جامعات کی خود مختاری کا مستقبل

ایک ایسی حکمرانی کا نظام جس کی سیاسی اور علمی ترجیحات میں تعلیم بہت پیچھے ہو تو اس کے بہترمستقبل کا اندازہ لگانا بہت مشکل نہیں ہے۔

salmanabidpk@gmail.com

ایک ایسی حکمرانی کا نظام جس کی سیاسی اور علمی ترجیحات میں تعلیم بہت پیچھے ہو تو اس کے بہترمستقبل کا اندازہ لگانا بہت مشکل نہیں ہے۔ کیونکہ جب ہم تعلیم سے دور ہوکر ترقی اور خوشحالی کی منازل کو طے کرنا چاہتے ہیں تو وہ ترقی کا عمل ہمیں مجموعی طور پر آگے لے کر جانے کی بجائے پیچھے کی طرف دھکیلتا ہے ۔پاکستان میں جامعات کی خود مختاری پر ہمیشہ سے سوالیہ نشان رہے ہیں ۔کیونکہ ہم بنیادی طور پر اداروں کی بالادستی اور خود مختاری کے مقابلے میں افراد یا حکمران طبقات کی بالادستی کو فوقیت دیتے ہیں ۔

یہ ہی وجہ ہے کہ یہاں اداروں کی شکل کمزور اور حکمرانی کا نظام زیادہ طاقت ور ہوگیا ہے۔ایک طرف حکومت کا دعویٰ ہے کہ اس نے ہائر ایجوکیشن کی ترقی کے لیے وفاقی اور صوبائی سطح پر ہائر ایجوکیشن کمیشن قائم کیے ہیں اور دوسری طرف ہائر ایجوکیشن کی وزارتوں سمیت مختلف طرز کے ادارے نہ صرف اعلی تعلیم کے معیارات کی بہتری پر کام کر رہے ہیں بلکہ بلاوجہ جامعات کی سطح پر وفاقی اور صوبائی حکومتوں یا اداروں کی سیاسی مداخلتوں سے بھی عملا گریز کیا جاتا ہے۔

یہ الگ بات ہے کہ پاکستان میں جامعات کی خود مختاری کے اصول کو وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی سطح پر کس حد تک قبول کیا گیاہے۔جب جامعات کی سنڈیکیٹ میں تین سرکاری ایم پی اے شامل ہونگے یا پھرجامعات کے وائس چانسلرز کو جس طریقے سے سیکریٹری ہائر ایجوکیشن کے سامنے پیش ہونا ہوتا ہے تو اس سے ان جامعات کی حقیقی خود مختاری کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ یہ جامعات اور ان کی خود مختاری کہاں کھڑی ہے۔

جامعات کی خود مختاری پر ہمیشہ سے بہت سے لوگ سوالات اٹھاتے ہیں اور وفاقی ،صوبائی ہائر ایجوکیشن کمیشن سمیت وفاقی و صوبائی حکومتوں کے کردار پر تنقید بھی کرتے ہیں ۔لیکن حکمرانوں اور فیصلہ کرنے والی بڑی طاقتوں تک ہمارے جیسے کمزور لوگوں کی آوازوں کو کوئی بھی سننے کو تیار نہیں۔ ہمارے اعلی یا ہائر ایجوکیشن سے جڑے فیصلہ ساز یا فیصلہ کن قوتیں عالمی دنیا کی جامعات سے بھی کچھ سیکھنے کے لیے تیار نہیں کہ وہ کیسے اپنی جامعات کی خود مختاری سمیت وہاںسیاسی اور ادارہ جاتی مداخلتوں کو روکتے ہیں ۔دنیا کی بڑی بڑی جامعات کا خود مختاری پرمبنی اپنا نظام ہے مگر ہم کچھ بھی سیکھنے کے لیے تیار نہیں اور اسی وجہ سے ہماری جامعات کی جہاں خود مختاری چیلنج ہورہی ہے وہیں ہماری جامعات کی عملی طور پر معیارات میں کمی بھی دیکھنے کو مل رہی ہے۔

حالیہ عالمی رینکنگ میں پہلی 350 جامعات میں ہماری کوئی جامعہ شامل نہیںہے۔اس کی دیگر وجوہات میں ایک بڑی وجہ مسلسل اعلی تعلیم کے میدان میں وفاقی اور صوبائی بجٹ میں کمی کا ہے۔حالیہ بجٹ میں بھی اعلی تعلیم میں ہم نے پچھلے برس کے مقابلے میں مالی کٹوتی کی ہے جو حکومت کی ترجیحات کو نمایاں کرتا ہے ۔جب جامعات خود مختار نہیں ہونگی اور عملا جامعات کی سطح پر وائس چانسلرز کی تقرری کے نظام میں بھی شفافیت نہیں ہوگی اور وائس چانسلرز کی تقرری میں شامل سرچ کمیٹی میں زیادہ تر لوگ سرکاری بیوروکریسی سے ہونگے یا سیاسی مداخلت ہوگی تو پھر شفافیت کا نظام متاثر ہوتا ہے ۔

