ملک کو بحران سے نکالا جائے
گزشتہ روز ملک بھر میں ایسی افواہیں گشت کرتی رہیں کہ حکومت مظاہرین کو ہٹانے کے لیے طاقت استعمال کرے گی ...
گزشتہ روز ملک بھر میں ایسی افواہیں گشت کرتی رہیں کہ حکومت مظاہرین کو ہٹانے کے لیے طاقت استعمال کرے گی۔ فوٹو اے ایف پی
قومی اسمبلی اور سینیٹ نے وزیراعظم میاں محمد نواز شریف کے حق میں متفقہ قراردادیں منظور کی ہیں، امریکا نے بھی حکومت اور وزیراعظم کے حق میں ایک بیان جاری کیا ہے ادھر پاکستان تحریک انصاف' عوامی تحریک' مسلم لیگ ق' متحدہ سنی علماء کونسل اور مجلس وحدت المسلمین اسلام آباد میں پارلیمنٹ کے باہر دھرنا دیے ہوئے ہیں۔ یوں ملک میں سیاسی ڈیڈ لاک کی صورت حال بدستور برقرار ہے۔
گزشتہ روز ملک بھر میں ایسی افواہیں گشت کرتی رہیں کہ حکومت مظاہرین کو ہٹانے کے لیے طاقت استعمال کرے گی' اسی طرح آئی جی اسلام آباد آفتاب چیمہ کا استعفیٰ بھی موضوع بحث بنا رہا تاہم حکومت نے دھرنوں کے خلاف طاقت استعمال نہ کرنے کا دور اندیشانہ فیصلہ کیا جس سے تصادم کا خطرہ ٹل گیا۔ ممکن ہے کہ حکومت کی صفوں میں ایسے لوگ موجود ہوں جو اسے یہ مشورہ دے رہے ہوں کہ دھرنے کے شرکاء کو طاقت کے بل بوتے پر منتشر کر دیا جائے لیکن حکومت نے ایسے کسی مشورے پر عمل نہیں کیا اگر حکومت طاقت استعمال کرتی تو ممکن ہے اس سے حالات مزید بگڑ جاتے اور مذاکرات کے ذریعے معاملات سدھرنے کی جو امید قائم ہے وہ ٹوٹ جاتی۔
لاہور میں سانحہ ماڈل ٹائون بھی اسی وجہ سے رونما ہوا کہ حکومت نے وہاں طاقت استعمال کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ اسلام آباد میں عوامی تحریک اور تحریک انصاف کے دھرنے شروع ہوئے ایک ہفتہ گزر چکا ہے' اتنے دن تک ہزاروں یا لاکھوں لوگوں کا دھرنا دینا کوئی معمولی واقعہ نہیں پاکستان کی سیاسی تاریخ میں ایسا کبھی نہیں ہوا کہ سات روز تک مسلسل دھرنا دیا گیا ہو۔ ابھی تک معاملات کسی کروٹ بیٹھتے ہوئے دکھائی نہیں دے رہے اور ڈیڈ لاک جاری رہنے سے پورے ملک میں بے یقینی کی فضا چھائی ہوئی ہے' ہر کوئی یہ سوچ رہا ہے کہ اب کیا ہو گا' معاملات مذاکرات کے ذریعے حل ہو جائیں گے یا اس کا کوئی دوسرا حل نکلے گا۔
حکومت نے ابھی تک موجودہ صورت حال سے نمٹنے کے لیے صبر و تحمل کا مظاہرہ کیا ہے اور کوئی ایسا اقدام نہیں کیا جس سے حالات تصادم کی راہ اختیار کریں۔ حکومت کی یہ دانشمندی ہی ہے کہ ابھی تک حالات پرامن ہیں لیکن یہ ڈیڈ لاک اپنی جگہ موجود ہے کہ آخر ایسا کب تک جاری رہے گا اور اس کا نتیجہ کیا نکلے گا۔ اس وقت خراب سیاسی صورت حال کے ملکی معیشت پر منفی اثرات مرتب ہوئے ہیں' کاروباری سرگرمیاں ماند پڑ گئی ہیں جس کے باعث تاجر طبقہ پریشانی کا شکار ہے اور منتظر ہے کہ کب یہ سیاسی ڈیڈ لاک ختم ہو اور معاشی اور تجارتی سرگرمیاں معمول کی سطح پر لوٹ آئیں۔
