ایف بی آر دو مرتبہ نظرثانی کے بعد ٹیکس وصولی کا مقررہ ہدف حاصل کرنے میں کامیاب
فوٹو: فائل
فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) مالی سال 26-2025 کے لیے دو مرتبہ نظرثانی کے بعد مقرر کردہ 12 ہزار 957 ارب روپے کا ٹیکس وصولی کا ہدف حاصل کرنے میں کامیاب ہوگیا ہے اور مالی سال کے اختتام پر عبوری خالص ٹیکس وصولی 13 ہزار ایک ارب روپے تک پہنچ گئی ہیں جبکہ حتمی اعداد وشمار موصول ہونے پر ان ٹیکس وصولیوں میں مزید اضافے کا امکان ہے۔
ایف بی آر ذرائع کے مطابق مالی سال 26-2025 کے دوران ایف بی آر کی مجموعی ٹیکس وصولی 13 ہزار ارب روپے کی حد عبور کر گئی ہیں۔
حکام کا کہنا تھا کہ سالانہ ٹیکس ہدف پہلے 14 ہزار 130 ارب روپے سے کم کرکے 12 ہزار 957 ارب روپے مقرر کیا گیا تھا، جسے کامیابی سے حاصل کر لیا گیا ہے اسی طرح جون 2026 کے لیے مقرر کردہ نظرثانی شدہ ایک ہزار 757 ارب روپے کا ہدف بھی پورا کر لیا گیا۔
ذرائع نے بتایا کہ صرف جون 2026 میں 1753 ارب کے ہدف کے مقابلے میں 1812 ارب کی ٹیکس آمدنی رہی ہے، جون 2026 میں 42 ارب روپے ریفنڈ کیے گئے جبکہ انکم ٹیکس کی مد میں 1041 ارب روپے جمع ہوئے۔
اسی طرح جون کے مہینے میں سیلز ٹیکس 510 ارب روپے، ایکسائز ڈیوٹی 95 ارب روپے اور کسٹم ڈیوٹی کی مد میں 164 ارب روپے جمع ہوئے اور ایف بی آر کی جانب سے کاروباری برادری، خصوصاً برآمد کنندگان کو سہولت فراہم کرنے کے لیے 40 ارب روپے سے زائد کے ریفنڈز بھی جاری کیے گئے۔
ایف بی آر اعداد وشمار کے مطابق انکم ٹیکس کی مد میں تقریباً 6 ہزار 578 ارب روپے، سیلز ٹیکس کی مد میں 4 ہزار 262 ارب روپے، فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی کی مد میں 840 ارب روپے اور کسٹمز ڈیوٹی کی مد میں ایک ہزار 330 ارب روپے وصول کیے گئے ہیں۔
حکام کے مطابق مالی سال 26-2025کے لیے ایف بی آر کا ٹیکس ہدف پہلے 14 ہزار 307 ارب روپے سے کم کرکے 13 ہزار 979 ارب روپے کیا گیا، جس کے نتیجے میں 328 ارب روپے کی کمی واقع ہوئی بعد ازاں اس ہدف کو مزید کم کرکے 12 ہزار 957 ارب روپے مقرر کیا گیا۔
دوسری جانب اگر ٹیکس وصولی کا تقابل 13 ہزار 979 ارب روپے کے ہدف سے کیا جائے تو مالی سال 26-2025کے دوران ایک ہزار 22 ارب روپے کا شارٹ فال بنتا ہے کیونکہ اس عرصے میں وصولی 12 ہزار 957 ارب روپے رہی ہے۔