مختصر مختصر
امریکا اسرائیل کی مسلط کردہ جنگ کے منفی اثرات نے دنیا بھر کی معیشتوں پر برا اثر ڈالا ہے۔ ایران اپنے محدود وسائل کو استعمال کرتے ہوئے میدان جنگ میںڈٹ گیا، یوں امریکا کو ایران کیساتھ معاہدہ امن کرنا پڑا، اس سارے معاملے میں پاکستان کا کردار شاندار رہا۔
وزیراعظم شہباز شریف اور ہمارے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے اس موقع پر امن کے قیام کے لیے بہت مثبت کردار ادا کیا ہے۔ گو سفارتی محاذ پر حکومت پاکستان نے ایک مثبت کردار ادا کیا ہے لیکن بد قسمتی سے معاشی محاذ میں حکومت ناکام ہوئی ہے۔
پٹرول کے بڑھتے ہوئے نرخ اور مہنگائی نے عوام کی کمر توڑ دی مگر اب حکومت نے پٹرول کی قیمت میں 74روپے کی کمی کی ہے مگر مہنگائی کم نہیں ہوئی۔ حکومت کی معاشی پالیسیوں کی بدولت عوام کا کوئی پرسان حال نہیں ہے۔
سابقہ حکومتوں کی طرح موجودہ حکومت بھی کچھ ڈلیور کرنے میں ناکام ثابت ہوئی ہے۔ عوام کے پاس پینے کا صاف پانی تک نہیں، بے روزگاری کا گراف بلند سطح پر ہے، مہنگائی نے عوام الناس کی کمر توڑ کر رکھ دی ہے مانا کہ جنگ کے اثرات تمام دنیا پر مرتب ہوئے ہیں مگر پاکستان پر اس جنگ کی وجہ سے بہت زیادہ منفی اثرات مرتب ہوئے ہیں۔
عوام کو بنیادی معاشی حقوق حاصل نہیں ہیں۔ صحت کی بنیادی سہولیات سے لے کر تعلیم تک عوام کی رسائی آج ناممکن ہے۔ ہمارے سیاسی اکابرین نے یہ سوچ کر پاکستان کی بنیاد نہیں رکھی تھی جو آج کا پاکستان ہے۔
پاکستان کا ہر شخص مقروض اور مایوسی کا شکار ہے۔ عوام حکمرانوں سے یہ سوال کرتے ہیں کہ ان کا کیا قصور ہے؟ ان کو کس بات کی سزا دی جا رہی ہے؟ وفاقی حکومت ہو یا پھر صوبائی حکومتیں،کسی بھی حکومت نے عوام کو کچھ ڈلیور نہیں کیا۔ اگر ہم اقوام عالم پر نظر دوڑائیں تو امریکی سامراج اور اسرائیل نے مل کر دنیا کا بیڑا غرق کر دیا ہے۔
اس موقع پر چین اور روس کو مل کر ان کو لگام دینی چاہیے، اگر امریکا اور اسرائیل کو فوری طور پر نہ روکا گیا تو یہ اقوام عالم کا امن برباد کر دیں گے، جس سے تمام ممالک متاثر ہوں گے۔
امریکی سامراج کا جب دل کرتا ہے وہ کسی بھی ملک پر حملہ کر کے وہاں کا نظام درہم برھم کر دیتا ہے۔ دنیا کو اب یہ سوچنا ہوگا کہ امریکی سامراج سے کس طرح نجات حاصل کی جائے۔ پاکستان کی سفارتی کوششیں بہت شاندار ہیں، اس موقع پر کھل کر ایک کسی ایک فریق کا ساتھ دینا ہمارے لیے مناسب نہیں لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ ہم امریکی سامراج کو کھلی آزادی دے دیں کہ وہ جب چاہے کسی ملک پر حملہ کر دے۔
چونکہ کالم کا عنوان مختصر مختصر ہے۔ اس میں کراچی کا تذکرہ بھی شامل کرنا لازمی ہے۔ کراچی کے حالات دیکھ کر دل خون کے آنسو روتا ہے،وفاق کہتا ہے کہ کراچی کے حالات صوبائی حکومت کی وجہ سے ایسے ہیں اور صوبائی حکومت وفاق پر الزام لگاتی ہے۔