پچھلے دنوں جامعات کے حوالے سے ایک خبر بھی پڑھنے کو ملی اور اس کا نوٹیفیکیشن بھی جاری ہواکہ پنجاب میں سرکاری جامعات کی ملکیت اور اراضی کو پبلک پراوئیٹ پارٹنر شپ یا شراکت داری کی نذر کرنا ہے۔اس تناظر میں حکومت پنجاب نے ایک کمیٹی بھی تیرہ ارکان پر تشکیل دی ہے جس میں چند سرکاری سیکریٹری ،کابینہ کے ارکان سمیت ارکان اسمبلی ہیں ۔دلچسپ بات یہ ہے کہ اس اہم کام میں کمیٹی میں کسی بھی سطح پر جامعات کے وائس چانسلر کو شامل نہیںکیا گیا اور ان سے میری معلومات کے مطابق یہ فیصلہ کرتے ہوئے ان سے کسی بھی سطح پر کوئی رائے لینا بھی ضروری نہیں سمجھا گیا۔پنجاب حکومت کے بقول تشکیل دی جانے والی یہ کمیٹی جامعات کے اثاثوں کو کمرشلائز کرنے کے لیے قانونی اور مالی ضروریات کو بنیاد بنا کر تجاویزکو مرتب کرے گی اور وہ سرکاری محکمہ جو نجی اور شراکت داری کا نظام چلاتا ہے۔

اس کے حوالے کرے گی۔  اسی طرح منطق یہ دی گئی ہے کہ اس وقت حکومتی جامعات عملا مالی مشکلات کا شکار ہیں اور ان فیصلوں سے ان کو ان کے پاؤں پر کھڑا کیا جاسکتا ہے ۔حکومت یہ کام پنجاب پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ ایکٹ 2025کے تحت کرنا چاہتی ہے ۔اس کام میں صوبائی وزیر خزانہ کمیٹی کی قیادت کریں گے جب کہ وزیر قانون ، وُزیر ہائر ایجوکیشن،چیرمین پلائننگ ڈولیپمنٹ بورڈ،ممبر بورڈ آف ریونیو، سیکریٹری ہائر ایجوکیشن،فناننس اور دیگر لوگ شامل ہیں۔

یہ ساری مشق ظاہر کرتی ہے کہ حکومت ایک خاص منصوبہ بندی کے تحت جامعات کے اثاثوں کے انتظامات اور استعمال میں نجی شعبہ کی بڑھتی ہوئی شمولیت کو تلاش کررہی ہے ۔اہم بات یہ ہے کہ جامعات کے اثاثے عملی طور پر سینڈیکیٹس کی ملکیت ہوتے ہیں یا ان کو ہی اصل فیصلے کا اختیار ہوتا ہے ۔اگر حکومت ایسا کرنا چاہتی ہے تو پہلے اسے اشتہار دینا ہوگا اور سنڈیکیٹ کو قانون کے مطابق منظوری یا الاٹمنٹ کرنا ہوگی۔

پنجاب یونیورسٹی اکیڈمک اسٹاف ایسوسی ایشن کے سربراہ ڈاکٹر امجد مگسی کے بقول یہ فیصلہ عملی طور پر جامعات کی خود مختاری پر براہ راست حملہ ہے ۔ان کے بقول بدقسمتی سے قانون کی مدد سے جامعات کو دی گئی خود مختاری کو آہستہ آہستہ کم یا واپس لیا جارہا ہے۔ اسی طرح کمیٹی کی سطح پر کوئی فیکلٹی ممبران کو بھی شامل نہیں کیا گیا۔وہ کہتے ہیں کہ 18ویں ترمیم کے مطابق صوبائی حکومتیں جامعات کو مالی امداد دینے کی پابند ہیں، اسی طرح حکومت کا یہ فیصلہ اس ذمے داری سے دستبرداری ہے اور اعلی تعلیم کی نجی شعبے کی شمولیت کو بڑھانے کی کوشش ہے۔

