190 ملین پاؤنڈ کیس؛ کیا آپ عدالت پر دباؤ ڈالنا چاہتے ہیں؟ چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ وکلاء پر برہم
اسلام آباد ہائیکورٹ میں 190 ملین پاؤنڈ کیس کی سماعت کے دوران پی ٹی آئی کے وکلا کے اچانک روسٹرم پر آنے پر چیف جسٹس سرفراز ڈوگر برہم ہوگئے اور ریمارکس دیے کہ کیا آپ عدالت پر دباؤ ڈالنا چاہتے ہیں؟
ہائیکورٹ میں بانی پی ٹی آئی عمران خان اور بشریٰ بی بی کی سزا کے خلاف اپیلوں پر سماعت ہوئی، جبکہ وکالت ناموں پر دستخط نہ کرانے کے خلاف دائر توہینِ عدالت کی درخواستوں پر بھی عدالت نے سماعت کی۔
چیف جسٹس سرفراز ڈوگر اور جسٹس محمد آصف پر مشتمل بینچ نے کیس کی سماعت کی۔ بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کی جانب سے بیرسٹر سلمان صفدر جبکہ نیب کی جانب سے اسپیشل پراسیکیوٹر جاوید ارشد اور رافع مقصود عدالت میں پیش ہوئے، اڈیالہ جیل حکام بھی عدالت میں موجود تھے۔
سماعت کے آغاز پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ توہینِ عدالت کی درخواستیں اب غیر مؤثر ہو چکی ہیں کیونکہ وکالت ناموں پر دستخط ہو چکے ہیں۔ پی ٹی آئی کے وکلا کے روسٹرم پر آنے پر چیف جسٹس نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اپنی نشستوں پر بیٹھیں، کیا آپ عدالت پر دباؤ ڈالنا چاہتے ہیں؟ کیا آپ عدالت پر چڑھائی کر رہے ہیں؟
بیرسٹر سلمان صفدر نے مؤقف اختیار کیا کہ 75 روز بعد عدالتی حکم پر اپنے مؤکل سے ملاقات کرائی گئی۔ انہوں نے کہا کہ وہ عام طور پر توہینِ عدالت کی درخواستیں دائر نہیں کرتے، تاہم 15 جون کو درخواست دائر کرنا پڑی کیونکہ جیل حکام نے صرف بانی پی ٹی آئی کے وکالت نامے دیے جبکہ بشریٰ بی بی کے نہیں دیے۔
انہوں نے عدالت کو بتایا کہ آج صبح علیمہ خان اور مبشرہ خاور مانیکا کی جانب سے قیدِ تنہائی کے خلاف بھی درخواستیں دائر کی گئی ہیں، جبکہ ہائیکورٹ سے متعلق دیگر وکالت نامے تاحال فراہم نہیں کیے گئے۔ بیرسٹر سلمان صفدر نے مزید بتایا کہ سزا معطلی کی درخواستیں سپریم کورٹ میں چیلنج کر دی گئی ہیں۔
چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کیا دستخط شدہ وکالت نامے مل چکے ہیں، جس پر سلمان صفدر نے کہا کہ صرف سپریم کورٹ سے متعلق وکالت نامے ملے ہیں، ہائیکورٹ سے متعلق نہیں۔ عدالت نے ہدایت کی کہ باقی وکالت نامے بھی فراہم کر دیے جائیں گے۔
دوران سماعت ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد نوید ملک نے مؤقف اختیار کیا کہ وکالت ناموں پر 16 جون کو ہی دستخط ہو گئے تھے اور گزشتہ سماعت میں عدالت کو مکمل حقائق سے آگاہ نہیں کیا گیا۔
بعد ازاں اسلام آباد ہائیکورٹ نے بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کی توہینِ عدالت کی درخواستیں غیر مؤثر قرار دیتے ہوئے نمٹا دیں۔
سزا کے خلاف اپیلوں پر سماعت کے دوران بیرسٹر سلمان صفدر نے استدعا کی کہ چونکہ سزا معطلی کے فیصلوں کے خلاف سپریم کورٹ سے رجوع کیا جا چکا ہے، اس لیے مقدمے کی کارروائی مؤخر کی جائے۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ اگر وکیل دلائل نہیں دیتے تو عدالت نیب کو دلائل شروع کرنے کی ہدایت دے گی۔
عدالت نے نیب کو سزا کے خلاف اپیلوں پر دلائل کا آغاز کرنے کی ہدایت کر دی۔ اس موقع پر بیرسٹر گوہر اور سردار لطیف کھوسہ نے عدالت سے دو ہفتے کی مہلت طلب کی تاکہ بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کے بعد دلائل دیے جا سکیں۔
چیف جسٹس سرفراز ڈوگر نے ریمارکس دیے کہ عدالت پر دباؤ ڈالنے کی کوشش مناسب نہیں، تاہم سردار لطیف کھوسہ کی جانب سے دو ہفتوں میں مؤکل سے ملاقات کے بعد دلائل دینے کی انڈر ٹیکنگ عدالتی حکم کا حصہ بنا دی گئی۔
عدالت نے کیس کی مزید سماعت دو ہفتوں کے لیے ملتوی کر دی۔