کراچی میں 2 ستمبر تک 36 بسوں کو سڑکوں پر لایا جائے وزیر اعلیٰ
ان بسوں کو عید سے پہلے چلانا تھا مگر کچھ افسران کی نااہلی کے باعث گاڑیاں کے ایم سی ورکشاپ میں کھڑی ہیں
ان بسوں کو عید سے پہلے چلانا تھا مگر کچھ افسران کی نااہلی کے باعث گاڑیاں کے ایم سی ورکشاپ میں کھڑی ہیں۔ فوٹو: فائل
QUETTA:
وزیراعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ نے کے ایم سی کے انتظامیہ کو سختی سے ہدایت کی ہے کہ وہ 2 ستمبر 2014 کسی بھی حالت میں 36 بسوں کو سڑکوں پر لائیں۔
انھوں نے محکمہ ٹرانسپورٹ کو ہدایت کی ہے کہ یلو لائن بس سروس شروع کرنے کیلیے تمام کاروائی یکم دسمبر 2014 تک مکمل کرلیں اور کوشش کریں کہ اس بس سروس کواگلے سال 2015 تک عملی طور پر کراچی کی سڑکوں پر لایا جا سکے، انھوں نے محکمہ پلاننگ و منصوبندی کو بھی ہدایت کی کہ وہ کراچی میں گرین لائن بس سروس شروع کرنے کیلیے ایک ماہ کے اندر پی سی ون تیار کرواکر وفاق کو بھیجیں، انھوں نے محکمہ ٹرانسپورٹ کو یہ بھی ہدایت کی کہ وہ اورینج لائن بس پر عملدرآمد کیلیے فوری طور پر کارروائی شروع کریںجس کیلیے 3 ارب روپے موجودہ بجٹ میں مختص کیے گئے ہیں۔
انھوں نے کراچی اور سندھ کے دیگر ڈویژنل ہیڈکوارٹر کے درمیان 100 بسیں چلانے والے منصوبے پر بھی جلد عمل کریں،یہ ہدایات انھوں نے جمعہ کووزیراعلیٰ ہائوس میںماس ٹرانزٹ پروگرام پرعملدرآمد کرنے کیلیے ایک اجلاس کی صدارت کے دوران جاری کیں، اجلاس میں صوبائی وزیر ٹرانسپورٹ ممتاز حسین جکھرانی ،صوبائی مشیر برائے مالیات سیدمراد علی شاہ،چیف سیکریٹری سندھ سجاد سلیم ہوتیانہ، ایڈیشنل چیف سیکریٹری پلانگ و ڈولپمینٹ محمد وسیم، وزیراعلیٰ سندھ کے پرنسپل سیکریٹری علم الدین بلو، سیکریٹری ٹرانسپورٹ طحیٰ احمد فاروقی، سیکریٹری فنانس سہیل احمد راجپوت،کمشنر کراچی شعیب احمد صدیقی، کے ایم سی کے ایڈمنسٹریٹر رئوف اختر فاروقی، ڈائریکٹر کراچی ماس ٹرانزٹ سیل فضل کریم اور دیگر افسران نے شرکت کی۔
اجلاس کے دوران کے ایم سی کے متعلقہ افسران کی جانب سے پہلے کیے گئے اعلان کے مطابق بسوں کو سڑکوں پر نہ لانے پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ حکومت سندھ نے رپیئر اور ری کنڈیشنگ پر خطیر رقم خرچ کی ہے جن کو عیدالفطر سے پہلے سڑکوں پر لانا تھا لیکن کچھ افسران کی نااہلی اور معمولی بہانوں کی وجہ سے یہ بسیں جوکہ فنی طور پر بالکل تیار ہیںکئی مہینوں سے ورکشاپ پر کھڑی خراب ہو رہی ہے جبکہ دوسری طرف کراچی کے شہریوں کو سفری شدید دشواریوں کا سامنا کر رہے ہیں۔
