بحری قزاقوں کی کہانی
صومالی قزاق، نام ہے ایک دہشت کی علامت کا جو سمندری حدود میں بھوکے بھیڑیوں کی مانند اپنا شکار ڈھونڈتے ہیں۔ابھی کچھ عرصہ پہلے ہی پاکستان کے کچھ بدحال لوگ ان کی قید میں ہیں۔
ان کے لیے کوششیں بھی کی گئی تھیں لیکن چند روز قبل پھر ایک خبر جو اس پرانی خبر کے ساتھ نتھی تھی، ایک نوجوان اپنے گھر والوں کو خوفزدگی کے عالم میں اطلاع دیتا ہے کہ اسے بحری قزاقوں نے پکڑ لیا ہے، اب ان جیسے اور بھی پاکستانی بھائیوں کی قید کو پچاس روز مکمل ہو چکے ہیں ،گویا ڈیڑھ مہینہ ایک عذاب میں گزرے ہیں، یرغمالیوں کو جہاز کے ڈیک پر بٹھا کر بنائی گئی اس ویڈیو میں دل والوں کے دل پر کیا گزری ہوگی، براہ راست گھر والے جو اپنے پیاروں کی ایک دید کے منتظر ہیں تڑپ ہی اٹھے ہوں گے۔
پاکستانی یرغمالیوں کا کہنا ہے کہ وہ اپنے کپتان اور جہاز کے پورے عملے کی جانب سے حفاظت اور رہائی کے لیے کمپنی سے جواب دہی کا مطالبہ کرتے ہیں۔ روزانہ سادہ چاول کھا کر ان کا گزر کیسا ہو رہا ہوگا، جن کی زندگیاں جیسے تلوار کی نوک پر بسر ہو رہی ہیں۔
کمپنی بحری قزاقوں سے کوئی بات نہیں کر رہی، نہ ہی کوئی معاہدہ۔ ایک عجیب صورت حال یہ بھی ہے کہ کمپنی ایک شخص کو ذمے دار قرار دے کر پیچھے ہٹ گئی کہ وہ کمپنی اور جہاز کا مالک ہے جب کہ بحری قزاق مذکورہ شخص سے بات کرنے سے انکاری ہیں۔
آخر معاملہ کیا ہے؟ کون ہے وہ شخص جس کے حوالے ایک کمپنی کر دی گئی یا واقعی وہ کمپنی اسی کی ہے اور قزاقوں کا اس شخص سے معاملات طے کرنے کا کوئی موڈ نہیں؟ کیا یہ کوئی سیاسی یا لین دین کا کچھ اور ہی تنازع ہے؟
’’یہ ایک خاص سمندری حصہ ہے جو صومالی قزاقوں کی حدود میں آتا ہے یا ان کے حملہ کرنے، قبضہ کر لینے کا ڈر ہوتا ہے۔ یہ راستہ اندازاً تین چار دن میں کراس ہوتا ہے، اب ان تین چار دن میں کچھ بھی ہو سکتا ہے، لیکن بحری قزاق انھی جہازوں پر حملہ آور ہوتے ہیں جن پر امریکی جھنڈے نہ لگے ہوں اور ان پر امریکی گارڈز نہ ہوں۔‘‘
’’کتنے گارڈز ہوتے ہیں؟‘‘
’’تین سے چار۔‘‘
’’ان کے چارجز اندازاً کتنے ہوتے ہوں گے؟‘‘
’’اچھے خاصے ہوتے ہیں، ایک دن کے چارجز ایک گارڈ کے ہزاروں ڈالرز میں، اب ان سے جو بچتا ہے یعنی گارڈ کی فیس کی مد میں۔ تو یوں سمجھیں کہ ان جہازوں پر جہاں امریکی مخصوص جھنڈے نہیں لہراتے گویا اجازت ہے کہ آپ ان کے ساتھ جو دل چاہے کر سکتے ہیں یا اپنے قبضے میں لے کر پھر جیسے خبریں سنتے ہیں کہ فلاں ملک کا جہاز صومالیہ کے قزاقوں کے پاس ہے، یرغمال بنا لیا گیا ہے، اب تاوان مانگ رہے ہیں۔‘‘
’’گویا یہ ایک دھندا ہے، جسے غیر قانونی یا بدمعاشی کا بزنس کہہ سکتے ہیں یہ باقاعدہ پالے ہوئے غنڈے ہیں گویا۔‘‘
’’کہہ سکتے ہیں بالکل ایسا نہیں ہے کہ ان پر قابو نہیں پایا جاسکتا، لیکن یہ ایک ایسا غنڈہ راج ہے جس کا باہر کی تصویر صومالیہ کے قزاقوں کی ہے اور اندر کی کہانی کچھ اور ہے۔‘‘
