انٹرنیشنل فادرز ڈے
Shireenhaider65@hotmail.com
دنیا بھر میں آج باپوں کا عالمی دن منایا جا رہا ہے، ظاہر ہے کہ یہ رواج بھی مغرب سے ہمارے ہاں آیا ہے۔ ہمارے بچپن میں تو ہر دن ماؤں اور باپوں کا ہی نہیں، خاندان اور دوستوں کا بھی ہوتا تھا، اپنی محبت کے اظہار کے لیے ہمیں سال میں کسی ایک مخصوص دن کا انتظار نہیں کرنا پڑتا تھا۔
اب ہم اپنے بچپن کے گیت الاپتے رہ سکتے ہیں کہ اب ویسا کیوں نہیں ہے… جب ہم بچے تھے تو ہمارے بزرگ کہتے تھے کہ قرب قیامت کی نشانی ہے کہ اب فلاں چیز تبدیل ہو گئی ہے، ان کے نزدیک نت نئی چیزوں کی ایجادات حیران کن تھیں، وہ ایجادات جو آج کے دور کے بچوں کو علم تک نہیں ہے کہ بٹنوں سے آن آف ہونے والے ٹیلی وژن اور بیٹری سیل سے چلنے والے ریڈیو، بڑے سائز کے تار والے فون جن پر ڈائل کو گھما کر نمبر ڈائل کیا جاتا تھا سے لے کر اب تک کی ترقی کا سفراور اب جو ترقی ہوئی ہے، وہ ہمار ے لیے حیران کن ہے اور اس سے آگے جو ترقی ہو گی، وہ ہمارے بچوں کے لیے حیران کن ہو گی۔
اگرکچھ نہیں تبدیل ہوا ہے ہمارے ہاں تو وہ ہے گھر میں باپ کا کردار، اس کی انتھک محنت اور اپنی اولاد کو خود سے بہتر دیکھنے کی خواہش، وہ اپنا آپ تج کر آج بھی اپنے بچوں کی خاطر قربانی دیتا اورصلے میںسوائے احترام اور محبت کے کسی چیز کی توقع نہیں کرتا ہے۔
ہمارے معاشرے میں ہمارے وقت سے لے کر اب تک اگر گھر کے حالات میں کچھ تبدیل ہوا ہے تو وہ ہے عورتوں کی اب ہر شعبے میں تعلیم کا حصول اور ملازمتیں، پہلے زمانوں میں عورتوں کے لیے نرس، ڈاکٹر اور استاد جیسے حدود شعبہء ہائے زندگی تھے مگر وقت کے ساتھ ساتھ عورتوں نے ہر شعبے میں تعلیم حاصل کر کے اب پولیس، فوج، بینک ، انجینئرنگ، بینکنگ، تعمیرات، پائلٹ، آرکیٹیکٹ، خلا بازی، تحقیق اور وہ شعبے جب تک ہماری سوچ بھی نہیں جاتی، عورتوں کی ان اہم ملازمتوں نے گھر کے ڈھانچے کو ایک نیا رخ دے دیا اور شادی سے پہلے ملازمت کرنے والی عورتو ں نے شادی کے بعد یا تو اپنی ملازمت جاری رکھنے کا عہد پہلے سے لے لیا یا پھر شادی کے بعد اپنی ڈگریوں کو درازوں میں ڈال کر گھر گرہستی کو چلانے کے لیے اپنی ملازمتوں کو تج دیا۔
ہر دو طرح کے حالات میں بھی باپ کا کردار اس لیے اہم رہا ہے کہ وہ گھر کا بنیادی کفیل ہوتا ہے، عورت اپنی ملازمت اس لیے جاری رکھتی ہے کہ اسے سفید پوشی یا متوسط طبقے کا حصہ بننے سے بڑھ کر کچھ چاہیے ہوتا ہے، اسے بہتر گھر، اپنے کام کو بہتر کرنے اور ترقی کی منازل طے کرنے، بچوں کو عام اور معمولی اسکولوں میں پڑھانے کی بجائے مہنگے اور بہترین اسکولوں میں پڑھانے، اپنا گھر بنانے، اچھی گاڑی رکھنے، برانڈڈ سوٹ ا ور جوتے پہننے ، بیرون ملک کی تفریحات کے اخراجات کے لیے رقم جوڑنے، بہترین فرنیچر بنانے اور بہت سی ایسی خواہشات جو ایک کمانے والے کے ساتھ پوری نہیں ہو سکتیں، ملازمت کرنے والی ماں اس سارے کو حاصل کرنے کے لیے کیا کچھ تج دیتی ہے ، وہ ہم سب جانتے ہیں۔
