سیلاب متاثرین کوخوراک نہیں پہنچا پا رہےچیف سیکریٹری بلوچستان

فوجی ہیلی کاپٹرکام جاری رکھے ہوئے ہیں،زمینی راستے کھلنے تک کمی پوری نہیں ہوگی

فوجی ہیلی کاپٹرکام جاری رکھے ہوئے ہیں،زمینی راستے کھلنے تک کمی پوری نہیں ہوگی فوٹو: اے ایف پی

KARACHI:
چیف سیکریٹری بلوچستان بابرفتح محمد نے کہاہے بلوچستان کے جن علاقوں میں سیلاب کا پانی کھڑاہے۔

وہاں دن رات کی کوششوں کے باوجود بھی خوراک پہنچانے میں کامیاب نہیں ہو پارہے۔ پاک فوج کے چھ ہیلی کاپٹر اور ایک سیسنا طیارہ متاثرین کو خوراک پہنچانے کا کام جاری رکھے ہوئے ہے۔

تاہم جب تک ہم براستہ سڑک متاثرین تک نہیں پہنچیںگے غذائی کمی پوری نہیں ہوگی۔ پروگرام لائیو ود طلعت میں اینکر پرسن طلعت حسین سے گفتگو میں انھوں نے کہاکہ بائی ایئر جب ہم خوراک تقسیم کرتے ہیں تو وہ ضرورت مندوں تک نہیں پہنچ پاتی ۔


پروگرام میں اینکر پرسن نے خصوصی رپورٹ میں بلوچستان کے بڑے شہروں جعفر آباد، نصیر آباد اور جھل مگسی میں سیلابی پانی کی تباہ کاریوں کا تفصیلی جائزہ لینے کی کوشش کی۔ رپورٹ کے مطابق لاکھوں لوگ سیلاب کے باعث سڑک کے کنارے زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔

جہاں ان کو نہ تو کھانے پینے اور نہ ہی ٹینٹ کی سہولت میسر ہے ۔ضلعی انتظامیہ کے عہدیدار نے کہاکہ اس مرتبہ پچھلے ڈیڑھ سوسال کے مقابلے میں سب سے زیادہ بارشیں ہوئی ہیں ۔تین سالوں میں یہ علاقے مسلسل سیلاب سے تباہ ہورہے ہیں۔10 ستمبر کو پچیس سے تیس گھنٹے تک مسلسل بارش ہوئی اگر بائی پاس نہ ہوتا تو ڈیرہ الٰہ یار کا علاقہ بالکل ڈوب جاتا۔

اسسٹنٹ کمشنر نے کہا کہ متاثرہ علاقوں میں ریسکیو کا کوئی انتظام نہیں ہے۔ لاکھوں لوگ سیلاب میں پھنسے ہوئے ہیں۔ سیلاب سے تباہ حال عوام کے مطابق جب سے پانی نے ان کی زندگیاں تباہ کی ہیں حکومتی سطح پر کسی بھی عہدیدار نے اس طرف کا رخ نہیں کیاہے ۔

کھانے پینے کے ساتھ ساتھ علاج معالجہ کی سہولتیں بھی نہیں ہیں۔ایک متاثرہ خاتون نے بتایا کہ وہ سعودی عرب میں تھی اور شادی کے بعد پاکستان آئی ہے لیکن یہاں کے حالات اور سعودی عرب کے حالات میں بہت فرق ہے۔ اس کا کہنا تھا کہ میں نے پاکستان آکر کوئی غلطی نہیں کی لیکن یہاں کے حالات دیکھ کر دکھ ہوتا ہے۔سیلاب زدہ علاقے میںسانپ سے ڈسنے کے اب تک 352 واقعات سامنے آچکے ہیں۔
Load Next Story