عالمی سطح پر بھی پاکستان کا امیج متاثر ہوا اور دنیا اسے سیاسی طور پر انتشار زدہ ملک کے طور پر دیکھ رہی ہے۔ موجودہ ڈیڈ لاک کو ختم کرنے کے لیے حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مذاکرات کا سلسلہ شروع ہے لیکن ابھی تک کوئی نتیجہ خیز صورت حال سامنے نہیں آئی۔ تحریک انصاف اور عوامی تحریک اپنے اپنے موقف پر ڈٹی ہوئی ہیں اور وزیراعظم کے استعفیٰ سے کم پر بات کرنے کے لیے تیار نہیں جب کہ دوسری جانب حکومت اور اس کی اتحادی جماعتیں اس مطالبے کو ماننے کے لیے تیار نہیں،مذاکراتی عمل میں اندیشے اور خدشات بدستور قائم ہیں، اس طرح ڈیڈ لاک فوری طور پر حل ہوتا ہوا نظر نہیں آ رہا جو خطرناک حالات کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتا ہے۔
گزشتہ روز اسلام آباد میں سینئر صحافیوں اور ٹی وی اینکرز سے ملاقات میں وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے کہا کہ مذاکرات کے لیے پہلے بھی تیار تھے اور اب بھی تیار ہیں لیکن ماورائے آئین مطالبات نہیں مانے جاسکتے، دھرنے کے خلاف طاقت کے استعمال کا سوچ بھی نہیں سکتے، دھرنا بھلے جاری رہے لیکن پرامن حل نکالنا چاہتے ہیں، اس وقت پارلیمنٹ میں12میں سے11جماعتیں حکومت کے ساتھ ہیں، عوامی تحریک اور تحریک انصاف والے جتنا بیٹھنا چاہتے ہیں انھیں بیٹھنے دینگے تاہم ملک کو بحرانوں میں نہیں دھکیل سکتے۔
میاں محمد نواز شریف نے کہا کہ وہ عوام کے مینڈیٹ کا احترام کرتے ہیں۔ اس وقت مالدیپ اور سری لنکا کے صدرکا دورہ ملتوی ہوچکا ہے۔ وہ خود سربراہان مملکت کو بتاتے ہیں کہ اسلام آباد میں صورتحال صحیح نہیں ہے، سول اور عسکری قیادت کے تعلقات کے حوالے سے مطمئن ہوں۔
ملک میں ایک طویل عرصے بعد جمہوریت بحال ہوئی ہے اس کی حفاظت تمام سیاسی جماعتوں کی ذمے داری ہے خواہ وہ حکومت میں شریک ہیں یا حکومت سے باہر ہیں۔ سیاست میں صبر کا امتحان ہوتا ہے' بے صبری اور جلد بازی میں اٹھایا گیا کوئی بھی غلط قدم ملکی انتشار اور افراتفری کا باعث بن سکتا ہے۔ یہ خوش آیند امر ہے کہ حکومت نے دھرنوں کے شرکاء کے خلاف کوئی انتظامی ایکشن نہیں لیا اور صبر و تحمل اور برداشت کا مظاہرہ کر کے معاملات کو تصادم کے راستے پر جانے سے روکا ہوا ہے۔