عورت ملازمت کرتی ہے تو وہ اپنی اور شوہر دونوں کی دولت پر اپنا حق سمجھتی ہے، جہاں مرد اس طرح کا کفیل ہے کہ وہ عورت کی ضروریات ، خواہشات اور فضولیات کے لیے بھی رقم خرچ کرنے کا اہل ہوتا ہے، وہاں کی عورت ملازمت صر ف ا پنی تسکین کے لیے کرتی ہے اور اس لیے کہ جو تعلیم اس نے حاصل کی وہ ضایع نہ جائے ، مال اور پیسے کو لے کر گھروں میں اکثرچھوٹے موٹے اختلافات سے لے کر بڑے بڑے تنازعات بھی ہو جاتے ہیں،ا سی لیے ہمارے ہاں طلاق کی شرح خطر ناک حد تک بڑھ چکی ہے۔
باپ گھر کی بڑی مشین کا اہم ترین پرزہ ہونے کے باوجود، مشین میں کسی ایسی جگہ فٹ ہوتا ہے کہ اس کی اہلیت نظر نہیں آتی، بچوں کی تربیت اور کامیابیوں کے سارے تاج اور موتی ماں کے تاج میں لگتے ہیں اور باپ پس منظر میں پھر بھی اپنا کام کیے جاتا ہے ۔
باپ وہ شخص ہے جو اپنے بچوں سے پیار اور محبت کا متلاشی ہوتا ہے کیونکہ ایک مزدور سے لے کر کسی محکمے کاباس تک بھی دن بھر میں سو طرح کے لوگوں سے ملتا اور سر کھپاتا ہے اور کسی نہ کسی بات پر اپنے باس یامالک سے بے عزتی کرواتا مگر صبر کے گھونٹ پی لیتا ہے کہ اسے اس ملازمت یا کام کی ضرورت ہے اور وہ کسی کوپلٹ کر جواب دے گا تو اسے اپنی ملازمت سے جواب مل جائے گا۔ باپ کی عزت صرف وہ بچے کرتے ہیں جن کی ماں اپنے شوہر کو نہ صرف پیار کرتی ہو بلکہ اس کی قربانیوں کو سمجھتی ہو اور اسے دل سے عزت دیتی ہو۔
باپ اور بچوں کے بیچ communication نہیں ہوتی، بچے شام کو تھکے ہارے گھر لوٹنے والے باپ کوسوائے سلام کے کچھ نہیں کہتے۔ مائیں بھی تھکتی ہیں مگر ان کی تھکن اولاد اپنی محبت سے چن لیتی ہے، ہے تو غلط فقرہ مگر اولاد کے دل کا لالچ انھیں اس ہستی کے قریب کردیتا ہے جو بظاہر ان کے لیے محبت کرتا ہے اور ان کی تمام ضروریات اور تعیشات کو پورا کرتا ہے، یہ لالچ چھوٹے سے ناسمجھ بچے سے لے کر شروع ہوتا ہے اور دن بدن پروان چڑھتا ہے۔
باپ جب ملازمت سے ریٹائرہوتاہے تو اسے گھر میں ایک عضو معطل سمجھ لیا جاتا ہے، صرف سمجھا ہی نہیں جاتا بلکہ اسے ہر دم اس بات کا احساس دلایا جاتا ہے۔ بچے لکھ پڑھ کر اپنے پیروں پر کھڑے ہو چکے ہوتے ہیں، باپ نے انھیں پڑھایا ان کی ملازمتوں کے لیے تگ و دو کی ہوتی ہے، ان کی شادیاں کی ہوتی ہیں، اسی شان و شوکت سے جس کے بچے خواب دیکھتے ہیں اور پھر اولا د جب اپنا آپ سنبھال لیتی ہے اورکسی ضرورت کے لیے باپ سے کسی چیزیا رقم کا مطالبہ کرے اور باپ اس سے عذر کرے تو وہ تن کر باپ کے سامنے کھڑے ہو جاتے ہیں اور کولہوں پر ہاتھ رکھ کر، باپ کی طرف غیض اور غضب کی نظر سے دیکھتے اور چیخ کر سوال کرتے ہیں، ’’ ابا آخرآپ نے ساری عمر ہمار ے لیے کیا ہی کیا ہے؟؟
ملک کے تمام باپوں کو … ’’ Happy Father's Day‘‘