جوش و خروش اور ثالثی کی حدود
گزشتہ تقریباً سو دنوں میں ایک بات واضح ہو کر سامنے آئی کہ میڈیا کا بڑا حصہ قبل از وقت جوش و خروش کا شکار تھا۔ امریکا اور ایران کے درمیان تنازع کے خاتمے میں پاکستان کے فیصلہ کن کردار کے بارے میں جو تاثر پیدا کیا گیا، وہ شاید زمینی حقائق سے کہیں آگے نکل گیا تھا۔
8 اپریل کو جنگ بندی نافذ ہونے اور بعد ازاں مختلف مواقع پر اس میں توسیع کے بعد بہت سے سینئر ماہرین اور تجزیہ کاروں کو امید تھی کہ پاکستان فریقین کو ایک جامع معاہدے کی طرف لے جانے میں مدد دے گا اور یوں تہران اور واشنگٹن کے درمیان تقریباً پانچ دہائیوں سے جاری بداعتمادی اور مخاصمت کے ایک باب کا خاتمہ ممکن ہو سکے گا۔
امریکی صدر کی جانب سے وزیر اعظم شہباز شریف اور چیف آف ڈیفنس اسٹاف فیلڈ مارشل عاصم منیر کی کشیدگی کم کرنے کی کوششوں کو سراہنے سے اس تاثر کو مزید تقویت ملی۔ یوں محسوس ہونے لگا کہ اسلام آباد اختلافات کم کرنے میں نمایاں پیش رفت کر رہا ہے اور شاید دونوں دیرینہ حریفوں کو کسی معاہدے تک پہنچانے میں کامیاب ہو جائے گا۔
بلاشبہ پاکستان کی کوششیں مخلصانہ تھیں۔ بین الاقوامی برادری نے ہر اس اقدام کا خیر مقدم کیا جو اس تنازع کو ایک وسیع تر علاقائی جنگ میں تبدیل ہونے سے روک سکتا تھا۔ پاکستان کے لیے، جس کے معاشی اور سلامتی کے مفادات خطے کے استحکام سے جڑے ہوئے ہیں، امن محض ایک سفارتی ہدف نہیں بلکہ ایک ناگزیر ضرورت بھی تھا۔
تاہم بعد کے واقعات نے یہ حقیقت آشکار کر دی کہ جب بنیادی تنازع دہائیوں پر محیط بداعتمادی میں جڑا ہو تو سفارت کاری کی بھی اپنی حدود ہوتی ہیں۔حقیقت یہ ہے کہ شاید پاکستان کی کامیابیوں کے بارے میں جوش و خروش پایا جاتا تھا۔
سفارت کاری راستے کھول سکتی ہے۔ مکالمے کی راہ ہموار کر سکتی ہے۔ کشیدگی کم کرنے میں مدد دے سکتی ہے، لیکن چند ملاقاتوں اور ٹیلی فون کالز کے ذریعے سینتالیس برس کی تلخیاں اور شکوے دور نہیں کیے جا سکتے۔
تنازع کے عروج کے دوران حقیقی خدشہ موجود تھا کہ خطہ ایک طویل محاذ آرائی کی طرف بڑھ رہا ہے۔ توانائی کی منڈیاں بے یقینی کا شکار تھیں۔ علاقائی حکومتیں تشویش میں مبتلا تھیں۔ اندیشہ تھا کہ کوئی بھی غلط اندازہ کئی ممالک کو ایسے تنازع میں دھکیل سکتا ہے جس کے اثرات مشرق وسطیٰ سے بہت آگے تک محسوس کیے جاتے۔
ایسے ماحول میں پاکستان کا کردار اہم تھا۔ اسلام آباد نے تمام متعلقہ فریقوں سے رابطے برقرار رکھے اور مسلسل تحمل اور ضبط کی وکالت کی۔ اس کردار کو ہرگز کم تر نہیں سمجھنا چاہیے،البتہ جس چیز پر سوال اٹھایا جانا چاہیے وہ سفارتی سرگرمی کو عملی نتائج سامنے آنے سے پہلے ہی سفارتی کامیابی قرار دینے کا رجحان ہے۔
حد سے زیادہ امید پسندی کا مسئلہ یہ ہے کہ اس کے نتیجے میں اکثر حد سے زیادہ مایوسی جنم لیتی ہے۔ جنگ بندی کو امن معاہدہ سمجھ لیا جاتا ہے۔ ایک سفارتی اشارے کو بڑی پیش رفت قرار دے دیا جاتا ہے۔ معمول کی سفارتی سرگرمی کو تزویراتی صف بندی میں تبدیلی کے طور پر پیش کیا جاتا ہے اور جب حقیقت سامنے آتی ہے تو وہی لوگ جو کل کامیابی کے گیت گا رہے تھے، سوالات اٹھانے لگتے ہیں ۔حقیقت میں دونوں اندازے مکمل طور پر درست نہیں۔
