بغیر مشاورت چیئر مین فیڈرل سروس ٹریبونل تقرری پر حکومت کو نوٹس
چیئرمین خوددفاع کرینگے یارجسٹرارکے ذریعے دفاع کریںگے،سپریم کورٹ نے رجسٹرارایف ایس ٹی کوبھی نوٹس جاری کردیا
چیئرمین خوددفاع کرینگے یارجسٹرارکے ذریعے دفاع کریںگے،سپریم کورٹ نے رجسٹرارایف ایس ٹی کوبھی نوٹس جاری کردیا۔ فوٹو فائل
KARACHI:
چیف جسٹس آف پاکستان کی مشاورت کے بغیر فیڈرل سروس ٹربیونل کے چیئرمین کی تقرری کے معاملے پر سپریم کورٹ نے رجسٹرار ایف ایس ٹی سمیت وفاقی حکومت کونوٹس جاری کر دیا ہے۔
پیر کو چیف جسٹس کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی ۔عدالت کوبتایا گیا کہ چیئرمین فیڈرل سروسز ٹربیونل کی تقرری چیف جسٹس سے مشاورت کے بغیرکر دی گئی ہے جس پر عدالت نے رجسٹرار ایف ایس ٹی کو نوٹس جاری کیا تاکہ معلوم کیاجاسکے کہ چیئرمین اس کیس میں خود دفاع کریںگے یا رجسٹرار کے ذریعے کریں گے۔
مزید سماعت ایک ہفتے کیلیے ملتوی کر دی گئی ہے۔ نمائندے کے مطابق عدالت عظمٰی نے برطرف ملازمین کی بحالی کے قانون کے تحت بینکنگ کورٹ کے جج کی بحالی کو غیر قانو نی قرار دیکر واجبات کی مد میں انھیں ادا کے گئے 42لاکھ روپے واپس لینے کا حکم دیا ہے اور سیکریٹری خزانہ و قانون کو ہدایت کی ہے کہ تنخواہوں کی مد میں ادا کی گئی رقم کا حساب لگا کر تین ہفتے میں وصول کی جائے۔
چیف جسٹس کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے وفاق کی اپیل منظورکرکے بینکنگ کورٹ کی بحالی کے نوٹیفکیشن کو غیر قانونی قرار دیا ۔بینکنگ کورٹ کے جج محمد اعظم چٹہ کے وکیل حافظ ایس اے رحمٰن نے عدالت کو بتایا کہ ہائیکورٹ اور انٹرا کورٹ اپیل میں ان کے حق میں فیصلہ ہوا کیونکہ انھیں سیاسی بنیادوں پر نکالا گیا۔عدالت نے اس موقف سے اتفاق نہیں کیا ۔
چیف جسٹس نے کہا کہ ان کی تقرری تین سال کیلیے کنٹریکٹ پر ہوئی تھی اور قانون کے مطابق مدعا علیہ سرکاری ملازم کی تعریف میں نہیں آتے ۔جسٹس جواد نے کہا سرکاری دولت کیلیے یہاںمال مفت دل بے رحم والی صورتحال ہے۔
واجبات اس لیے اداکیے گئے کیونکہ یہ رقم اس افسرکی جیب سے نہیں جا رہی تھی۔ جس فراخدلی سے سرکاری مال لٹانے کا مظاہرہ ہوا اس کی بھی انکوائری ہونی چاہیے۔مدعا علیہ نے تمام رقم رضاکارانہ طورپر ادا کرنے کی حامی بھری جس پر عدالت نے اپیل منظورکرکے غیر قانونی طورپرنوٹیفکیشن جاری کرنے والے افراد کے خلاف محکمانہ کارروائی کا حکم دیا۔
چیف جسٹس آف پاکستان کی مشاورت کے بغیر فیڈرل سروس ٹربیونل کے چیئرمین کی تقرری کے معاملے پر سپریم کورٹ نے رجسٹرار ایف ایس ٹی سمیت وفاقی حکومت کونوٹس جاری کر دیا ہے۔
پیر کو چیف جسٹس کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی ۔عدالت کوبتایا گیا کہ چیئرمین فیڈرل سروسز ٹربیونل کی تقرری چیف جسٹس سے مشاورت کے بغیرکر دی گئی ہے جس پر عدالت نے رجسٹرار ایف ایس ٹی کو نوٹس جاری کیا تاکہ معلوم کیاجاسکے کہ چیئرمین اس کیس میں خود دفاع کریںگے یا رجسٹرار کے ذریعے کریں گے۔
مزید سماعت ایک ہفتے کیلیے ملتوی کر دی گئی ہے۔ نمائندے کے مطابق عدالت عظمٰی نے برطرف ملازمین کی بحالی کے قانون کے تحت بینکنگ کورٹ کے جج کی بحالی کو غیر قانو نی قرار دیکر واجبات کی مد میں انھیں ادا کے گئے 42لاکھ روپے واپس لینے کا حکم دیا ہے اور سیکریٹری خزانہ و قانون کو ہدایت کی ہے کہ تنخواہوں کی مد میں ادا کی گئی رقم کا حساب لگا کر تین ہفتے میں وصول کی جائے۔
چیف جسٹس کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے وفاق کی اپیل منظورکرکے بینکنگ کورٹ کی بحالی کے نوٹیفکیشن کو غیر قانونی قرار دیا ۔بینکنگ کورٹ کے جج محمد اعظم چٹہ کے وکیل حافظ ایس اے رحمٰن نے عدالت کو بتایا کہ ہائیکورٹ اور انٹرا کورٹ اپیل میں ان کے حق میں فیصلہ ہوا کیونکہ انھیں سیاسی بنیادوں پر نکالا گیا۔عدالت نے اس موقف سے اتفاق نہیں کیا ۔
چیف جسٹس نے کہا کہ ان کی تقرری تین سال کیلیے کنٹریکٹ پر ہوئی تھی اور قانون کے مطابق مدعا علیہ سرکاری ملازم کی تعریف میں نہیں آتے ۔جسٹس جواد نے کہا سرکاری دولت کیلیے یہاںمال مفت دل بے رحم والی صورتحال ہے۔
واجبات اس لیے اداکیے گئے کیونکہ یہ رقم اس افسرکی جیب سے نہیں جا رہی تھی۔ جس فراخدلی سے سرکاری مال لٹانے کا مظاہرہ ہوا اس کی بھی انکوائری ہونی چاہیے۔مدعا علیہ نے تمام رقم رضاکارانہ طورپر ادا کرنے کی حامی بھری جس پر عدالت نے اپیل منظورکرکے غیر قانونی طورپرنوٹیفکیشن جاری کرنے والے افراد کے خلاف محکمانہ کارروائی کا حکم دیا۔