اژدہا اور چوہا!
صاحب کے چہرے پر گہری پریشانی کے نشان تھے۔ برسوں سے تعلق ہے۔ فوری طور پر بھانپ گیا کہ کوئی گھمبیر مسئلہ ہے۔ کیونکہ صاحب اور پریشانی، دو متضاد چیزیں ہیں۔ سلیپنگ سوٹ کے اوپر بیش قیمت گاؤن پہن رکھا تھا۔ ہاتھ میں اس بار سگار نہیں تھا۔ پتھر کی سفید میز پر، قیمتی کانچ کا گلاس موجود تھا۔ مشروبِ مغرب آہستہ آہستہ پی رہے تھے۔ ان کا پالتو بڑا سانپ نزدیک ہی کنڈلی مار کر گہری نیند سویا ہوا تھا۔ لیمپ کی روشنی میں، اس کی دھاریں حددرجہ نمایاں نظر آ رہی تھیں۔
یہ کوئی رات ایک بجے کا وقت تھا۔ صاحب، تین دنوں سے لاہور آئے ہوئے تھے۔ اور ہر ایک سے ملنے سے انکار کر چکے تھے۔ کبھی انھیں اتنا سنجیدہ نہیں دیکھا تھا۔ میرے لیے کافی منگوائی جو پی نہیں سکا کیونکہ پھر رات کو نیند آنا مشکل ہو جاتی ہے۔ مختصر سی گفتگو کے بعد بتانے لگے کہ تین اہم ترین ممالک سے ہو کر آیا ہوں۔ یہاں اپنی جائیداد بیچنا چاہتا ہوں ۔ حیرت ہوئی کیونکہ ان کا فارم ہاؤس تو شاید شہر کا سب سے نایاب محل ہے۔اتنی قیمتی جائیداد کا گاہک ملنا ناممکن تو نہیں لیکن مشکل ضرور ہے۔ پھر قیمتی پرندے، شیر، چیتے، سانپ، ان سب کا کیا ہو گا۔ ڈاکٹر کیا مشورہ ہے؟ میں نے کیا مشورہ دینا تھا، فیصلہ تو کر چکے تھے لہٰذا اب کیا بات کرنی۔ مگر کیوں؟آپ اتنی نایاب جائیداد کیوں بیچنا چاہتے ہیں۔
آپ کو کوئی مسئلہ بھی نہیں ہے۔ اہم ترین لوگ ملاقات کے لیے ترستے ہیں۔ بولنے لگے، کچھ عرصہ قبل وسطی امریکا کے ملک وینزویلا میں تھا۔ صدر میدورو کی گرفتاری سے چھ گھنٹے پہلے اطلاع مل چکی تھی کہ ایک بہت بڑی گرفتاری ہونے والی ہے، میں اس ڈرامائی واقعے کو قریب سے دیکھ رہا تھا۔ مگر کوئی حیرانی نہیں تھی کیونکہ صدر خوفناک حد تک کرپشن اور منشیات کے دھندے میں ملوث تھا۔ عام وینزویلنز اسے اتارنے سے قاصر تھے۔ وہ بلاشرکت غیرے حکومت کر رہا تھا۔ اگر امریکا اسے گرفتار نہ کرتا تو دس بارہ برس تو وہی اپنے ملک کا بادشاہ تھا۔
اس کے بعد اس کا کوئی وفادار اس کی جگہ لے لیتا۔ مگر ہمارا اس سے کیا تعلق؟ ہم تو اس سے ہزاروں میل دور ایشیا کی ایک نکڑ میں بیٹھے ہیں۔ آپ اتنے پریشان کیوں ہیں؟ آپ کا کاروبار تو بالکل ٹھیک چل رہا ہے۔ مسائل تو ہیں مگر کون سا ایسا ملک ہے جہاں مسئلے نہ ہوں۔ گہری سانس لے کر صاحب نے کہا، بالکل ٹھیک کہا، ہر سسٹم میں کچھ نہ کچھ دقتیںضرور ہوتی ہیں۔ مگر انھیں حل کر لیا جاتا ہے یا کوشش کی جاتی ہے۔ مگر ہمارے ہاں مسائل پیدا کیے جاتے ہیں اور بڑی محنت سے پیدا کیے جاتے ہیں تاکہ وہ اتنے بڑھ جائیں کہ کبھی حل نہ ہوں۔
تعجب ہوا کہ صاحب کیا فرما رہے ہیں۔ ڈاکٹر! ذرا بتاؤ کہ ملک کی معیشت کیوں نہیں چل رہی ؟ چند توجیہات پیش کیں تو کہنے لگے نہیں، اس موضوع پر ذرا بعد میں بات کرتے ہیں۔ ایک مرکزی وزیرسے کہلوایا گیا کہ معیشت کو ٹھیک کرنے والا وزیر ٹھیک کام نہیں کررہا ۔ یہ تو میڈیا پر آ چکا ہے، اس میں کیا انہونی بات ہے۔ ڈاکٹر! ذرا سوچو ایک ہی دستر خوان پر بیٹھ کر چوری کھانے والے ایک دوسرے پر الزامات کیوں لگا رہے ہیں؟ لگتا ہے، اعلیٰ سطح پر معاملات ٹھیک نہیں ہیں۔
