روس کے یوکرین پر حملے میں ہلاکتیں 20 ہوگئیں؛ 50 سے زائد زخمی
روس کے یوکرین کے دارالحکومت پر حملے میں 56 افراد زخمی ہوگئے
یوکرین کے دارالحکومت کیف پر روس کے رات بھر جاری رہنے والے بڑے ڈرون اور میزائل حملے میں ہلاکتوں کی تعداد بڑھ کر 20 ہوگئی جبکہ 56 سے زائد افراد زخمی ہیں۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق روس نے یوکرین کے دارالحکومت میں رات بھر بیلسٹک اور کروز میزائلوں کے ساتھ سیکڑوں ڈرون داغے۔ متعدد رہائشی عمارتیں، ہوٹل، اسپتالوں، کاروباری مراکز اور دیگر شہری تنصیبات شدید متاثر ہوئیں۔
روسی حملے میں 9 منزلہ رہائشی عمارت کا بڑا حصہ منہدم ہوگیا جہاں ریسکیو اہلکار ملبہ ہٹا کر زندہ بچ جانے والوں کی تلاش جاری رکھے ہوئے ہیں۔ لاشیں ملنے کا سلسلہ جاری ہے جس سے ہلاکتوں میں اضافہ ہوا۔
یوکرینی صدر وولودیمیر زیلنسکی نے حملے کو دہشت کی ایک اور رات قرار دیتے ہوئے کہا کہ روس نے 70 سے زائد میزائل اور تقریباً 500 ڈرون استعمال کیے۔
انھوں نے مزید کہا کہ مغربی اتحادیوں سے فوری طور پر مزید فضائی دفاعی نظام، خصوصاً پیٹریاٹ میزائل فراہم کرنے کی اپیل کی تاکہ روسی بیلسٹک حملوں کا مؤثر جواب دیا جا سکے۔
دوسری جانب روسی وزارتِ دفاع نے دعویٰ کیا کہ حملوں کا ہدف یوکرین کی فوجی، دفاعی اور توانائی سے متعلق تنصیبات تھیں اور یہ کارروائی روسی علاقوں میں یوکرین کے حالیہ ڈرون حملوں کے جواب میں کی گئی۔
تاہم یوکرینی حکام کا کہنا ہے کہ زیادہ تر حملے رہائشی علاقوں اور شہری انفراسٹرکچر پر کیے گئے، جس سے بڑی تعداد میں عام شہری متاثر ہوئے۔ حملے کے بعد کیف میں جمعہ کو یومِ سوگ منانے کا اعلان کیا گیا۔
برطانیہ، جرمنی اور یورپی یونین سمیت کئی مغربی ممالک نے روسی حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے یوکرین کے لیے دفاعی تعاون بڑھانے اور روس پر مزید پابندیوں کی ضرورت پر زور دیا ہے۔