جب تمام سیاسی جماعتوں کا ایجنڈا ملک اور عوام کی خوشحالی ہے تو پھر انھیں کسی ایسے غیر آئینی اقدام سے گریز کرنا چاہیے جس سے عوامی مفادات پر زد پڑے' موجودہ سیاسی ڈیڈ لاک سے سب سے زیادہ غریب طبقہ متاثر ہوا ہے۔ حکومت اور اس کے مخالف فریقین کو صبر و تحمل سے کام لیتے ہوئے ملک کو موجودہ بحران سے نکالنے کی کوئی راہ نکالنی چاہیے اگر یہ معاملہ یونہی چلتا رہتا ہے تو جتنا یہ طول پکڑتا جائے گا ملکی معاشی حالات اتنے بگڑتے چلے جائیں گے جس کا یہ ملک مزید متحمل نہیں ہو سکتا۔ حکومت اور دھرنے کے قائدین کو ملک کو موجودہ بحران سے نکالنے کے لیے فی الفور کوئی فیصلہ کرنا چاہیے۔
گزشتہ روز ملک بھر میں ایسی افواہیں گشت کرتی رہیں کہ حکومت مظاہرین کو ہٹانے کے لیے طاقت استعمال کرے گی' اسی طرح آئی جی اسلام آباد آفتاب چیمہ کا استعفیٰ بھی موضوع بحث بنا رہا تاہم حکومت نے دھرنوں کے خلاف طاقت استعمال نہ کرنے کا دور اندیشانہ فیصلہ کیا جس سے تصادم کا خطرہ ٹل گیا۔ ممکن ہے کہ حکومت کی صفوں میں ایسے لوگ موجود ہوں جو اسے یہ مشورہ دے رہے ہوں کہ دھرنے کے شرکاء کو طاقت کے بل بوتے پر منتشر کر دیا جائے لیکن حکومت نے ایسے کسی مشورے پر عمل نہیں کیا اگر حکومت طاقت استعمال کرتی تو ممکن ہے اس سے حالات مزید بگڑ جاتے اور مذاکرات کے ذریعے معاملات سدھرنے کی جو امید قائم ہے وہ ٹوٹ جاتی۔
لاہور میں سانحہ ماڈل ٹائون بھی اسی وجہ سے رونما ہوا کہ حکومت نے وہاں طاقت استعمال کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ اسلام آباد میں عوامی تحریک اور تحریک انصاف کے دھرنے شروع ہوئے ایک ہفتہ گزر چکا ہے' اتنے دن تک ہزاروں یا لاکھوں لوگوں کا دھرنا دینا کوئی معمولی واقعہ نہیں پاکستان کی سیاسی تاریخ میں ایسا کبھی نہیں ہوا کہ سات روز تک مسلسل دھرنا دیا گیا ہو۔ ابھی تک معاملات کسی کروٹ بیٹھتے ہوئے دکھائی نہیں دے رہے اور ڈیڈ لاک جاری رہنے سے پورے ملک میں بے یقینی کی فضا چھائی ہوئی ہے' ہر کوئی یہ سوچ رہا ہے کہ اب کیا ہو گا' معاملات مذاکرات کے ذریعے حل ہو جائیں گے یا اس کا کوئی دوسرا حل نکلے گا۔
حکومت نے ابھی تک موجودہ صورت حال سے نمٹنے کے لیے صبر و تحمل کا مظاہرہ کیا ہے اور کوئی ایسا اقدام نہیں کیا جس سے حالات تصادم کی راہ اختیار کریں۔ حکومت کی یہ دانشمندی ہی ہے کہ ابھی تک حالات پرامن ہیں لیکن یہ ڈیڈ لاک اپنی جگہ موجود ہے کہ آخر ایسا کب تک جاری رہے گا اور اس کا نتیجہ کیا نکلے گا۔ اس وقت خراب سیاسی صورت حال کے ملکی معیشت پر منفی اثرات مرتب ہوئے ہیں' کاروباری سرگرمیاں ماند پڑ گئی ہیں جس کے باعث تاجر طبقہ پریشانی کا شکار ہے اور منتظر ہے کہ کب یہ سیاسی ڈیڈ لاک ختم ہو اور معاشی اور تجارتی سرگرمیاں معمول کی سطح پر لوٹ آئیں۔
