شرجیل میمن کا مزید 500 ای وی بسیں لانے کا اعلان

سندھ میں پولیس نے اچھا کام کیا اور آج سندھ میں ایک بھی مغوی نہیں، ہم نے 3114 کلومیٹر سڑکیں بنائی ہیں، سینئر وزیر

فوٹو: فائل

سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ دو تین ماہ میں 500 ای وی بسیں آئیں گی، صوبائی حکومت کام کر رہی ہے سندھ میں آج ایک بھی مغوی نہیں ہے۔

سینئر وزیر شرجیل میمن نے سندھ اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پیپلز بس میں ایک لاکھ 25 ہزار افراد سندھ میں سفر کر رہے ہیں، حکومت سندھ ہر مسافر پر سبسڈی دے رہی ہے، اس سال ہم جتنی بسیں موجود ہیں اس سے ڈبل بسیں لا رہے ہیں، دو تین ماہ میں 500 ای وی بسیں آئیں گی۔

انہوں نے کہا کہ پنک بسیں ہماری چل رہی ہیں، پہلی ای وی بسیں بھی ہم لائے، جب پنک اسکوٹیز ہم نے شروع کی صرف 150 لائسنس تھے اور آج 25 ہزار خواتین کے پاس لائسنس ہیں، یہ انقلاب تھا وہ انقلاب آگیا، اگر ایک لاکھ خواتین کے پاس بھی لائسنس ہوگا تو اسکوٹیز دیں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ پرائیویٹ سیکٹر کو بھی لے کر آئیں گے، جہاں پر بھی مرد اسکوٹی چلائے گا اس کو ضبط کریں گے۔

شرجیل میمن نے کہا کہ اگر آئل کمپنی گھوٹکی میں ہے وہ بھی ٹیکس دیتی ہے، کراچی میں بہت کمپنیوں کے ہیڈ آفسز ہیں، ہم نے 356 ارب روپے ٹیکس کا ہدف پورا کیا، فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے پاس 23 ہزار ملازمین ہیں مگر ہدف پورا نہیں کیا۔

صوبے میں ترقیاتی منصوبوں پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہم نے 3114 کلومیٹر سڑکیں بنائی ہیں، سندھ کا ایک بھی بڑا روڈ خراب نہیں، وفاقی حکومت کی شاہراہوں کا بیڑا غرق ہے، ہم دیہی علاقوں میں بھی پیور بلاک لگا رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ 97 ہزار اساتذہ بھرتی ہوئے ایک بھی شکایت نہیں ہے، پولیس نے بہت اچھا کام کیا ہے، آج سندھ میں ایک بھی مغوی نہیں ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اپوزیشن کے ایم پی ایز شاہراہ بھٹو پر سفر کرتے ہیں، کراچی پورٹ سے قیوم آباد تک روڈ ہے، 90 فیصد الیویٹیڈ روڈ ہے، ہمارے پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کی وزیراعظم نے تعریف کی ہے۔

سینئر وزیر نے کہا کہ اپوزیشن کہتی ہے میں نا مانوں، ہمیں سندھ کی ترقی پر سب کو ایک ہونا چاہیے، سندھ کا ہر مسئلہ کراچی سے وابستہ ہے، اپنے آپ کو آئسولیشن کا شکار مت بنائیں۔

شرجیل میمن نے کہا کہ  3960 میگاواٹ بجلی تھر کول سے پیدا ہو رہی ہے، یہ بجلی سندھ میں نیشنل گرڈ میں جا رہی ہے، حکومت سندھ اس پروجیکٹ پر ایک ارب ڈالر خرچ کر چکی ہے، یہ منصوبے پورے پاکستان کے لیے ہیں، پاکستان کی سب سے بڑی ضرورت اس وقت تھر کول میں ہے۔

انہوں نے کہا کہ سندھ پیپلز ہاؤسنگ اسکیم دنیا کی سب سے بڑی اسکیم ہے، 21 لاکھ سیلاب متاثرین کو گھروں کی فراہمی معمولی بات نہیں ہے، 6 آدمی فی گھر میں رہتے ہیں، ایک کروڑ 26 لاکھ افراد کو چھت فراہم کیا ہے، یہ سندھ کی پوری آبادی کا 22 فیصد ہے۔

اپوزیشن کو مخاطب کرکے انہوں نے کہا کہ کبھی کوئی بات مان بھی لیا کریں، میں خود رات 4 بجے این آئی سی وی ڈی گیا تھا جہاں دیگر صوبوں سے زیادہ مریض آتے ہیں، پنجاب سے ایک لاکھ 19 ہزار مریض این آئی سی وی ڈی میں آئے، ایس آئی یو ٹی میں 2475 مریض افغانستان سے آئے، خیبرپختون خواہ سے 15 ہزار سے زائد مریض آئے ہیں اور گمبٹ انسٹی ٹیوٹ میں 11375 مریض تین سال میں آئے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ پورا پاکستان علاج کرانے سندھ آ رہا ہے، کراچی دبئی تھا اور دبئی سے لوگ کراچی آتے تھے، عرب ممالک سے طلبہ پڑھنے آتے تھے، کراچی کی تباہی کی شروعات جنرل ضیا اور اس کی پیداوار سے ہوئی، کراچی کے خلاف عالمی سازش بھی ہوئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ سندھ پاکستان کا صنعتی حب تھا، سوچی سمجھی سازش کے تحت انڈسٹریز کو دوسری جگہ منتقل کیا گیا، اگر 10،10 دن ہڑتال ہوگی تو صنعت جائے گی، اس شہر کے ساتھ ظلم کیا گیا ان یادوں کو نہ دہرایا جائے۔

شرجیل میمن نے کہا کہ ماضی کو چھوڑ دیں، ہمیں چیزوں کو بہترکرنا ہے، ہم سارے عوام کے نمائندے ہیں، ہمیں اس ایوان کو سپریم بنانا ہے، آپ اس صوبے کے مارکیٹنگ مینیجرز ہیں، روزانہ ایک جماعت صبح ساڑھے 11  بجے پریس کانفرنس کرتے ہیں کہ کراچی میں یہ ہو گیا، وہ ہو گیا۔

سینئر وزیر نے کہا کہ اس طرح کی صورت حال میں کون کراچی میں سرمایہ کاری کرے گا، کراچی میں گورے انگریز واک کرتے نظر آتے تھے، لیکن کراچی کی بیڈ مارکیٹنگ کی گئی اورمیڈیا میں بیٹھ کرحکومت سندھ پر تنقید کر رہے ہو لیکن آپ کا اصل ہدف آپ کے اپنے ووٹرز ہیں۔

شرجیل انعام میمن نے کہا کہ ہم نے خلوص کے ساتھ کاموں کو آگے لے کر جانا ہے، کسی بھی شہر میں بارش ہو لیکن کراچی میں بارش ہو تو تین تین چار چار گھنٹے ٹرانسمیشن چلتی ہے۔

 

Load Next Story