غیر ملکی کرنسی میں ڈپازٹس پاکستان کے لیے قیمتی اثاثہ
پاکستان میں معاشی بحث زیادہ تر برآمدات، بیرونی قرضوں اور ادائیگیوں کے حوالے سے ہوتی ہے، تاہم ملکی مالیاتی ڈھانچے کا ایک اہم پہلو ایسا بھی ہے جس پر نسبتاً کم توجہ دی جاتی ہے اور وہ ہے مقامی بینکاری نظام میں موجود غیرملکی کرنسی ڈپازٹس۔
ایسی معیشت میں جہاں زرمبادلہ کی شرح میں اتار چڑھاؤ اور بیرونی مالی دباؤ اکثر موجود رہتا ہے، یہ ڈپازٹس مخصوص بینکنگ پروڈکٹ نہیں بلکہ ایک قیمتی اثاثہ ہیں۔ اگر انہیں موثر انداز میں استعمال کیا جائے تو یہ پاکستان کے مالیاتی نظام کے لیے مستحکم اور قابل اعتماد ستون ثابت ہوسکتے ہیں۔ غیر ملکی کرنسی کی اہمیت پوری طرح واضح ہے۔
پاکستان نے مالی سال 2024-25 میں 38.3 ارب ڈالر کی ترسیلات زر ریکارڈ کیں جو اب تک کی بلند ترین سطح ہے۔ یہ اعداد و شمار اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ پاکستان اور دنیا بھر میں مقیم پاکستانیوں کے درمیان مالی تعلق مستحکم اور دیرپا ہے۔ 2025-26 کی پہلی ششماہی میں 19.7 ارب ڈالر موصول ہوئے جبکہ دسمبر 2025 میں 3.6ارب ڈالرز تک اوورسیز پاکستانیوں نے بھیجے۔ جو اس حقیقت کو اجاگر کرتے ہیں کہ ہر سال باضابطہ ذرائع سے بڑے پیمانے پر زرمبادلہ پاکستان آرہے ہیں اور یہ رقوم ملکی مالیاتی نظام کے لیے بڑی اہمیت کی حامل ہیں۔
غیر ملکی کرنسی ڈپازٹس پاکستان کے ریگولیٹڈ بینکاری نظام میں لیکویڈیٹی بڑھانے اور مالی استحکام میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ جب یہ ملکی بینکوں میں رکھے جاتے ہیں تو یہ رسمی مارکیٹ میں زرمبادلہ کی دستیابی بڑھاتے ہیں جس سے شرح مبادلہ کو سہارا ملتا ہے اور معیشت کا مہنگے قلیل مدتی بیرونی قرضوں پر انحصار کو کم ہوجاتا ہے۔ پورٹ فولیو سرمایہ کاری کے برعکس، جو عالمی مالیات کی بے یقینی کے دوران تیزی سے واپس نکل سکتی ہے، اوورسیز پاکستانیوں، برآمد کنندگان اور بین الاقوامی روابط رکھنے والے کاروباری اداروں کے ڈپازٹس عموماً تعلق اور اعتماد پر مبنی ہوتے ہیں، اس لیے اس نوعیت کے ڈپازٹس زیادہ پائیدار اور مستحکم ہوتے ہیں۔
عالمی تجارت سے وابستہ کاروباری اداروں کے لیے غیرملکی کرنسی اکاؤنٹس مالی فوائد فراہم کرتے ہیں جس کے ذریعے درآمد اور برآمدکنندگان بین الاقوامی لین دین کو موثر انداز میں انجام دیتے ہیں، بار بار کرنسی تبدیلی کی لاگت کم ہوجاتی ہے اور سرحد پار ادائیگیوں کی بہتر منصوبہ بندی بھی ممکن ہوتی ہے۔ سروس ایکسپورٹرز اور بین الاقوامی روابط رکھنے والے ادارے بھی اس سہولت سے فائدہ اٹھاتے ہیں اور اپنی غیرملکی آمدن کو براہِ راست پاکستان کے ریگولیٹڈ بینکاری نظام کے اندر محفوظ رکھ کر ضرورت کے مطابق استعمال کرتے ہیں۔
افراد، خصوصاً اوورسیز پاکستانیوں کے لیے غیرملکی کرنسی اکاؤنٹس کا ایک اہم پہلو مالی تعلق کا تسلسل بھی ہے۔ یہ اکاؤنٹس بیرون ملک پاکستانیوں کی بچتوں کو عالمی سطح پر تسلیم شدہ کرنسیوں میں رکھنے کی سہولت فراہم کرتے ہیں۔ اس طرح وہ ملکی بینکاری نظام سے جڑے رہتے ہیں۔ دیگر اداروں کی طرح فیصل بینک جیسے ادارے اس تعلق کو مزید مضبوط بناتے ہوئے اوورسیز صارفین کے لیے غیرملکی کرنسی بینکاری حل فراہم کر رہے ہیں تاکہ بیرون ملک مقیم پاکستانی اپنے مالی معاملات کی انجام دہی آسانی، اعتماد اور سہولت کے ساتھ کرسکیں۔غیرملکی کرنسی ڈپازٹس کی طویل المدتی افادیت صرف ان کی دستیابی تک محدود نہیں بلکہ ان کے عملی استعمال پر منحصر ہوتی ہے۔ تاریخی طور پر پاکستان میں ایسے اکاؤنٹس اکثر غیرفعال اکاؤنٹس کے طور پر استعمال ہوتے رہے ہیں، جہاں ڈپازٹرز کو غیر ملکی کرنسی میں رقوم محفوظ رکھنے کی سہولت تو حاصل ہوتی ہے لیکن روزمرہ مالی لین دین اور عملی استعمال کے مواقع محدود ہوتے ہیں۔
