آر ڈی اے میگا مالیاتی اسکینڈل میں بڑی پیشرفت، پلی بارگین کے ذریعے ساڑھے 3ارب روپے ریکور کرلیے

سیکیورٹی ڈپازٹ اکاؤنٹس سے بھی کروڑوں روپے کی مبینہ خردبرد کا انکشاف ہوا تھا

راولپنڈی ڈویلپمنٹ اتھارٹی (آر ڈی اے) کے میگا مالیاتی اسکینڈل میں اہم پیشرفت سامنے آئی ہے۔ آر ڈی اے نے قومی احتساب بیورو (نیب) کے تعاون سے پلی بارگین، کال ڈپازٹ رسیدوں (CDRs) اور جائیدادوں کی منتقلی کے ذریعے اب تک ساڑھے 3 ارب روپے سے زائد کی ریکوری کر لی ہے۔

ذرائع کے مطابق اسکینڈل میں آر ڈی اے کے اکاؤنٹ سے سی ڈی آرز کے ذریعے ایک ارب 94 کروڑ روپے مختلف کمپنیوں اور افراد کے اکاؤنٹس میں منتقل کیے گئے تھے، جبکہ سیکیورٹی ڈپازٹ اکاؤنٹس سے بھی کروڑوں روپے کی مبینہ خردبرد کا انکشاف ہوا تھا۔

تحقیقات کے دوران معلوم ہوا کہ 84 غیر کیش شدہ سی ڈی آرز جن کی مجموعی مالیت ایک ارب 291 ملین روپے تھی، انہیں ایک نئی سی ڈی آر میں تبدیل کرکے آر ڈی اے کے سرکاری بینک اکاؤنٹ میں منتقل کر دیا گیا۔

اسی طرح آر ڈی اے کے سابق ڈپٹی ڈائریکٹر فنانس کے ڈرائیور راجا ارسلان اور آر ڈی اے کے اسٹینوگرافر راجا جہانگیر نے، جن کے اکاؤنٹس میں رقوم منتقل ہوئی تھیں، مجموعی طور پر 129 ملین روپے کی پلی بارگین کر لی ہے۔ متعلقہ رقم عدالت میں جمع کروا دی گئی ہے، جسے عدالتی کارروائی مکمل ہونے کے بعد آر ڈی اے کے اکاؤنٹ میں منتقل کیا جائے گا۔

ذرائع کے مطابق افضال احمد کی کمپنی کو منتقل کی گئی رقوم کے عوض ان کے سسر ضیا احمد مجید کی 8 کنال 4 مرلہ اراضی جبکہ ان کے بھائی ذکا احمد مجید کی 18 کنال 8 مرلہ اراضی آر ڈی اے کے نام منتقل کر دی گئی ہے۔

اس کے علاوہ جن افراد کے اکاؤنٹس میں رقوم منتقل کی گئی تھیں، ان کی ملکیت 31 جائیدادیں بھی منجمد کر دی گئی ہیں، جن کی تخمینی مالیت 2 ارب 30 کروڑ روپے بتائی جا رہی ہے، جبکہ ان جائیدادوں پر ریسیور بھی مقرر کر دیا گیا ہے۔

دوسری جانب آر ڈی اے کے کنٹریکٹرز کے سیکیورٹی ڈپازٹ اکاؤنٹ سے مبینہ خردبرد اور متعلقہ ریکارڈ کی عدم دستیابی پر آر ڈی اے نے الگ فیکٹ فائنڈنگ انکوائری کمیٹی تشکیل دے دی ہے۔ کمیٹی نے رقوم کی منتقلی اور بینک ٹرانزیکشنز کی مکمل جانچ کے لیے ایک آڈٹ فرم کی خدمات بھی حاصل کر لی ہیں۔

واضح رہے کہ مئی 2025 میں یہ مالیاتی اسکینڈل منظر عام پر آنے کے بعد چیف سیکریٹری پنجاب نے ایک اعلیٰ سطحی فیکٹ فائنڈنگ انکوائری کمیٹی قائم کی تھی، جسے مالی بے ضابطگیوں، ذمہ داران اور نظامی خامیوں کا تعین کرکے جامع رپورٹ پیش کرنا تھی، تاہم ایک سال گزرنے کے باوجود کمیٹی کی رپورٹ تاحال سامنے نہیں آ سکی۔

اس اسکینڈل کے دوران آر ڈی اے کے سابق ڈپٹی ڈائریکٹر فنانس اور اس وقت کے ڈی جی پی ایچ اے سیالکوٹ جنید تاج کی 13 مئی 2025 کو سیالکوٹ میں پراسرار موت بھی سامنے آئی تھی، جسے ابتدائی طور پر خودکشی قرار دیا گیا، تاہم اہل خانہ نے اسے قتل قرار دیتے ہوئے مقدمہ درج کرا رکھا ہے، جس کی تحقیقات جاری ہیں۔

Load Next Story