1870ء کا سیاہ قانون

بنیادی انسانی حقوق کا تصور برصغیر ہندوستان میں انگریز دور میں آیا۔ ایسٹ انڈیا کمپنی نے ہندوستانی معاشرے میں بنیادی اصلاحات کیں۔

بنیادی انسانی حقوق کا تصور برصغیر ہندوستان میں انگریز دور میں آیا۔ ایسٹ انڈیا کمپنی نے ہندوستانی معاشرے میں بنیادی اصلاحات کیں۔ کمپنی نے جدید تعلیمی نظام نافذ کیا۔ نیا عدالتی اور انتظامی نظام وجود میں آیا، 1861ء میں پہلا پولیس ایکٹ نافذ کیا گیا۔

اس ایکٹ کے تحت کسی فرد کی گرفتاری کے لیے ایف آئی آر کا درج ہونا لازمی قرار دیا گیا۔ اس کے ساتھ کسی شخص کی گرفتاری اور کسی رہائش گاہ یا کام کی جگہ کی تلاشی کے لیے مجسٹریٹ کے جاری کردہ وارنٹ کا دکھانا ضروری قرار پایا۔ کسی بھی جرم میں گرفتار ہونے والے فرد کو 24 گھنٹوں کے دوران عدالت میں پیش کرنا بھی لازمی قرار دیا گیا۔ اس قانون کے تحت تھانے کے ایس ایچ او کے اختیارات کا تعین ہوا اور پولیس اہلکاروں کی آمدورفت کا ریکارڈ رکھنا، پولیس والوں کے دیے جانے والے اسلحہ اور کارتوس کا ریکارڈ رکھنا بھی ضروری قرار دیا گیا۔ یہ وہ بنیادی حقوق تھے جن سے عام ہندوستانی کو کچھ تحفظ ملا۔ کمپنی کی حکومت کی اصلاحات کی بناء پر ہندوستانی معاشرے میں تبدیلیاں آنے لگیں۔

مقامی زبانوں میں اخبارات شائع ہونے لگے اور ان اخبارات نے ہندوستانی شہریوں کو 1857ء کی جنگ آزادی کی ناکامی سے پیدا ہونے والی مایوسی سے نکلنے کا راستہ دکھایا۔ انگریزی تعلیم حاصل کرنے والے نوجوانوں نے برطانیہ سے آنے والے انگریزی اخبارات اور کتابوں کا مطالعہ شروع کیا اور کہیں کہیں یہ سوالات سنائی دیے جانے لگے کہ ہندوستانی عوام کو ہندوستان پر بالادستی حاصل نہیں ہے۔ انگریز حکومت نے ہندوستانی شہریوں میں پیدا ہونے والی بے چینی کو سونگھ لیا اور 1870ء میں انڈین پینل کوڈ کے تحت دفعہ 124-A نافذ کی۔ اس شق کے تحت حکومت کے خلاف نفرت آمیز تقریر اور تحریر کو فوجداری جرم قرار دیا گیا اور حکومت کو کسی بھی تنظیم کو غیر قانونی قرار دینے کا اختیار حاصل ہوگیا۔ اس قانون کے تحت قوم پرست رہنماؤں بال رنگا دھرتلک اور مہاتما گاندھی کو نظربند کیا گیا۔

انگریز حکومت کے لیے یہ قانون انگریز راج کے منحرفین کو کچلنے کا سب سے موثر ہتھیار تھا۔ انڈین پریس ایکٹ کے تحت اخبارات کی آزادی کو ختم کرنے کے لیے نئی پابندیاں عائد کردی گئیں۔ نئی صدی کے آغاز پر کانگریس، کمیونسٹ پارٹی اور مزدور کسان تنظیموں نے انگریز راج کے خاتمے کے لیے کئی تحریکیں چلائیں۔ کانگریس اور مسلم لیگ خلافت تحریک میں شامل ہوگئیں اور کانگریس عدم تعاون کی تحریک چلائی۔ انگریز حکومت نے ایک اور سیاہ قانون رولٹ ایکٹ نافذ کیا۔ اس قانون کے تحت بغیر وارنٹ کسی فرد کی گرفتاری کی اجازت کے علاوہ آزادئ اظہار، آزادئ صحافت اور اجتماع کی آزادی پر سخت پابندیاں عائد کی گئیں۔

 پاکستان کے بانی بیرسٹر محمد علی جناح نے رولٹ ایکٹ کو سیاہ قانون قرار دیتے ہوئے اس قانون کی منسوخی کا مطالبہ کیا تھا ۔انگریز تو ہندوستان سے چلا گیا مگر نئے ملک پاکستان میں یہ قوانین نافذ رہے۔ برسر اقتدار حکومتوں نے ان قوانین کے عنوان تو تبدیل کیے مگر ان قوانین کی بعض شقوں پر عملدرآمد ہوتا ہے۔ 1973ء کے آئین کے انسانی حقوق کے باب میں بنیادی انسانی حقوق کو مکمل تحفظ فراہم کیا گیا۔

