دوحہ میں امریکی وفد سے ملاقات نہیں کریں گے، صرف قطر سے بات چیت ہو رہی ہے؛ ایران

دوحہ میں قطری حکام سے اپنے منجمد اثاثوں کی بحالی پر مذاکرات کریں گے، ترجمان ایران

منجمد اثاثوں کی واپسی اور حملوں میں ہونے والے نقصانات کا ازالہ بھی معاہدے میں شامل ہے، اسماعیل بقائی

ایران نے دوحہ میں امریکی وفد کی موجودگی کے باوجود دعویٰ کیا ہے کہ مذاکرات منجمد اثاثوں پر صرف قطری حکام سے ہو رہے ہیں۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی صدر کے مشیر خاص جیرڈ کشنر اور خصوصی ایلچی برائے مشرق وسطیٰ اسٹیو وٹکوف ثالث قطری حکام سے ایران مذاکرات پر تبادلہ خیال کر رہے ہیں۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ روز یہ دعویٰ کیا تھا کہ آج دوحہ میں ہونے والی ملاقات ایران کی درخواست پر کی جا رہی ہے جس میں ایرانی وفد وہاں موجود امریکی وفد سے بات چیت کرے گا تاہم ایران نے اس کی تردید کردی۔

ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے پریس بریفنگ میں کہا کہ ایران کی ترجیح امریکا کے ساتھ طے پانے والی مفاہمتی یادداشت پر عمل درآمد کو یقینی بنانا ہے نہ کہ نئی سیاسی بات چیت کا آغاز کرنا ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ دوحہ میں ایرانی وفد امریکا کے ساتھ نہیں بلکہ صرف اور صرف قطری حکام کے ساتھ وہ بھی منجمد ایرانی اثاثوں کی بحالی سے متعلق شق پر پیش رفت کا جائزہ لینے کے لیے بات چیت کر رہا ہے۔ 

اسماعیل بقائی نے زور دے کر کہا کہ امریکی وفد کی قطر آمد کا ایرانی وفد کے دورے سے کوئی تعلق نہیں اور آئندہ چند دنوں میں امریکی فریق کے ساتھ کسی بھی سطح پر مذاکرات کا کوئی منصوبہ نہیں ہے۔

دوسری جانب قطر کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان ماجد الانصاری نے بھی تصدیق کی کہ امریکی نمائندے اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر دوحہ میں موجود ہیں تاہم ان کی ایرانی حکام سے براہِ راست ملاقات طے نہیں۔

انھوں نے مزید بتایا کہ امریکی وفد ثالثوں سے مشاورت کرے گا جبکہ ایران کے منجمد اثاثوں کا معاملہ دونوں ممالک کے درمیان جاری عمل درآمد سے منسلک ہے۔

ادھر قطری حکام نے بتایا کہ قطر میں موجود ایران کے 6 ارب ڈالر کے منجمد فنڈز تاحال تہران منتقل نہیں کیے گئے۔ اثاثوں کی منتقلی اور استعمال کا طریقہ کار امریکا اور ایران کے درمیان جاری عمل درآمد اور باہمی اتفاق رائے سے مشروط ہے۔ 

 

Load Next Story