پیسہ محفوظ جگہ پر لے جانا میرا کاروبار ہے۔ مجھے اس کام میں دس فیصد کمیشن ملتا ہے۔ ہمارے سیاسی اور غیرسیاسی امراء جس رفتار سے پیسے باہر بھجوا رہے ہیں، وہ دنیا کے کسی ملک میں نہیں ہو رہا۔ آئرلینڈ، لندن، امریکا، آسٹریلیا اوردیگر ممالک میں جتنی جائیدادیں خریدی جا رہی ہیں، وہاں کے لوگ بھی پریشان ہوجاتے ہیں۔ کیونکہ ڈالر اور پاؤنڈ ان ملکوں کی حکومتوںکے پاس آ رہے ہیں اس لیے خاموش ہیں۔ دس ملین پاؤنڈ کی جائیداد پندرہ ملین پاؤنڈ میں خریدی جا رہی ہے۔ ان ممالک کے رئیل اسٹیٹ ایجنٹس خوب کمیشن کما رہے ہیں۔ ہمارے ملک کے جعلی امراء انھیں زیادہ کمیشن دیتے ہیں۔ عام آدمی کو تو علم ہی نہیں ۔ ڈاکٹر! اب کوئی فرشتہ بھی حکومت میں آ جائے تو دہائیوں سے بگڑے ہوئے معاملات کو درست نہیں کر سکتا۔ کیونکہ معاملہ بگڑا ہوا نہیں ہے، بلکہ سسٹم خود بگاڑ بن چکا ہے۔ لہٰذا واپسی یا سدھار مشکل نظر آتا ہے۔
طویل بات سن کر کہا کہ صاحب ! مسائل ضرور ہیں مگر جس تناسب سے آپ بیان کر رہے ہیں، ویسا نہیں ہے۔ صاحب کے چہرے پر مزید سنجیدگی آ گئی۔ ماتھے کی درمیان والی رگ نمایاں ہو گئی۔ ڈاکٹر! تمہیں کچھ بھی معلوم نہیں ہے۔ میں تو کم بتا رہا ہوں۔ جہاں کہیں بھی تھوڑی سی انیس بیس ہوتی ہے۔ تو اشارے کنایہ میں کوئی درفتنی چھوڑ دی جاتی ہے۔ پورا سوشل میڈیا دیوانوں کی طرح اس پر لاحاصل بحث شروع کر دیتا ہے۔ کچھ دنوں بعد سب کچھ ٹھیک ہو جاتا ہے۔ اور پھر اس کا بھول کر بھی ذکر نہیں کیا جاتا۔ نہیں صاحب! آپ کا تجزیہ درست نہیں ہے، ملک کو بہتر کرنے کی بھرپور کوشش کی جارہی ہے۔ دوچار ہوں گے، جو پٹڑی سے اتر گئے ہیں۔ مگر باقی معاملات ٹھیک ہی چل رہے ہیں۔
صاحب مسکرائے اور اپنے فرانسیسی گلاس سے چسکیاں لگانے لگ گئے۔ دراصل معلومات کا ہونا، انسان کے لیے عذاب بن جاتا ہے۔ ابھی ایک صوبائی وزیر کے متعلق میڈیا میں کھل کر بات ہو رہی ہے۔ ہر وی لاگر طبع آزمائی کر رہا ہے۔ میں نے جواب دیا کہ صاحب! سوشل میڈیا تو افواہ سازی کا گڑھ ہے۔ اکثر اوقات خود ہی خبر گھڑتے ہیں۔ پھر اس پر تبصرے درتبصرے شروع ہو جاتے ہیں۔ صاحب نے سگار منگوایا۔ ایک انگریز ملازم بڑے ادب سے قیمتی سگار لایا۔ صاحب نے اہتمام سے اسے پینا شروع کر دیا۔ صاحب ترنگ میں تھے، کہنے لگے، کہ ڈاکٹر ہو سکتا ہے کہ تم ٹھیک کہہ رہے ہو۔ مگر بجٹ کا ایک بڑا حصہ تو آئی پی پی مالکان کی جیب میں جا رہا ہے۔
عام شہری غربت اور افلاس کا شکار ہے۔ پھر کیا وجہ ہے کہ تمہارے حکمران، ان معاہدوں کو منسوخ نہیں کر رہے؟ میرے پاس واقعی اس سوال کا جواب نہیں تھا۔ صاحب کہنے لگے، مجھے علم ہے کہ کون کون اس گنگا میں ناجائز طور پر نہا رہا ہے اور تمہارے حکمرانوں کو بھی بخوبی علم ہے۔ یہ معاہدے تو ایک منٹ میں ختم کیے جاسکتے ہیں۔میں اس سوال کا جواب جانتے ہوئے بھی خاموش رہا۔ صاحب کو کہا کہ بین الاقوامی گارنٹیاں شامل ہیں،شاید اس لیے انھیں بدلا نہیں جا سکتا۔ صاحب نے قہقہہ لگایا،تالی بجائی اور انگریز ملازم کو کچھ اشارہ کیا۔ دوچار منٹ بعد دستانے پہن کر واپس دوبارہ آیا۔ تو اس کے ہاتھ میں ایک چوہا تھا۔ ملازم نے آنکھیں بند کر کے سوئے ہوئے اژدھے کے سامنے چوہا چھوڑ دیا۔
اس سے پہلے کہ وہ بھاگ سکتا، اژدھے نے آنکھ کھولی اور حددرجہ پھرتی سے چوہے کو نگل لیا۔ چوہا بے چارہ آواز نکالے بغیر، اس کے شکم کی غذا بن گیا۔ کافی کراہت والا نظارہ تھا۔ رات بہت ہو چکی تھی۔ صاحب سے اجازت لی۔ جب گاڑی تک آیا تو ذہن میں متضاد خیالات، طوفانی گردش کر رہے تھے۔ خاموشی سے واپس آ گیا۔ کیونکہ کسی بات کا جواب نہیں تھا!