شہید علی خامنہ ای کی نمازِ جنازہ کون پڑھائے گا؟ کیا مجتبیٰ خامنہ ای شریک ہوں گے؟

ایران میں شہید علی خامنہ ای کی تجہیز و تکفین کا آغاز ہوگیا اور انھیں 9 جولائی کو مشہد میں سپرد خاک کیا جائے گا

ایران کے سب سے بڑے مذہبی اور ثقافتی مرکز ’جامع امام خمینی مصلیٰ‘ میں ہزاروں سوگواروں کی موجودگی میں علی خامنہ ای اور ان کے ساتھیوں کی میتیں پہنچا دی گئیں۔

ابھی یہ واضح نہیں کہ آیا شہید آیت اللہ علی خامنہ ای کے بیٹے اور موجودہ سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای اپنے والد کی تدفین کی تقریب میں شرکت کریں گے یا نہیں۔

خیال رہے کہ 28 فروری کو امریکی اور اسرائیلی حملے میں ایران کے رہبرِ اعلیٰ کے علاوہ ان کے خاندان کے کئی دیگر افراد جیسے ان کے داماد، ایک پوتا، ایک بیٹی اور مجتبیٰ خامنہ ای کی اہلیہ بھی شہید ہوگئی تھیں۔

حال ہی میں علی خامنہ ای کی اہلیہ کے بھائی حسن خجستہ باقر زادہ نے ایک ٹی وی پروگرام میں عوام سے رہبر کی دوسری بیٹی کے لیے دعا کی اپیل کی جو ان کے بقول گویا صحرا میں تنہا پڑی ہوئی ہیں تاہم انھوں نے ان کی طبیعت اور حالت زار کے بارے میں مزید تفصیلات نہیں بتائیں۔

شیعہ روایات بالخصوص مراجعِ تقلید کے حلقوں میں، نمازِ میت پڑھانے والے شخص کا انتخاب محض مذہبی نہیں بلکہ علامتی اور سیاسی اہمیت بھی رکھتا ہے۔

ابھی یہ واضح نہیں ہے کہ شہید آیت اللہ خامنہ ای کی نماز جنازہ کون پڑھائے گا تاہم موجودہ سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کئی ماہ کی غیر حاضری کے بعد عوامی منظر پر آتے ہیں تو منظر ہی کچھ اور ہوگا۔

اگر مجتبیٰ خامنہ ای اپنے شہید والد کی نمازِ جنازہ کی امامت کرتے ہیں تو اس کے مختلف سیاسی معانی اخذ کیے جا سکتے ہیں اور اس کا ایران کے سیاسی مستقبل پر بھی گہرا اثر پڑے گا۔

اب تک شہید رہبر اعلیٰ علی خامنہ ای کی وصیت بھی سامنے نہیں لائی گئی ہے جس میں ممکنہ طور پر جانشین اور نماز جنازہ پڑھانے والے امام کا نام بھی ہوسکتا ہے۔

اس حوالے سے مشہد کے امامِ جمعہ احمد علم الہدیٰ نے بتایا تھا کہ شہید رہبر معظم کی وصیت ان کے بیٹوں کے پاس ہے جو منظرعام پر نہیں لائی گئی۔

خیال رہے کہ شہید خامنہ ای کی تجہیز و تکفین کے شیڈول کے آغاز سے دو روز قبل اسرائیل نے ایرانی قیادت کو قتل کرنے کی دھمکی بھی دی ہے۔ 

جس سے یہ تاثر گیا ہے کہ اسرائیل نماز جنازہ کو نشانہ بناسکتا ہے جیسا کہ وہ حزب اللہ کے رہنماؤں کے تدفین پر بھی کرچکا ہے۔

یہی وجہ ہے کہ ایرانی عوام، قیادت اور علما کی شدید خواہش کے باوجود موجودہ سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کی اپنے والد کے نماز جنازہ میں شرکت غیریقینی ہے۔ 

گزشتہ روز بھی بھارت میں ایرانی سپریم لیڈر کے نمائندے نے انڈیا ٹوڈے کو انٹرویو میں کہا تھا کہ سیکیورٹی خدشات کے باعث مجتبیٰ خامنہ ای کی اپنے والد کے نماز جنازہ میں شرکت ممکن نہیں۔

 

Load Next Story