یہ سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ کیا حکومت کی طرف سے جو کمیٹی بنائی گئی ہے وہ صرف تجویز دے گی یا اس کی تجاویز حتمی فیصلہ بھی ہوگا کیونکہ ایسی کمیٹی کو کسی بھی طور پر فیصلہ کا اختیار نہیں اور اس کا اختیار سنڈیکٹ کو ہی ہونا چاہیے۔اصل میں ہمارے ہاںکافی عرصہ سے اس سوچ کو آگے بڑھایا جارہا ہے کہ پرائمری تعلیم سے لے کر اعلی تعلیم اب حکومت کا کام نہیںہے بلکہ ہمیں یہ نجی شعبوں کی مدد سے چلانا ہوگا یا اسے آوٹ سورس کرنا ہوگا۔اسی فیصلے کے تحت اسکولوں اور کالجوں کو نجی شعوں کے حوالے کیا جارہا ہے اور اب جامعات کے مالی بحران کو بنیاد بنا کر اسے بھی حکومتی سطح پر پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ ماڈل کے تحت سوچا جارہا ہے۔

بات تو یہ ہونی چاہیے کہ کیا وجہ ہے کہ تسلسل کے ساتھ پرائمری تعلیم سے لے کر ہائر ایجوکیشن کے بجٹ میں کیونکر کمی کی جارہی ہے اور کیوں ہم تعلیم پر بڑی سرمایہ کاری کرنے کے لیے تیار نہیں۔یعنی حکومت اعلی تعلیم پر سرمایہ کاری نہ کرنے کی مجرم ہے اور ذمے داری جامعات پر ڈال کر خود کو بچانا چاہتی ہے۔

حکومت جب یہ الزام لگاتی ہے کہ جامعات خود بھی مالی بحران کا شکار ہیں تو یہ فیصلہ بھی ہونا چاہیے کہ سیاسی مداخلتوں اورسیاسی تقرریوں کی بنیاد پر کس نے جامعات پر مالی بوجھ ڈالا ہے ۔یہ کہنا کہ جامعات اپنے مالی بحران کے حل کے لیے اپنی اراضی پر کاروبار کریں،دوکانیں چلائیں یا شاپنگ سینٹر بنائیں ایک مذاق لگتا ہے ۔ایسے میں تو جامعات اعلی تعلیم کم اور کاروبار پر زیادہ توجہ دیں گی اور کاروبار پر بھی حکومت کی نظریں جامعات سے زیادہ ہونگی۔اس لیے یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ ہماری وفاقی حکومت ہو یا صوبائی حکومت یااعلی تعلیم سے جڑے تمام اداروں سمیت پارلیمنٹ اور پالیسی ساز خود اعلی تعلیم کی خرابیوں کے براہ راست ذمے دار ہیں۔وائس چانسلرز کا المیہ یہ ہے کہ وہ بھی اپنی سیاسی بقا کے لیے حکومت کی مداخلت یا جامعات کی خود مختاری کو سلب کرنے کے معاملہ میں بے بس نظر آتا ہے ۔اصل میں ہمارا المیہ یہ ہے کہ ہم مجموعی طور پر اداروں کی تشکیل کے خلاف ہیں اور ہم چاہتے ہیں کہ نظام ہماری مرضی اور منشا کے مطابق چلے ۔اسی بنیاد پر تسلسل کے ساتھ جامعات کے داخلی معاملات میں حکومت اور بیوروکریسی کی سطح پر یا ارکان اسمبلی کی سطح پر مداخلت کا عمل مسلسل بڑھ رہا ہے۔لیکن جامعات ان تمام معاملات میں کافی بے بس نظر آتی ہیں یا ان کو سمجھوتوں کی طرف دکھیلا جاتا ہے ۔

ایسے لگتا ہے کہ ہمارے کچھ بڑے نجی شعبے کے لوگ بھی حکومت کی اس پالیسی کے حامی ہیں کہ تعلیم کو پرائمری سے اعلی تعلیم تک ان کے حوالے کردیا جائے اور اسے پبلک پرئیوایٹ پارٹنر شپ کا نام دیا جائے تاکہ نجی شعبہ کے کردار کو اور زیادہ مضبوطی مل سکے جو تعلیم میں ان کے کردار کو مزید بڑھاسکے۔اصل مسئلہ ہماری سیاسی جماعتوں، سول سوسائٹی اور دانشوروں سمیت پارلیمنٹ اور ممبران یا جو اہم افراد پالیسی سازی سے تعلق رکھتے ہیں ان کی عدم دلچسپی بھی دیکھنے کو مل رہی ہے ۔جو کچھ اعلی تعلیم اور جامعات کی خود مختاری کے نام پر ہورہا ہے اس پر ان کی آوازوں کا سامنے نہ آنا یا دباؤ پیدا نہ کرنا بھی بڑا المیہ ہے۔

Load Next Story