انھوں نے افسران کو وارننگ دی کہ وہ انھیں صرف 8 دن کی مہلت دیتے ہیں اور وہ کسی بھی صورت میں 2 ستمبر تک تیار کھڑی 36 بسوں کو سڑکوں پر لائیں،انھوں نے واضح کیا کہ اگر کسی ادارے کا کوئی سیل یا یونٹ توقعات کے مطابق کام نہیں کریں گا تو اسے بند کردیا جائے گا، وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ گرین لائن بس سروس وزیراعظم پاکستان کے اعلان کے مطابق وفاق کی جانب سے 15 ارب کی لاگت سے شروع کی جا رہی ہے لیکن سندھ حکومت کو اس کی پی سی ون ایک ماہ کے اندر وفاق کے پاس جمع کرانی چاہیں تاکہ اس کو ایکنک سے پاس کرایا جا سکے۔
انھوں نے کہا کہ سندھ حکومت بھی 26 کلو میٹر کی طویل یلولائن بس سروس 12 ارب کی لاگت سے پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کے تحت شروع کر رہی ہے اور حکم کیا کہ اس پروجیکٹ کی تمام کوڈل فارمنٹیلز یکم دسمبر 2014 تک مکمل کی جائے تاکہ اگلے سال 2015 تک اس پروجیکٹ کو مکمل طور پر قابل عمل بنایا جائے، اس کے ساتھ انھوں نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ وہ اورینج بس سروس پر عملدرآمد کیلیے جلد از جلد کام شروع کردیں جس کیلیے اس سال بجٹ میں 3 ارب روپے رکھے گئے ہیں۔
وزیراعلیٰ سندھ نے ایڈیشنل چیف سیکریٹری منصوبہ بندی کو ہدایت دی کہ وہ کے سی آر پروجیکٹ پر عملدرآمد کرنے یا اس کے متبادل پروجیکٹ تیار کرنے کے سلسلے میں وفاق سے رابطہ کریں، تاکہ اس معاملے کو جلد سے جلد نمٹایاجا سکے، اجلاس میں وزیراعلیٰ سندھ کو سیکریٹری ٹرانسپورٹ کی جانب سے انٹر سٹی بس پروجیکٹ کے مطابق دی گئی۔
وزیراعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ نے کے ایم سی کے انتظامیہ کو سختی سے ہدایت کی ہے کہ وہ 2 ستمبر 2014 کسی بھی حالت میں 36 بسوں کو سڑکوں پر لائیں۔
انھوں نے محکمہ ٹرانسپورٹ کو ہدایت کی ہے کہ یلو لائن بس سروس شروع کرنے کیلیے تمام کاروائی یکم دسمبر 2014 تک مکمل کرلیں اور کوشش کریں کہ اس بس سروس کواگلے سال 2015 تک عملی طور پر کراچی کی سڑکوں پر لایا جا سکے، انھوں نے محکمہ پلاننگ و منصوبندی کو بھی ہدایت کی کہ وہ کراچی میں گرین لائن بس سروس شروع کرنے کیلیے ایک ماہ کے اندر پی سی ون تیار کرواکر وفاق کو بھیجیں، انھوں نے محکمہ ٹرانسپورٹ کو یہ بھی ہدایت کی کہ وہ اورینج لائن بس پر عملدرآمد کیلیے فوری طور پر کارروائی شروع کریںجس کیلیے 3 ارب روپے موجودہ بجٹ میں مختص کیے گئے ہیں۔
