سرحدوں سے آزاد کہانیاں
میری اور حسینہ کی دوستی برسوں پرانی ہے۔ نہ جانے اسے جانے کی اتنی جلدی کیوں تھی۔ میں نہ صرف اسے بہت یاد کرتی ہوں بلکہ اس کے لکھے ڈرامے اور اس کے لفظوں کی چاشنی بھی یاد آتی ہے۔ ایک وقت تھا کہ ڈرامہ دیکھنے والوں کو حسینہ کے ڈائیلاگ یاد ہوتے۔
جس دن اس کا لکھا ڈرامہ نشر ہوتا، سڑکوں پہ ٹریفک نہ ہونے کے برابر ہوتا۔ لوگ اپنے گھر کی تقریبات یہ دیکھ کر رکھتے تھے کہ اس دن حسینہ کا ڈرامہ تو نہیں آنا، ورنہ لوگ تقریب میں شریک نہیں ہوں گے۔ وہ بھی کیا دن تھے، انکل عرفی، تنہائیاں، دھوپ کنارے یہ ایسے ڈرامے تھے جو کسی اکیڈمی میں پڑھائے جائیں۔
کیا جادو تھا حسینہ کے قلم میں۔ہندوستان میں بھی حسینہ کے ڈرامے بہت مقبول تھے۔ نہ صرف تب بلکہ اب بھی ہمارے ڈرامے وہاں بہت ہی مقبول ہیں۔ ہمارا ڈرامہ ہم سفر اور اس کے ہیرو ہیروئین فواد خان اور ماہرہ خان ہندوستان میں بیحد مقبول ہیں۔
پاکستانی ڈرامے کو جو پذیرائی ہندوستان میں ملتی ہے، وہ اس بات کا ثبوت ہے کہ فن کی کوئی سرحد یا سیما نہیں ہوتی۔ پاکستان کا کوک اسٹوڈیو اور اس کے بنائے گانے بھی ہندوستان میں بے پناہ مقبولیت رکھتے ہیں۔
پاکستان میں ہندوستان کی فلمیں بہت پسند کی جاتی ہیں۔ شاہ رخ خان، سلمان خان، عامر خان اور دوسرے بہت سے اداکار ہمارے ہاں بہت پسند کیے جاتے ہیں۔ ہمارے ڈراموں کی کہانیاں حقیقی زندگی سے بہت قریب ہوتی ہیں۔ ہم ڈرامے کے کرداروں میں اپنے آپ کو دیکھ پاتے ہیں۔ کہانی اگر سچی ہو، جذبہ اگر ایماندار ہو اور کردار اگر اپنے دکھ، اپنی خاموشی اور اپنی مزاحمت کے ساتھ زندہ ہو تو انھیں ویزوں، سرحدی چوکی اور سیاسی نعروں کی ضرورت نہیں پڑتی وہ خود راستہ بنا لیتی ہیں۔
پاکستانی ڈرامہ اپنی فطرت میں حقیقت سے بہت قریب ہوتا ہے۔ وہ دیکھنے والے کو اپنی گرفت میں لے لیتا ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ جب ہندوستانی ناظرین اسے دیکھتے ہیں تو انھیں اس میں اپنے گھروں کی جھلک نظر آتی ہے۔ یہی وہ طاقت ہے جو پاکستانی ڈرامے کو اتنی مقبولیت دیتی ہے۔
مجھے یاد ہے کہ میرا اپنا ڈرامہ ’’زرد پتوں کا بن‘‘ اس اعتبار سے ایک مختلف تجربہ تھا کہ وہ امریکا میں شوٹ ہوا۔ اس سے پہلے ہمارے ڈرامے مقامی ماحول، مقامی لوکیشنز اور جانے پہچانے مناظر تک محدود تھے۔ پاکستانی کردار اپنی پہچان کے ساتھ ہر ماحول اور جگہ سانس لیتے ہیں۔ یہ تجربہ میرے لیے بھی حوصلہ افزا تھا۔ ہماری کہانی جہاں جاتی ہے وہاں اپنی جگہ خود بنا لیتی ہے۔
پاکستانی ڈرامے کی اصل قوت اس کی تحریر میں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب ہم حسینہ معین کا ذکر کرتے ہیں تو صرف ایک ڈرامہ نگار یاد نہیں آتا بلکہ ایک عہد سامنے آ کھڑا ہوتا ہے۔ وہ عہد جب اتوار کی شام سڑکیں سنسان ہو جایا کرتی تھیں، جب ہر کوئی انتظار کرتا تھا کہ اتوار آئے اور حسینہ کا ڈرامہ چلے۔ اس وقت ڈرامے میں پہلی بار عورت اسکرین پر محض مظلوم نہیں بلکہ سوچنے، سوال کرنے اور فیصلہ کرنے والی ہستی کے طور پر نظر آئی۔
