کراچی، بیوی کے قتل کیس میں گرفتار شوہر بھی پُراسرار طور پر پولیس تحویل میں دم توڑ گیا

مقتولہ کے بھائی علی نواز کی مدعیت میں محمد خان کے خلاف قتل کا مقدمہ درج کیا گیا تھا

کراچی:

کراچی میں مبینہ بیوی کے قتل کے الزام میں گرفتار ایک شخص پولیس تحویل کے دوران پراسرار طور پر جاں بحق ہو گیا جس کے بعد کیس نے نیا رخ اختیار کر لیا ہے۔

پولیس کے مطابق ملزم محمد خان کے خلاف تیموریہ تھانے میں مبینہ بیوی کے قتل کا مقدمہ درج کیا گیا تھا۔

گرفتاری کے بعد اسے مزید تفتیش کے لیے جوہرآباد انویسٹی گیشن پولیس کے حوالے کیا گیا تھا۔

حکام کا کہنا ہے کہ رات گئے ملزم کی طبیعت اچانک خراب ہو گئی جس پر اسے فوری طور پر اسپتال منتقل کیا گیا تاہم وہ دورانِ علاج دم توڑ گیا۔

پولیس نے واقعے کی مزید تحقیقات شروع کر دی ہیں تاکہ موت کی اصل وجہ معلوم کی جا سکے۔

یہ مقدمہ 23 جون کو نارتھ ناظم آباد بلاک ایل عرفات ٹاؤن کچی آبادی میں ایک خاتون کی لاش ملنے کے بعد درج کیا گیا تھا۔

اطلاع ملنے پر پولیس نے موقع پر پہنچ کر لاش کو تحویل میں لیا اور اطلاع دینے والے مبینہ شوہر محمد خان کو حراست میں لے لیا تھا۔

پولیس کے مطابق متوفیہ 40 سالہ روبینہ کے بارے میں محمد خان نے ابتدائی بیان میں دعویٰ کیا تھا کہ خاتون کی طبیعت تین روز قبل چاول کھانے کے بعد خراب ہوئی تھی اور بعد ازاں وہ گھر میں انتقال کر گئی۔

تاہم تفتیش کے دوران یہ بات بھی سامنے آئی کہ اس امر کی تصدیق نہیں ہو سکی کہ محمد خان واقعی متوفیہ کا شوہر تھا۔

بعد ازاں مقتولہ کے بھائی علی نواز کی مدعیت میں محمد خان کے خلاف قتل کا مقدمہ درج کیا گیا جس کے بعد اسے باقاعدہ گرفتار کر لیا گیا تھا۔

پولیس کے مطابق روبینہ طلاق یافتہ تھی اور چند سال قبل اپنے سابق شوہر یاسین سے علیحدگی اختیار کر چکی تھی۔

مقتولہ سات بچوں کی ماں تھی جن میں پانچ بیٹیاں اور دو بیٹے شامل ہیں۔ مقتولہ کے دو بھائی ہیں اور خاندان کا تعلق اندرون سندھ سے بتایا جاتا ہے۔

تفتیشی حکام کا کہنا ہے کہ شبہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ روبینہ کی موت کسی زہریلی چیز کے استعمال سے ہوئی ہو سکتی ہے، تاہم حتمی وجہ موت کا تعین پوسٹ مارٹم اور کیمیائی تجزیے کی رپورٹ آنے کے بعد ہی کیا جا سکے گا۔

 

دوسری جانب ملزم محمد خان کی پولیس تحویل میں موت کے بعد اس معاملے کی نوعیت مزید حساس ہو گئی ہے اور اب دونوں اموات کے محرکات اور حقائق جاننے کے لیے تحقیقات کا دائرہ وسیع کر دیا گیا ہے۔

Load Next Story