سفارتی کامیابیاں معاشی ترقی میں بدلنے کیلیے اقدامات کی ضرورت

ایران سے تجارتی روابط، نجی شعبے کی حوصلہ افزائی سے پاکستان مضبوط معیشت بن سکتا

کراچی:

پاکستان کی حالیہ سفارتی کامیابیوں نے عالمی سطح پر ملک کا تشخص بہتر بنایاہے، تاہم ان کامیابیوں کو پائیدارمعاشی ترقی میں تبدیل کرنے کیلیے حکومت کو فوری اورمؤثر اقدامات کرناہونگے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق ایران کے ساتھ تجارت میں اضافے، سستی توانائی کی فراہمی،اسمگلنگ میں کمی اور سرحدی تجارت کے فروغ جیسے فوری فوائد کے علاوہ پاکستان کی بہتر عالمی ساکھ سب سے بڑا اثاثہ بن سکتی ہے۔

ماہرین نے اس مقصدکیلیے دو اہم ترجیحات تجویزکی ہیں، پہلی ترجیح ایران کے ساتھ توانائی، تجارت اور لاجسٹکس کے شعبوں میں طویل المدتی تعاون کو فروغ دیناہے،جس سے بلوچستان کی معاشی ترقی اورسرحدی استحکام میں بھی مددملے گی۔

دوسری ترجیح عالمی سطح پر پاکستان کو سرمایہ کاری کیلیے پرکشش ملک کے طور پر مؤثر انداز میں متعارف کراناہے، تاکہ غیر ملکی سرمایہ کاری اور تجارتی شراکت داری میں اضافہ ہو۔ رپورٹ کے مطابق پاکستان کے نجی شعبے میں موجودبڑے کاروباری گروپ غیر ملکی کمپنیوں کے ساتھ مشترکہ منصوبوں کے ذریعے معیشت کونئی سمت دے سکتے ہیں۔

پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں شامل متعدد بڑی کمپنیاں پہلے ہی عالمی اداروں کے ساتھ کامیاب شراکت داری کررہی ہیں، جن میں آٹوموبائل، انجینئرنگ، توانائی، ٹیکنالوجی، ٹیکسٹائل اورصحت کے شعبے شامل ہیں۔

ماہرین نے حکومت پر زوردیاہے کہ وہ ٹیکس مراعات، آسان مالیاتی سہولیات اور اسپیشل انویسٹمنٹ فیسلیٹیشن کونسل کے ون ونڈو نظام کے ذریعے نجی شعبے کی حوصلہ افزائی کرے، تاکہ برآمدات، غیر ملکی سرمایہ کاری،روزگار اور ٹیکنالوجی کی منتقلی میں اضافہ ممکن ہو۔

مضمون میں خبردارکیاگیاکہ اگر موجودہ سفارتی کامیابیوں سے بروقت معاشی فوائدحاصل نہ کیے گئے تو یہ ایک اور ضائع ہونیوالا تاریخی موقع ثابت ہو سکتا ہے، اس مقصدکیلیے حکومت اورکاروباری برادری کے درمیان مسلسل مشاورت اورکاروباری رکاوٹوں کے خاتمے کو ناگزیر قراردیاگیا۔

ماہرین کے مطابق اگر پاکستان آئندہ تین دہائیوں تک مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) میں 5 سے 5۔5 فیصد سالانہ ترقی برقراررکھنے اورآبادی میں اضافے کی رفتارکومؤثر انداز میں قابوکرنے میں کامیاب ہو جائے تو 2060 تک فی کس آمدنی 5 ہزار ڈالر تک پہنچ سکتی ہے، جس سے پاکستان کامعیارِزندگی خطے کے ترقی یافتہ ممالک جیسے انڈونیشیااور ویتنام کے قریب آسکتاہے۔

Load Next Story