21 اپریل 2026 کو صومالیہ کے قریب بحری قزاقوں نے ایم ٹی آئر 25 نامی آئل ٹینکر کو اغوا کیا تھا۔ ایم ٹی آئر کمپنی انڈونیشیا میں رجسٹرڈ ہے، اس کے کپتان کا تعلق انڈونیشیا سے ہے جب کہ پاکستان، سری لنکا، انڈونیشیا، انڈیا اور میانمار سے شامل عملہ ہے۔
تین ملین ڈالرز کا مطالبہ ایک بڑا چیلنج ہے جسے عبور کرنا آسان نہیں، لیکن انسانی جانوں کی اہمیت اس سب سے کہیں بڑھ کر ہے۔ کہا جاتا ہے کہ صومالیہ میں خانہ جنگی اور مرکزی حکومت کے خاتمے کے بعد 1990 سے اس علاقے میں غنڈہ راج کا آغاز ہوا۔
صومالیہ کے پانی کو سرکاری سطح پر بے یار و مددگار جان کر غیر ملکی جہاز اپنا تابکار فضلہ یہاں ٹھکانے لگانے لگے اسی طرح غیر قانونی ماہی گیری بھی بڑھتی گئی، پہلے پہل اس کے خلاف احتجاجاً مقامی ماہی گیروں نے مزاحمت کی، کم اسلحے کے ساتھ یہ وقت کے گزرتے پہیے کی رو میں بہتے بہتے ایک مجرمانہ کاروبار بن گیا۔
ایسا نہیں تھا کہ ان کو کھلے بندوں چھوڑ دیا گیا تھا، امریکی اور بھارتی بحریہ نے ان سے اپنے قیدیوں کو چھڑوا لیا تھا۔ 2011 میں ایک غیر سرکاری ٹرسٹ نے 21 ملین امریکی ڈالرز کا چندہ اکٹھا کرکے بائیس قیدیوں کو ایک سال کی مدت کے بعد چھڑا لیا تھا۔
ایسا نہیں ہے کہ بحری قزاق کوئی ماورائی، جادوئی مخلوق ہیں، ایک زمانے تک یورپ میں کچھ حکومتیں بحری قزاقوں کی سرپرستی کرتی تھیں ان کو اجازت تھی کہ وہ دشمنوں یا اجنبی جہازوں کو لوٹ لیں، قیدی بنا لیں اور تاوان طلب کریں۔
یہ باقاعدہ فوج کی صورت نہیں ہوتے تھے لیکن ایک طرح سے یہ غیر سرکاری طور پر حکومتوں کے لیے ہی کام کرتے تھے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ کہا جاتا ہے کہ 1581 میں ملکہ الزبتھ اول نے فرانس ڈریک کو سر کا خطاب عطا کیا تھا، یہ وہی فرانس ڈریک تھا جس نے اسی طرح کے ایک جہاز سے ملنے والے خزانے (مال غنیمت) کا ایک حصہ ملکہ کو بھی پہنچایا تھا۔
اب اس بات کو جھٹلایا جاتا ہے لیکن جس انداز میں ایک طویل عرصے تک برصغیر کے خزانوں کو لوٹ کر برطانوی اور دوسری یورپی قوتوں نے اپنی تجوریوں کو بھرا تھا اس سے زیادہ اور کیا ثبوت چاہیے۔
بحری قزاق جو پہلے سرکاری طور پر غیر سرکاری انداز میں اپنی حب الوطنی کا مظاہرہ کرتے قتل و غارت گری کرتے لوٹ مار کرتے تھے ،اب جدید انداز میں جدید خطوط پر کام کرتے ببانگ دہل ڈالرز میں تاوان کا مطالبہ کرتے ہیں۔
کون ہے جو ان پر ہاتھ ڈال سکتا ہے، لیکن ان کو سرپرستی حاصل ہے چاہے وہ کوئی ملک ہے یا کوئی خاص طاقت، لیکن غنڈہ مافیا کسی نہ کسی طرح سرگرم ہے۔ اسے بڑے جنوں کا آشیرواد حاصل ہے لہٰذا کسی کو کیا پڑی ہے کہ وہ غریب جہازی عملے کو ان شیطانی کارندوں کے چنگل سے نکالے۔
چلتے چلتے ایک اور بات۔۔۔۔ ان بحری قزاقوں کی طرح ہمارے ملک میں بھی کچے کے پکے ڈاکوؤں کا شوشا اڑتا رہتا ہے ، اس بارے میں بات پھر کبھی ہوگی، لیکن دعا یہ ہے کہ رب العزت دو چہرے رکھنے والے ان سرکردہ انسانوں سے محفوظ رکھے ،جن کی ایک آنکھ شرافت تو دوسری آنکھ میں شیطانی چلے چلتے نظر آتے ہیں۔