دونوں فریقوں نے کشیدگی کم کرنے کی پاکستان کی کوششوں کو سراہا۔حقیقت ان دونوں انتہاؤں کے درمیان کہیں موجود ہے۔پاکستان نے ایک نازک موقع پر سفارتی گنجائش پیدا کرنے میں مدد دی۔ اس نے کشیدگی میں کمی کے لیے کردار ادا کیا۔ اس نے ایک وسیع تر جنگ کو روکنے کی کوششوں کی حمایت کی۔
یہ اپنی جگہ اہم کامیابیاں ہیں،لیکن بڑا تنازع اب بھی اپنی جگہ موجود ہے کیونکہ امریکا اور ایران کے درمیان اختلافات کی بنیادی وجوہات اب بھی موجود ہیں۔واشنگٹن اور تہران آج بھی ایک دوسرے کو کئی دہائیوں پر محیط محاذ آرائی کے تناظر میں دیکھتے ہیں۔
اسٹرٹیجک مفادات اب بھی متصادم ہیں۔ علاقائی ترجیحات اب بھی مختلف ہیں۔ باہمی بداعتمادی بدستور گہری ہے۔ ان مسائل کا حل راتوں رات ممکن نہیں۔
عام عوام اکثر ایسے میدان میں ڈرامائی کامیابیوں کے متلاشی ہوتے ہیں جہاں پیش رفت عموماً بتدریج ہوتی ہے۔ سفارت کاری شاذ و نادر ہی فوری نتائج دیتی ہے۔ یہ اکثر ایک سست اور صبر آزما عمل ہوتا ہے جس کے ثمرات کئی برس بعد نمایاں ہوتے ہیں۔
پاکستان کو جہاں بھی موقع ملے تعمیری کردار ادا کرتے رہنا چاہیے۔ اس کا محل وقوع، اس کے تعلقات اور اس کی ساکھ اسے علاقائی استحکام میں مثبت کردار ادا کرنے کی صلاحیت فراہم کرتے ہیں۔ تاہم توقعات کو حقیقت پسندانہ حدود میں رکھنا بھی ضروری ہے۔
فی الحال جنگ بندی ایک ایسی پیش رفت ہے جسے تسلیم کیا جانا چاہیے۔ لیکن یہ محض ایک وقفہ ہے، کوئی حتمی تصفیہ نہیں۔ تنازع کی شدت شاید کم ہوئی ہو، مگر اس کی بنیاد بننے والی بداعتمادی اب بھی موجود ہے۔
میڈیا کا جوش و خروش شاید قابل فہم تھا، لیکن واقعات نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ جنگ کا خاتمہ اور تنازع کا خاتمہ دو مختلف چیزیں ہیں۔ پاکستان پہلی چیز میں مددگار ثابت ہوا ہے، لیکن دوسری منزل ابھی بہت دور ہے۔
اور جب میں یہ کالم مکمل کر رہا ہوں تو اطلاعات موصول ہو رہی ہیں کہ امریکا نے ایک بار پھر ایران پر حملے شروع کر دیے ہیں۔ جواز یہ پیش کیا جا رہا ہے کہ تہران نے مبینہ طور پر ایک اپاچی ہیلی کاپٹر مار گرایا ہے۔
ایران نے نہ تو اس دعوے کی تصدیق کی ہے اور نہ ہی، حیران کن طور پر، اسے دوٹوک انداز میں مسترد کیا ہے۔اگر کچھ ثابت ہوتا ہے تو وہ یہی کہ امن کی کوششوں کے بارے میں حد سے زیادہ امید پسندی اکثر قبل از وقت ثابت ہوتی ہے۔
ایک تجزیہ نگار نے ایک اہم نکتہ اٹھایا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ امریکی صدور کی امن کی باتوں پر ضرورت سے زیادہ اعتماد کرنے والے اکثر ایک بنیادی حقیقت کو نظر انداز کر دیتے ہیں۔پینٹاگون کبھی صرف جیتنے یا ہارنے کے لیے جنگ نہیں لڑتا۔ وہ اپنے اسٹرٹیجک مقاصد کے حصول کے لیے جنگ کرتا ہے۔
اگر تاریخ کو پیمانہ بنایا جائے تو افغانستان اس کی ایک واضح مثال ہے۔امریکا نے دو دہائیوں تک ایک جنگ لڑی جو روایتی معنوں میں فتح پر ختم نہیں ہوئی، لیکن واشنگٹن نے اپنے اسٹرٹیجک مقاصد کا تعاقب جاری رکھا، حالات کے مطابق اپنی ترجیحات تبدیل کیں اور بالآخر آگے بڑھ گیا۔