یورپ ہیٹ ویو کی تباہی؛ برطانیہ، جرمنی میں گرم ترین دن؛ فرانس میں ہلاکتیں 55 ہوگئیں
یورپ میں شدید گرمی کی لہر نے بڑے پیمانے پر تباہی مچادی
یورپ میں شدید گرمی کی لہر نے بڑے پیمانے پر تباہی مچادی جس میں مجموعی طور پر ہلاکتیں 60 کے قریب پہنچ گئیں جب کہ ہائی الرٹس جاری کیے گئے ہیں۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یورپ اس وقت شدید گرمی کی غیر معمولی لہر کی زد میں ہے، جہاں فرانس، جرمنی، برطانیہ، بیلجیئم اور دیگر ممالک میں درجہ حرارت نئے ریکارڈ قائم کر رہا ہے۔
فرانس میں ایک کمسن بچہ تپتی گاڑی میں دم گھٹنے سے ہلاک پایا گیا جب کہ جرمنی اور برطانیہ میں درجہ حرارت کے نئے ریکارڈ قائم کردیے۔ بیلجیئم میں تاریخی تقریب عین موقع پر منسوخ کرنا پڑگئی۔
فرانس میں ہلاکتوں کی تعداد 55 ہوگئی
فرانس کے شہر مارسیئے میں شدید گرمی کے دوران ایک 18 ماہ کا بچہ گرم گاڑی میں بے ہوش حالت میں ملا۔
سول ڈیفنس اہلکاروں نے بچے کو شدید ہیٹ اسٹروک (ہائپر تھرمیا) کی حالت میں اسپتال منتقل کیا، تاہم وہ جانبر نہ ہو سکا۔
فرانس میں گرمی سے بچنے کے لیے دریاؤں اور نہروں کا رخ کرنے والوں کے ڈوبنے کے واقعات میں ہلاکتوں کی تعداد 55 تک جا پہنچی ہے۔
ادھر فرانسیسی حکومت نے گرمی سے نمٹنے کے لیے ملک بھر کے اسکولوں میں ایئر کنڈشنگ کے بہتر انتظامات کرنے کی غرض سے 13 کروڑ یورو مختص کرنے کا اعلان بھی کیا ہے۔
جرمنی میں جون کا گرم ترین دن ریکارڈ
جرمنی میں بھی شدید گرمی نے کئی دہائیوں کے ریکارڈ توڑ دیے۔ ملک کے کم از کم پانچ مختلف علاقوں میں درجہ حرارت 40 ڈگری سینٹی گریڈ سے تجاوز کرگیا۔
مغربی شہر زاربروکن میں درجہ حرارت 40.9 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا جو جون کے مہینے کا نیا قومی ریکارڈ ہے۔
اس سے قبل جون میں سب سے زیادہ درجہ حرارت 39.6 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا تھا۔
برطانیہ میں مسلسل تیسرے روز نیا ریکارڈ
برطانیہ میں بھی مسلسل تیسرے روز جون کے گرم ترین دن کا ریکارڈ ٹوٹ گیا۔ مشرقی انگلینڈ کے علاقے واٹشم، سفوک میں درجہ حرارت 36.9 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا۔
جو گزشتہ روز قائم ہونے والے 36.7 ڈگری سینٹی گریڈ کے ریکارڈ سے بھی زیادہ ہے۔
بیلجیئم میں واٹرلو کی تاریخی جنگ کی تقریب منسوخ
شدید گرمی کے باعث بیلجیئم میں واٹرلو کی تاریخی جنگ کی سالانہ یادگاری تقریب (Battle of Waterloo Reenactment) بھی منسوخ کر دی گئی۔
منتظمین کا کہنا ہے کہ شدید گرمی میں ہزاروں افراد اور شرکا کی حفاظت کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ فیصلہ کیا گیا۔
پیرس پرائیڈ مارچ بھی مؤخر
ادھر فرانس کے دارالحکومت پیرس میں شدید گرمی کی وجہ سے پیرس پرائیڈ مارچ بھی مؤخر کر دیا گیا ہے تاکہ شرکا کو ہیٹ اسٹروک اور دیگر طبی خطرات سے محفوظ رکھا جا سکے۔
ماہرین موسمیات کے مطابق یورپ میں کچھ اور روز شدید گرمی برقرار رہنے کا امکان ہے۔ شہریوں کو غیر ضروری طور پر دھوپ میں نکلنے سے گریز، زیادہ پانی پینے اور بزرگوں، بچوں اور بیمار افراد کا خصوصی خیال رکھنے کی ہدایت کی گئی۔
واضح رہے کہ ماہرین موسمیات نے دنیا میں ضرورت سے زیادہ، غیر متوقع اور اچانک ہونے والی بارشوں، سیلاب، برفباری اور شدید گرمی کی وجہ موسمیاتی تغیرات کو قرار دیا ہے جس کے ہولناک اثرات ابھی اور نظر آئیں گے۔