ایل پی جی مافیا نے عوام کی جیبوں سے 60 تا 70 ارب روپے اضافی نکال لیے

عوام 309 روپے  فی کلو گرام والی ایل پی جی 600 روپے سے بھی  زائد قیمت پر خریدتے رہے

لاہور:

ملکی تاریخ کی مہنگی ترین ایل پی جی کی فروخت کے ذریعے ایل پی جی مافیا نے 60 سے 70 ارب روپے مہنگائی میں پسی ہوئی عوام کی جیبوں سے نکال لیے، عوام 309 روپے فی کلو گرام والی ایل پی جی 600 روپے سے بھی  زائد قیمت پر خریدتے رہے۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق ایران امریکا کشیدگی کے باعث توانائی بحران کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ایل پی جی مافیا نے اپنی من مانی قیمت پر ایل پی جی فروخت کی بلکہ آج بھی بڑے دھڑلے سے سرعام فروخت کر رہے ہیں۔

پاکستان ایل پی جی ڈسٹری بیوٹر ایسوسی ایشن کے اعداد وشمار کے مطابق پاکستان میں روزانہ 60 لاکھ کلو گرام سے بھی زیادہ ایل پی جی فروخت ہوتی ہے، اوگرا نے اس کی ماہ جون کے لیے قیمت 309 روپے فی کلوگرام مقرر کی مگر کہیں بھی اس قیمت پر ایل پی جی دستیاب ہی نہیں، ہر پلانٹ والے ہر کمپنی والے اور ہر دکان دار کا اپنا ہی ریٹ ہے عوام ملکی تاریخ کی مہنگی ترین ایل پی جی خریدنے پر مجبور ہو چکے ہیں۔

دکاندار کاشف نے ایکسپریس نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پلانٹ سے ہمیں ساڑے پانچ سو روپے کلو گرام ایل پی جی ملے گی تو 309 روپے میں کیسے فروخت کریں؟ ہمیں ایل پی جی مارکیٹنگ کمپنیوں اور پلانٹ والوں کی طرف سے مہنگی ترین ایل پی جی مل رہی ہے تو سستی کیسے دیں، اوگرا سمیت کسی بھی ادارے نے ان کے خلاف کارروائی نہیں کی جس نے بھی کارروائیاں کیں صرف دکانداروں کے خلاف کیں، ان پر ہزاروں اور لاکھوں روپے کے جرمانے کیے۔

دکان دار نے کہا کہ پلانٹ والے مہنگی ترین ایل پی جی فروخت کر رہے ہیں مگر رسید نہیں دیتے رسید مانگنے پر ایل بی جی نہیں دیتے، کیا کریں بچوں کو بھوکا نہیں رکھ سکتے، دکان پر ایک دو ملازم ہیں ان کو بھی فارغ کریں ممکن نہیں حکومت نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کو کنٹرول میں رکھا ایل پی جی کو کنٹرول کیوں نہیں کیا؟عوام ہمیں گالیاں بھی دیتی ہے ہم کہاں جائیں عوام کہتی ہے گیس آتی نہیں مہنگی خریدنا مجبوری ہے اگر مہنگی ایل پی جی پر بات کریں تو دکاندار کہتے ہیں جہاں سے سستی ملے وہاں سے لے لیں۔

پاکستان میں ایل پی جی کی کھپت 60 لاکھ کلو گرام سے زیادہ ہے اگر ساٹھ لاکھ کو ہی تین سو روپے سے ضرب دیں تو ایک ارب اسی کروڑ روپے روزانہ اگر ایک ماہ کا حساب لگائیں 54 ارب اسی کروڑ روپے سے زائد رقم بنتی ہے اور یہ رقم عوام کی جیبوں سے نکال رہے ہیں اور کوئی پرسان حال نہیں۔

اس سلسلے میں اوگرا کے ترجمان سمیت سینئر ڈائریکٹر انفورسمنٹ سہیل احمد طارق اور سینئر ڈائریکٹر سرمد اسلم سے کئی بار رابطہ کیا گیا تو ان کی طرف سے اس حوالے سے کوئی جواب نہیں دیا گیا۔

Load Next Story