تارکین وطن کیلیے بڑی خوشخبری؛ امریکی عدالت نے ٹرمپ کے حکم نامے کو ہوا میں اُڑا دیا

صدر ٹرمپ نے ایگزیکیٹو آرڈر کے تحت تارکین وطن کے امریکا میں پیدا ہونے والے بچوں کو شہریت نہ دینے کا اعلان کیا تھا

امریکی صدر نے حکومت کیساتھ 10 ارب ڈالر کے مقدمے میں تصفیہ کرلیا

دوسری بار صدارت کا عہدہ سنبھالتے ہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کئی ایسے متنازع ایگزیکیٹو آرڈرز جاری کیے جن سے تارکین وطن کے لیے بڑی مشکلات کھڑی ہوگئی تھیں۔ 

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکا کی سپریم کورٹ نے 6 کے مقابلے میں 3 ووٹوں سے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا تارکین وطن سے متعلق صدارتی حکم کالعدم قرار دے دیا۔

ٹرمپ کے اس صدارتی حکم نامے کے تحت غیر قانونی یا عارضی حیثیت رکھنے والے تارکین وطن کے امریکا میں پیدا ہونے والے بچوں کو خودکار امریکی شہریت سے محروم کیا جانا تھا۔

تاہم امریکی سپریم کورٹ نے ایک تاریخی فیصلے میں قرار دیا کہ صدر ٹرمپ کا ایسا اقدام ملکی آئین کی 14ویں ترمیم سے متصادم ہے۔

نو رکنی عدالت نے 6 کے مقابلے میں 3 ووٹوں سے قرار دیا کہ امریکی آئین کی 14ویں ترمیم تقریباً ہر ایسے بچے کو شہریت کی ضمانت دیتی ہے جو امریکی سرزمین پر پیدا ہو خواہ اس کے والدین کی امیگریشن حیثیت کچھ بھی ہو۔

امریکی عدالت کے چیف جسٹس جان رابرٹس نے اکثریتی فیصلہ تحریر کرتے ہوئے کہا کہ ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے آئین کی نئی تشریح کے حق میں خاطر خواہ قانونی یا تاریخی شواہد موجود نہیں ہیں۔

انھوں نے 1898 کے تاریخی مقدمے امریکا ورسیز وی ونگ  کم آرک کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس فیصلے نے ایک صدی سے زائد عرصے سے پیدائشی شہریت کے اصول کو مضبوط قانونی بنیاد فراہم کر رکھی ہے۔

ٹرمپ انتظامیہ کا مؤقف تھا کہ 14ویں ترمیم صرف ان افراد پر لاگو ہوتی ہے جن کے والدین امریکہ سے مستقل وفاداری یا قانونی وابستگی رکھتے ہوں۔

تاہم امریکی سپریم کورٹ نے اس دلیل کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ آئین کی زبان اور گزشتہ ڈیڑھ صدی کی عدالتی نظیر اس تشریح کی تائید نہیں کرتی۔

واضح رہے کہ یہ مقدمہ ٹرمپ اُس ایگزیکٹو آرڈر کے خلاف دائر کیا گیا تھا جس میں وفاقی اداروں کو ہدایت دی گئی تھی کہ وہ غیر قانونی تارکین وطن کے امریکا میں پیدا ہونے والے بچوں کو امریکی پاسپورٹ، شہریت اور دیگر قانونی حقوق نہ دیں۔

 

Load Next Story