کراچی پاکستان کا وہ واحد شہر ہے جہاں پر مافیازکا راج ہے، یہاں پر آپ کو ٹینکر مافیا، بھتہ مافیا اور لینڈ مافیا والے ملیں گے۔ کراچی کی سڑکوں کا حال تو ایسا ہے جیسے کہ یہاں پر کسی نے بمباری کی ہو، نلکوں میں پانی نہیں آتا،لیکن ٹینکروں میں پانی ہر وقت دستیاب ہے۔
لوڈ شیڈنگ کا بھی یہاں پر برا حال ہے، کئی کئی گھنٹے علاقوں میں بجلی غائب رہتی ہے، کچھ ہمارے معصوم سیاستدان کراچی کا پیرس سے تقابل کراتے ہیں اگر پورے سندھ کا جائزہ لیا جائے تو تقریبا پورے صوبے میں عوام کا برا حال ہے اور اگر صوبائی حکومت کی پالیسیوں پر کوئی تنقید کر دے تو ہمارے معزز سیاستدان برا مان جاتے ہیں۔
کچھ ذکر پنجاب کا بھی اس موقع پر ہونا چاہیے،پنجاب میں یہ نظر بھی آتا ہے کہ وہاں کی سڑکیں بہت اچھی ہیں اور اورنج ٹرین کے منصوبے وہاں بہت مقبول ہیں اگر خالی سڑکیں بہترین ہونے سے نظام زندگی اچھا نہیں ہوتا، مہنگائی بے روزگاری صحت کی سہولیات کی عدم دستیابی پنجاب میں بھی ہے اور کرپشن کا بازار وہاں پر بھی گرم ہے۔
عوام موجودہ حکومت سے یہ درخواست کرتے ہیں کہ انھیںآپ پیرس، لندن، نیویارک جیسی سہولیات نہ دیں مگر کم از کم ان کے بنیادی حقوق، صحت،تعلیم روزگار، انصاف تو دیں جو ان کا بنیادی حق ہے۔ بات صوبوں سے نکلی ہے تو خیبر پختون خوا کا ذکر بھی ہونا چاہیے۔
اس صوبے میں بھی ایک طویل عرصے سے پی ٹی آئی کی حکومت ہے مگر بدقسمتی سے پی ٹی آئی کے لوگوں نے بھی عوام کو کچھ ڈلیور نہیں کیا، یہاں پر بھی بے روزگاری عروج پر ہے اور مہنگائی کا عالم بلند ہے ۔
اب عوام جائیں تو کہاں جائیں اور کس سے شکایت کریں؟ جتنا قصور سیاست دانوں کا ہے، میرے نزدیک اتنا ہی قصور عوام کا ہے۔ جب قوم کو اس بات کا علم ہے کہ سیاست دان کچھ ڈلیور کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہے تو وہ ان کو کیوں منتخب کر وا کر ایوان اقتدار میں لاتے ہیں۔
قرآن پاک میں یہ بات اللہ تعالی نے واضح کی ہے کہ جس قوم کو اپنے حالات بدلنے کا احساس نہ ہو، ایسی قوم کے حالات بدلے نہیں جاتے۔ لہٰذا ضرورت اس بات کی ہے کہ عوام اپنے اندر تبدیلی لائیں اور اپنے اندر سے نمایندوں کو منتخب کر کے اقتدار میں لائیں،جب تک حقیقی عوامی نمایندے ایوان اقتدار میں نہیں آئیں گے۔
عوام کے مسائل کا حل نہیں ہوگا، اب عوام پر یہ ذمے داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اپنے حقیقی نمایندوں کو منتخب کر کے اقتدار میں لائیں، ورنہ انھی فرسودہ جاگیردار وں،وڈیروں اور اشرفیہ کو منتخب کرکے اپنے اوپر ظلم، اپنے ہاتھوں سے ڈھائیں، اللہ پاک پاکستان کی حفاظت فرمائے۔ (آمین)