس میں:
• ہر ملازم کو ریٹائرمنٹ کے بعد بنیادی مالی تحفظ حاصل ہو
• ٹیکس نظام تمام شعبوں کے درمیان توازن قائم کرے
• اور سماجی تحفظ کسی ایک طبقے تک محدود نہ رہے
لہٰذا، انکم ٹیکس پالیسی اور ریٹائرمنٹ تحفظ کا مسئلہ محض مالی نہیں بلکہ ایک گہرا سماجی اور پالیسیاتی مسئلہ ہے۔ پاکستان کو ایسے نظام کی ضرورت ہے جو سرکاری اور نجی دونوں شعبوں کے ملازمین کے درمیان موجود خلیج کو کم کرے، اور ایک ایسا متوازن ڈھانچہ تشکیل دے جس میں ٹیکس بوجھ اور سماجی فوائد کے درمیان حقیقی انصاف قائم ہو۔
حکومت اگر اس سمت میں سنجیدہ اصلاحات کرتی ہے تو نہ صرف ٹیکس نظام مضبوط ہوگا بلکہ لاکھوں نجی ملازمین کو بھی وہی مالی تحفظ حاصل ہوگا جو طویل عرصے سے صرف ایک محدود طبقے کو میسر ہے۔ یہی وہ راستہ ہے جو ایک منصفانہ، پائیدار اور جدید فلاحی ریاست کی بنیاد رکھ سکتا ہے۔
ہماری اربابِ بست و کشاد سے استدعا ہے کہ حالیہ مرکزی و صوبائی بجٹ جو کہ ابھی منظوری کے مراحل میں ہیں ان میں اس اہم مسئلے پر خصوصی توجہ دیتے ہوئے اس کے لیے کوئی مثبت اقدامات طے کیے جائیں اور مستقبل میں مستقل بنیادوں پر اس مسئلے پر پالیسی و قوانین سازی کی جائے اور پاکستان کو واقعتاً ایک اسلامی فلاحی ریاست بنانے کی طرف پیش رفت کی جائے۔
نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔
اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 800 سے 1,200 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ blog@express.com.pk پر ای میل کردیجیے۔