عالمی سطح پر بھی پاکستان کا امیج متاثر ہوا اور دنیا اسے سیاسی طور پر انتشار زدہ ملک کے طور پر دیکھ رہی ہے۔ موجودہ ڈیڈ لاک کو ختم کرنے کے لیے حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مذاکرات کا سلسلہ شروع ہے لیکن ابھی تک کوئی نتیجہ خیز صورت حال سامنے نہیں آئی۔ تحریک انصاف اور عوامی تحریک اپنے اپنے موقف پر ڈٹی ہوئی ہیں اور وزیراعظم کے استعفیٰ سے کم پر بات کرنے کے لیے تیار نہیں جب کہ دوسری جانب حکومت اور اس کی اتحادی جماعتیں اس مطالبے کو ماننے کے لیے تیار نہیں،مذاکراتی عمل میں اندیشے اور خدشات بدستور قائم ہیں، اس طرح ڈیڈ لاک فوری طور پر حل ہوتا ہوا نظر نہیں آ رہا جو خطرناک حالات کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتا ہے۔
گزشتہ روز اسلام آباد میں سینئر صحافیوں اور ٹی وی اینکرز سے ملاقات میں وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے کہا کہ مذاکرات کے لیے پہلے بھی تیار تھے اور اب بھی تیار ہیں لیکن ماورائے آئین مطالبات نہیں مانے جاسکتے، دھرنے کے خلاف طاقت کے استعمال کا سوچ بھی نہیں سکتے، دھرنا بھلے جاری رہے لیکن پرامن حل نکالنا چاہتے ہیں، اس وقت پارلیمنٹ میں12میں سے11جماعتیں حکومت کے ساتھ ہیں، عوامی تحریک اور تحریک انصاف والے جتنا بیٹھنا چاہتے ہیں انھیں بیٹھنے دینگے تاہم ملک کو بحرانوں میں نہیں دھکیل سکتے۔
میاں محمد نواز شریف نے کہا کہ وہ عوام کے مینڈیٹ کا احترام کرتے ہیں۔ اس وقت مالدیپ اور سری لنکا کے صدرکا دورہ ملتوی ہوچکا ہے۔ وہ خود سربراہان مملکت کو بتاتے ہیں کہ اسلام آباد میں صورتحال صحیح نہیں ہے، سول اور عسکری قیادت کے تعلقات کے حوالے سے مطمئن ہوں۔
ملک میں ایک طویل عرصے بعد جمہوریت بحال ہوئی ہے اس کی حفاظت تمام سیاسی جماعتوں کی ذمے داری ہے خواہ وہ حکومت میں شریک ہیں یا حکومت سے باہر ہیں۔ سیاست میں صبر کا امتحان ہوتا ہے' بے صبری اور جلد بازی میں اٹھایا گیا کوئی بھی غلط قدم ملکی انتشار اور افراتفری کا باعث بن سکتا ہے۔ یہ خوش آیند امر ہے کہ حکومت نے دھرنوں کے شرکاء کے خلاف کوئی انتظامی ایکشن نہیں لیا اور صبر و تحمل اور برداشت کا مظاہرہ کر کے معاملات کو تصادم کے راستے پر جانے سے روکا ہوا ہے۔
جب تمام سیاسی جماعتوں کا ایجنڈا ملک اور عوام کی خوشحالی ہے تو پھر انھیں کسی ایسے غیر آئینی اقدام سے گریز کرنا چاہیے جس سے عوامی مفادات پر زد پڑے' موجودہ سیاسی ڈیڈ لاک سے سب سے زیادہ غریب طبقہ متاثر ہوا ہے۔ حکومت اور اس کے مخالف فریقین کو صبر و تحمل سے کام لیتے ہوئے ملک کو موجودہ بحران سے نکالنے کی کوئی راہ نکالنی چاہیے اگر یہ معاملہ یونہی چلتا رہتا ہے تو جتنا یہ طول پکڑتا جائے گا ملکی معاشی حالات اتنے بگڑتے چلے جائیں گے جس کا یہ ملک مزید متحمل نہیں ہو سکتا۔ حکومت اور دھرنے کے قائدین کو ملک کو موجودہ بحران سے نکالنے کے لیے فی الفور کوئی فیصلہ کرنا چاہیے۔