انھوں نے کراچی اور سندھ کے دیگر ڈویژنل ہیڈکوارٹر کے درمیان 100 بسیں چلانے والے منصوبے پر بھی جلد عمل کریں،یہ ہدایات انھوں نے جمعہ کووزیراعلیٰ ہائوس میںماس ٹرانزٹ پروگرام پرعملدرآمد کرنے کیلیے ایک اجلاس کی صدارت کے دوران جاری کیں، اجلاس میں صوبائی وزیر ٹرانسپورٹ ممتاز حسین جکھرانی ،صوبائی مشیر برائے مالیات سیدمراد علی شاہ،چیف سیکریٹری سندھ سجاد سلیم ہوتیانہ، ایڈیشنل چیف سیکریٹری پلانگ و ڈولپمینٹ محمد وسیم، وزیراعلیٰ سندھ کے پرنسپل سیکریٹری علم الدین بلو، سیکریٹری ٹرانسپورٹ طحیٰ احمد فاروقی، سیکریٹری فنانس سہیل احمد راجپوت،کمشنر کراچی شعیب احمد صدیقی، کے ایم سی کے ایڈمنسٹریٹر رئوف اختر فاروقی، ڈائریکٹر کراچی ماس ٹرانزٹ سیل فضل کریم اور دیگر افسران نے شرکت کی۔
اجلاس کے دوران کے ایم سی کے متعلقہ افسران کی جانب سے پہلے کیے گئے اعلان کے مطابق بسوں کو سڑکوں پر نہ لانے پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ حکومت سندھ نے رپیئر اور ری کنڈیشنگ پر خطیر رقم خرچ کی ہے جن کو عیدالفطر سے پہلے سڑکوں پر لانا تھا لیکن کچھ افسران کی نااہلی اور معمولی بہانوں کی وجہ سے یہ بسیں جوکہ فنی طور پر بالکل تیار ہیںکئی مہینوں سے ورکشاپ پر کھڑی خراب ہو رہی ہے جبکہ دوسری طرف کراچی کے شہریوں کو سفری شدید دشواریوں کا سامنا کر رہے ہیں۔
انھوں نے افسران کو وارننگ دی کہ وہ انھیں صرف 8 دن کی مہلت دیتے ہیں اور وہ کسی بھی صورت میں 2 ستمبر تک تیار کھڑی 36 بسوں کو سڑکوں پر لائیں،انھوں نے واضح کیا کہ اگر کسی ادارے کا کوئی سیل یا یونٹ توقعات کے مطابق کام نہیں کریں گا تو اسے بند کردیا جائے گا، وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ گرین لائن بس سروس وزیراعظم پاکستان کے اعلان کے مطابق وفاق کی جانب سے 15 ارب کی لاگت سے شروع کی جا رہی ہے لیکن سندھ حکومت کو اس کی پی سی ون ایک ماہ کے اندر وفاق کے پاس جمع کرانی چاہیں تاکہ اس کو ایکنک سے پاس کرایا جا سکے۔
انھوں نے کہا کہ سندھ حکومت بھی 26 کلو میٹر کی طویل یلولائن بس سروس 12 ارب کی لاگت سے پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کے تحت شروع کر رہی ہے اور حکم کیا کہ اس پروجیکٹ کی تمام کوڈل فارمنٹیلز یکم دسمبر 2014 تک مکمل کی جائے تاکہ اگلے سال 2015 تک اس پروجیکٹ کو مکمل طور پر قابل عمل بنایا جائے، اس کے ساتھ انھوں نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ وہ اورینج بس سروس پر عملدرآمد کیلیے جلد از جلد کام شروع کردیں جس کیلیے اس سال بجٹ میں 3 ارب روپے رکھے گئے ہیں۔
وزیراعلیٰ سندھ نے ایڈیشنل چیف سیکریٹری منصوبہ بندی کو ہدایت دی کہ وہ کے سی آر پروجیکٹ پر عملدرآمد کرنے یا اس کے متبادل پروجیکٹ تیار کرنے کے سلسلے میں وفاق سے رابطہ کریں، تاکہ اس معاملے کو جلد سے جلد نمٹایاجا سکے، اجلاس میں وزیراعلیٰ سندھ کو سیکریٹری ٹرانسپورٹ کی جانب سے انٹر سٹی بس پروجیکٹ کے مطابق دی گئی۔