حسینہ معین کے ڈائیلاگ آج بھی لوگوں کو یاد ہیں۔ آج بھی لوگ یوٹیوب پر حسینہ کے ڈرامے دیکھتے ہیں اور اس دور کو یاد کرتے ہیں۔آرٹ کی کوئی سرحد نہیں ہوتی اور اس کا ثبوت یہ ہے کہ پاکستان اور ہندوستان کے درمیان حالیہ کشیدگی کے باوجود ہمارے ڈرامے وہاں دیکھے جارہے ہیں اور بہت پسند کیے جارہے ہیں۔
اس ہی طرح یہاں وہاں کی فلمیں دیکھی جا رہی ہیں۔ میرا ماننا ہے کہ آرٹ کو آزاد ہونا چاہیے بالکل ہوا کی طرح، جسے جو دیکھنا ہے، سننا ہے وہ اس کا حق ہے۔ پابندیاں صرف خوف پیدا کرتی ہیں تخلیق نہیں۔
پاکستانی ڈرامہ اس لیے زندہ ہے کہ اس نے خود کو بازار کے شور میں گم نہیں ہونے دیا۔ ہمارے ڈرامے میں جس طرح کہانیوں کو بنا جاتا ہے چاہے وہ رومانوی کہانی ہو یا سماجی، اس میں ڈائیلاگ، اداکاری اتنی بھرپور ہوتی ہے کہ وہ دیکھنے والوں کو پسند آتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب ہمارا ڈرامہ سرحد پار جاتا ہے تو وہاں بھی اجنبی نہیں لگتا۔
آج جب ہندوستانی ناظرین پاکستانی ڈرامے دیکھتے ہیں تو یہ محض ثقافتی تبادلہ نہیں، یہ ایک انسانی ملاقات ہے۔ ایک ایسی ملاقات جہاں دکھ مشترک ہیں، خواب ملتے جلتے ہیں اور عورت کا سوال اب بھی وہی ہے چاہے وہ لاہور میں ہو یا لکھنؤ میں۔
شاید ہمیں اسی بات کو مان لینا چاہیے کہ کہانیاں دشمن نہیں ہوتیں۔ دشمنی تو ہم خود گھڑتے ہیں۔ فن اگر آزاد رہے تو وہ ہمیں بار بار یاد دلاتا ہے کہ ہم ایک دوسرے سے اتنے مختلف نہیں جتنا ہمیں بتایا جاتا ہے اور یہی یاد دہانی آج کے شور زدہ زمانے میں سب سے بڑی مزاحمت ہے۔
یہ بات بھی نظرانداز نہیں کی جا سکتی کہ پاکستانی ڈرامہ محض تفریح نہیں بلکہ سماجی شعور کی ایک صورت بھی رہا ہے۔ اس نے خاموشی سے مگر مضبوطی کے ساتھ ایسے موضوعات کو چھوا جن پر بات کرنا آسان نہیں تھا۔
گھریلو رشتوں کی پیچیدگیاں، طبقاتی فرق، عورت کی شناخت، اس کی خواہشات اور اس کے فیصلے، یہ سب ہمارے ڈرامے کا حصہ رہے ہیں۔ یہی سچائی اسے دیرپا بناتی ہے۔ وقت تبدیل ہوگیا مگر اچھی تحریر کی اہمیت کم نہیں ہوئی۔
آج ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے دور میں جب مواد کی بھرمار ہے، تب بھی ناظرین اسی کہانی کی طرف لوٹ کر آتے ہیں جس میں سچ کی خوشبو ہو۔ یہی وجہ ہے کہ پرانے ڈرامے آج بھی دیکھے جاتے ہیں اور نئی نسل بھی ان سے جڑ جاتی ہے۔ یہ محض یادوں کا سفر نہیں بلکہ اس بات کا ثبوت ہے کہ مضبوط کہانی وقت کی قید سے آزاد ہوتی ہے۔
فنکار، لکھاری اور ہدایت کار دراصل سماج کے آئینہ دار ہوتے ہیں۔ جب وہ ایمانداری سے اپنے عہد کو لکھتے ہیں تو ان کی آواز دور تک جاتی ہے۔ سرحد پار بیٹھا ناظر بھی اس میں اپنا عکس دیکھ لیتا ہے۔ دکھ، خوشی، جدوجہد اور امید یہ سب آفاقی جذبے ہیں۔
انھیں کسی پاسپورٹ یا اجازت نامے کی ضرورت نہیں ہوتی۔اگر ہم واقعی ایک بہتر اور حساس سماج چاہتے ہیں تو ہمیں فن کو سانس لینے کی جگہ دینا ہوگی۔ کہانیوں کو آزاد چھوڑنا ہوگا کہ وہ دلوں تک پہنچ سکیں، کیونکہ جب لفظ دل سے نکلتے ہیں تو وہ دل تک ہی جاتے ہیں اور یہی وہ رشتہ ہے جو ہر سرحد سے زیادہ مضبوط ہوتا ہے۔