وزیراعلیٰ بلوچستان کی شہید تاجر علی مرتضیٰ کی رہائش گاہ آمد،اہلِ خانہ سے اظہار تعزیت

واقعے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتا ہوں، مہمانوں کے ساتھ ایسا گھناؤنا سلوک نہیں کیا جاتا

وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے دشت میں شہید تاجر علی مرتضیٰ جمیل کی رہائش گاہ آمد کے موقع پر اہلِ خانہ سے اظہار تعزیت کیا۔

وزیراعلی بلوچستان نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ میں اس واقعے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتا ہوں، یہ گھناؤنے انداز میں انجام دیا گیا فعل ہے۔ مہمانوں کے ساتھ ایسا سلوک نہیں کیا جاتا۔

انہوں نے کہا کہ ہم نے کل ہی اس علاقے میں ایک آپریشن کیا جس میں تین دہشت گرد اسی مقام پر جہنم واصل ہوئے، علی مرتضیٰ پاکستان کے شہید ہیں۔

شہید کے بچوں کی کفالت کی ذمہ دار بلوچستان حکومت نے اٹھائی ہے، سولہ سال کی عمر تک ان کی تمام تعلیم اور علاج کے اخراجات حکومت برداشت کرے گی۔

وزیراعلیٰ نے کہا کہ میں ابھی آواران سے آ رہا ہوں، بلوچستان میں کوئی نوگو ایریا نہیں ہے، ایک انچ ایسا نہیں جہاں ریاست کی رٹ نہ ہو۔سیکیورٹی فورسز کے لیے چیلنجز ضرور ہو سکتے ہیں۔

کسی کے ماتھے پر دہشت گرد نہیں لکھا ہوتا۔ ہمارے ہزاروں کلو میٹر کے ہائی ویز ہیں، ہزاروں لاکھوں لوگ بحفاظت پہنچ جاتے ہیں۔

سرفراز بگٹی نے کہا کہ اپنے ملک میں منفی بیانیہ دہشت گردوں کو تقویت دینے جیسا ہے۔ قوم کا بیانیہ ایسا ہونا چاہیے جس سے قوم متحد ہو، واقعے سے متعلق کچھ کہنا قبل از وقت ہے، وہ دوست کے گھر ٹھہرے تھے اور راستہ بھٹک گئے تھے۔ ہماری اسپیشل انویسٹی گیشن ٹیم تحقیقات کر رہی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ حالات کنٹرول کرنا برسوں کی بات ہے، یہ ہماری ذمہ داری ہے اور اسے سمجھتے ہیں۔ ہم لوگوں کی جان و مال کے تحفظ کے ضامن ہیں اور ہمیں اس کا ادراک ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ علی مرتضیٰ جمیل کا قتل انتہائی افسوسناک اور دل دہلا دینے والا واقعہ ہے، بلوچستان حکومت دکھ کی اس گھڑی میں مرحوم کے اہلِ خانہ کے ساتھ کھڑی ہے، علی مرتضیٰ جمیل کے قتل میں ملوث دہشت گردوں کو قانون کی گرفت میں لائیں گے۔

گورنر سندھ نہال ہاشمی  بھی شہید  تاجر علی مرتضیٰ جمیل کی رہائش گاہ گئے جہاں انہوں نے ان کے اہلِ خانہ سے اظہار تعزیت کیا۔

Load Next Story