آج ڈیجیٹل طور پر منسلک مالیاتی نظام میں یہ ماڈل تیزی سے پرانا ہوتا جا رہا ہے۔ صارفین توقع رکھتے ہیں کہ غیرملکی کرنسی اکاؤنٹس صرف پیسے جمع کرنے کا ذریعہ نہ ہوں، بلکہ ایسے فعال مالی ذرائع کے طور پر کام کریں جو بین الاقوامی ادائیگیوں، ڈیجیٹل رسائی اور سرحد پار لین دین کو بغیر کسی رکاوٹ کے موثر انداز میں انجام دے سکیں۔
مستقبل کو مدنظر رکھنے والے بینک اس تبدیلی کا ادراک کرتے ہوئے اس سمت عملی اقدامات کر رہے ہیں۔ مثال کے طور پر فیصل بینک نے جدید بینکنگ خصوصیات کو شامل کرکے غیرملکی کرنسی اکاؤنٹس کے عملی استعمال کو بہتر بنایا ہے تاکہ صارفین اپنے فنڈز تک آسانی سے رسائی کرسکیں اور انہیں مؤثر انداز میں استعمال کرسکیں۔ اس سلسلے میں ایک اہم پیشرفت غیرملکی کرنسی ڈیبٹ کارڈز کا اجرا ہے، جو براہِ راست FCY اکاؤنٹس سے منسلک ہوتے ہیں اور بین الاقوامی ادائیگیوں، رقم نکالنے اور بیرون ملک اخراجات کے بہتر انتظام کو ممکن بناتے ہیں۔
یہ اقدامات روایتی پراڈکٹ اَپ گریڈیشن نہیں بلکہ بنیادی تبدیلی کی نمائندگی کرتے ہیں۔ صارفین کو روزمرہ لین دین کے لیے اپنے غیرملکی کرنسی ڈپازٹس کو فعال طور پر استعمال کرنے کے قابل بناکر بینک ان اکاؤنٹس کو غیرفعال بیلنس سے ایک متحرک اور موثر مالی ذریعہ میں تبدیل کررہے ہیں۔ یہ تبدیلی خاص طور پر اس لیے اہم ہے کہ اس سے ڈپازٹرز کو ترغیب ملتی ہے کہ وہ اپنے فنڈز آف شور اکاؤنٹس میں منتقل کرنے کے بجائے پاکستان کے رسمی اور ریگولیٹڈ مالیاتی نظام میں ہی رکھیں۔ ایسے اقدامات کے ذریعے فیصل بینک سمیت دیگر مختلف ادارے یہ ثابت کر رہے ہیں کہ صارفین پر مبنی مالیاتی جدت نہ صرف بینکاری سہولت کو بہتر بناسکتی ہے بلکہ وسیع تر قومی مالیاتی مقاصد کے حصول میں بھی معاون ثابت ہوسکتی ہے۔ جب غیرملکی کرنسی اکاؤنٹس تک رسائی، ان کا انتظام اور استعمال آسان ہو ہوگا تو اس سے صارفین کا اعتماد بڑھے گا اور رسمی بینکاری نظام کے ساتھ ان کی وابستگی مزید مستحکم ہوجائے گی۔
وسیع تر تناظر میں یہ بات بالکل واضح ہے کہ غیرملکی کرنسی ڈپازٹس کو معاشی دباؤ کے دوران عارضی سہارا نہیں سمجھنا چاہیے، بلکہ یہ ایک اسٹریٹجک قومی اثاثہ ہیں جو لیکویڈیٹی کو مضبوط بنانے، مالی اعتماد کو فروغ دینے اور اوورسیز پاکستانیوں کے ساتھ مالی روابط کو مستحکم کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
اس صلاحیت کو حقیقت میں تبدیل کرنے کے لیے مستحکم ریگولیٹری ماحول کے ساتھ ساتھ بینکاری شعبے میں جدت کی بھی ضرورت ہوگی۔ جیسے جیسے بینک غیرملکی کرنسی اکاؤنٹس کی فعالیت کو ڈیجیٹل پلیٹ فارمز، جدید ادائیگی کے حل اور صارف مرکوز خدمات کے ذریعے وسعت دے رہے ہیں وہ اس بات کو یقینی بنا رہے ہیں کہ ہر سال پاکستان میں آنے والا زر مبادلہ صرف وقتی سہارا نہ ہو بلکہ دیرپا مالی استحکام کا ذریعہ بنے۔ فیصل بینک جیسے ادارے یہ ثابت کررہے ہیں کہ بینکاری شعبہ اس تبدیلی میں کس طرح مثبت اور تعمیری کردار ادا کرسکتا ہے۔ غیرملکی کرنسی اکاؤنٹس کو غیرفعال ذخائر کے بجائے عملی مالیاتی ذریعہ بناکر مالیاتی صنعت ترسیلات زر کی آمد کو پاکستان کے اقتصادی مستقبل پر پائیدار اعتماد میں تبدیل کرسکتے ہیں۔
نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔
اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 800 سے 1,200 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ blog@express.com.pk پر ای میل کردیجیے۔