ای سی سی نے سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی کو 52 ارب روپے جاری کرنے کی منظوری دے دی
فوٹو: پی آئی ڈی
کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی(ای سی سی) نے سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی کیلیے 52 ارب روپے جاری کرنے، پاکستان اسٹیل ملز ملازمین کی تنخواہوں کی ادائیگی کیلئے فنڈز جاری کرنے کی اجازت دیدی ہے جبکہ یومِ آزادی اور معرکۂ حق تقریبات 2025 کیلئے 1.289 ارب روپے، اسلام آباد میں معرکۂ حق یادگار منصوبے کیلئے 2 ارب روپے کی منظوری دے دی۔
تفصیلات کے مطابق کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) کا اجلاس وفاقی وزیر خزانہ و محصولات سینیٹر محمد اورنگزیب کی زیر صدارت وزارتِ خزانہ میں منعقد ہوا.
اجلاس میں وفاقی وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک، وفاقی وزیر سرمایہ کاری قیصر احمد شیخ، وفاقی وزیر تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی، وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان، وزیراعظم کے معاونِ خصوصی برائے صنعت و پیداوار ہارون اختر خان سمیت متعلقہ وزارتوں، ڈویژنوں اور ریگولیٹری اداروں کے وفاقی سیکریٹریز اور اعلیٰ حکام نے شرکت کی.
وزارتِ خزانہ کے مطابق ای سی سی کے اجلاس میں مختلف وزارتوں اور ڈویژنوں کی جانب سے پیش کی گئی متعدد سمریوں کی منظوری دی گئی.
اجلاس میں وزارتِ دفاع کی دو سمریوں کی منظوری دیتے ہوئے یومِ آزادی اور معرکۂ حق تقریبات 2025 کے اخراجات کے لیے ایک ارب 28 کروڑ 90 لاکھ روپے کی تکنیکی ضمنی گرانٹ (ٹی ایس جی ) منظور کی گئی جبکہ اسلام آباد میں معرکۂ حق یادگار منصوبے کے لیے فرنٹیئر ورکس آرگنائزیشن (ایف ڈبلیو او) کے ذریعے عملدرآمد کی خاطر 2 ارب روپے کی تکنیکی ضمنی گرانٹ کی بھی منظوری دی گئی۔
اجلاس میں وزارتِ انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن کی دو سمریوں کی منظوری دیتے ہوئے پاکستان آسان خدمت مرکز اسلام آباد کے فیز دوم کی تکمیل کے لیے 4 ارب 50 کروڑ روپے کی تکنیکی ضمنی گرانٹ منظور کی گئی جبکہ اسمارٹ اسلام آباد انیشی ایٹو کے لیے 91 کروڑ 12 لاکھ روپے کی بچت شدہ رقم کی ازسرِنو تخصیص کی منظوری بھی دی گئی۔
وزیراعظم انسپیکشن کمیشن کی جانب سے ملازمین سے متعلق اخراجات پورے کرنے کے لیے 82 لاکھ 16 ہزار روپے کی تکنیکی ضمنی گرانٹ کی بھی منظوری دی گئی ہے۔
ای سی سی نے فنانس ڈویژن کی 2 سمریوں پر غور کرتے ہوئے بلوچستان میں خدمات انجام دینے والے پی اے ایس اور پی ایس پی افسران کے لیے مراعاتی پیکیج کے نفاذ کی غرض سے 31 کروڑ 23 لاکھ روپے کی تکنیکی ضمنی گرانٹ منظور کی جبکہ ٹیلی گرافک ٹرانسفر چارجز انسینٹو اسکیم (ٹی ٹی سی آئی ایس) کو یکم جولائی 2026 سے ختم کرنے کی منظوری بھی دی گئی۔
وزارتِ ہاؤسنگ و تعمیرات کی سمری کے تحت ضلع شانگلہ سے متعلق پی ایس ڈی پی اسکیم کے لیے 79 کروڑ 37 لاکھ روپے کی منتقلی کی منظوری دی گئی تاکہ ترقیاتی منصوبوں پر بروقت عملدرآمد یقینی بنایا جا سکے۔
اجلاس میں وزارتِ صنعت و پیداوار کی سمری منظور کرتے ہوئے پاکستان اسٹیل ملز کے ملازمین کی تنخواہوں کی ادائیگی کے لیے مالی سال 26-2025 کے پہلے سے منظور شدہ بجٹ سے رقوم جاری کرنے کی اجازت دی گئی۔
اجلاس میں وزارتِ بحری امور کی جانب سے ملک بھر کی ماہی گیر کشتیوں میں ویسل مانیٹرنگ سسٹم کی تنصیب کے لیے وفاقی حکومت کے حصے کے طور پر 60 کروڑ روپے کی تکنیکی ضمنی گرانٹ کی بھی منظوری دی گئی۔
پاور ڈویژن کی سمری پر غور کرتے ہوئے ای سی سی نے ڈسکوز میں حکومتی ایکویٹی کے طور پر سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (سی پی پی اے-جی) کو 52 ارب روپے جاری کرنے کے لیے تکنیکی ضمنی گرانٹ منظور کی۔
کمیٹی نے کے-الیکٹرک سے 97 ارب 64 کروڑ 90 لاکھ روپے، انٹر ڈسکو ٹیرف ڈیفرینشل سبسڈی کے لیے منتقل کرنے اور ٹیسکو کے 44 ارب 19 کروڑ 80 لاکھ روپے کے بقایا ٹی ڈی ایس کلیمز کی ایڈجسٹمنٹ کی بھی منظوری دی۔
وزارتِ داخلہ و انسدادِ منشیات کی سمری کے تحت فرنٹیئر کور خیبرپختونخوا (شمال) کی آپریشنل ضروریات اور استعداد کار میں بہتری کے لیے 25 کروڑ روپے کی منظوری دی گئی۔
اجلاس میں وزارتِ پیٹرولیم کی سمری منظور کرتے ہوئے سوئی ناردرن گیس پائپ لائنز لمیٹڈ کی جانب سے میزان بینک سے حاصل کردہ 50 ارب روپے کی فنانسنگ سہولت کے لیے دی گئی جبکہ خودمختار ضمانتوں کی مدت 30 جون 2027 تک بڑھانے کی منظوری بھی دی گئی۔
اجلاس کے دوران وزارتِ ریلوے کی سمری پر غور کرتے ہوئے پاکستان ریلوے کے لیے گرانٹ اِن ایڈ میں 7 ارب روپے اضافے کی منظوری دی گئی۔