پنجاب کی حکومت کے Habitual Offenders and Anti-Social Behaviour Bill, 2026 کے مطابق، ہر ضلع میں ایک انٹیلی جنس کمیٹی تشکیل دی جائے گی جس کی سربراہی ڈپٹی کمشنر، اسپیشل برانچ، قانون نافذ کرنے والے (DPO/CPO) کرے گا جب کہ اس میں ضلع پولیس افسر، اداروں اور دیگر متعلقہ سرکاری اداروں کے نمائندگان شامل ہوں گے۔ یہی کمیٹی یہ تعین کرے گی کہ Anti-Social یاغیر سماجی رویوں (Habitual Offender)یا کوئی شخص عادی مجرم کا مرتکب ہے یا نہیں۔ یہ کمیٹی نہ صرف افراد کی نگرانی کرے گی بلکہ ان کے Behaviour کے خلاف الیکٹرانک مانیٹرنگ، سفری پابندیوں، بینک اکاؤنٹس منجمد کرنے، سوشل میڈیا اکاؤنٹس کی بندش اور دیگر انتظامی اقامات کی سفارش بھی کرسکے گی۔

ناقدین کے مطابق، چونکہ اس کمیٹی میں عدلیہ کی براہ راست نمائندگی شامل نہیں ہے اور اس کے فیصلے بڑی حد تک انتظامی و انٹیلی جنس بنیادوں پر ہوں گے، جو کسی بھی شہری کے بنیادی آئینی حقوق کو پامال کرنے کے مترادف ہوں گے۔ حکومت کے مطابق اس بل کا مقصد عادی مجرموں، منظم جرائم، لینڈ مافیا، منشیات فروشوں اور دیگر سماج دشمن عناصر کی سرگرمیوں کو روکنا ہے۔ تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ اس قانون میں دیے گئے اختیارات اتنے وسیع اور مبہم ہیں کہ یہ عام شہریوں کے بنیادی حقوق اور شہری آزادیوں کے لیے ایک سنگین خطرہ بن سکتے ہیں۔ اس بل کے چند اہم اور متنازعہ شقوں کے مطابق ، عادی مجرم’’اگر کسی شخص کے خلاف متعدد مقدمات درج ہوں یا وہ بار بار گرفتار ہوچکا ہو‘‘ قرار دیا جاسکتا ہے۔

چاہے تمام مقدمات میں Habitual Offender تو بعض صورتوں میں اسے سزا نہ ہوئی ہو۔ بل میں 23 اقسام کے ایسے رویوں کو شامل کیا: Anti-Social Behaviour ’’غیر سماجی رویے‘‘ پھیلانا، عوامی مقامات پر نازیبا زبان استعمال (Misinformation) کیا گیا ہے جن میں غلط معلومات کرنا، لوگوں کو ہراساں یا پریشان کرنا، جانوروں پر ظلم، امن عامہ میں خلل ڈالنے والی سرگرمیاں شامل ہیں۔ ان الزامات کی بنیاد پر کسی بھی شخص کو مندرجہ ذیل سزائیں دی جاسکتی ہیں ۔ الیکٹرانک نگرانی، الیکٹرانک ٹریکنگ ڈیوائس یا بریسلیٹ پہننے کا پابند بنایا جاسکتا ہے اور اس کی نقل و حرکت کی نگرانی کی جاسکتی ہے۔ اس کے علاوہ شناختی اور سفری پابندیوںسے متعلقہ حکام سفارش کرسکتے ہیں کہ شناختی کارڈ بلاک کیا جائے، پاسپورٹ منسوخ یا معطل کیا جائے ، نام پروویژنل نیشنل آئیڈینٹیٹی فکسیشن لسٹ میں شامل کیا جائے، بیرون ملک سفر پر پابندی عائد کی جائے۔

 مالی اور ڈیجیٹل پابندیوں کے حوالے سے درج ہے کہ بینک اکاؤنٹس منجمد کیے جاسکتے ہیں، موبائل فون اور لیپ ٹاپ ضبط کیے جاسکتے ہیں۔ اس کے علاوہ سوشل میڈیا اکاؤنٹس بند یا محدود کیا جاسکتے ہیں اور جدید ٹیکنالوجی کے ذریعہ نگرانی کی جاسکتی ہے۔ بائیومیٹرک اور ڈی این اے ریکارڈ سے متعلق درج کیا گیا ہے کہ ملزم شخص کی تصاویر، فنگر پرنٹس، بائیومیٹرک اور ڈی این اے کا ریکارڈ حاصل کر کے محفوظ کیا جاسکتا ہے۔

نیز جائیداد کی ضبطگی کے متعلق درج ہے کہ بعض حالات میں جائیداد کو ضبط یا اس پر پابندی لگانے کی کارروائی کی جاسکتی ہے جس کی بعدازاں مجسٹریٹ کی توثیق حاصل کی جاسکتی ہے۔ ایکٹ کے تحت اگر آپ سوشل میڈیا پر ایک غلط خبر شیئر کرتے ہیں تو اس ایکٹ سابقہ PECA کے تحت آپ کے خلاف ایف آئی اے تحقیقات کرسکتی ہے اور مقدمہ عدالت میں جائے گا لیکن پنجاب کے مجوزہ بل کے تحت اگر متعلقہ انٹیلی جنس کمیٹی آپ کو غیر سماجی رویہ کا مرتکب سمجھ لے تو آپ کے خلاف انتظامی پابندیوں (مثلاً نگرانی، سفری پابندی یا دیگر اقدامات) کی سفارش کی جاسکتی ہے چاہے ابھی کوئی عدالتی فیصلہ نہ آیا ہو۔ قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ سماج دشمن عناصر کے محاسبہ اور ریاستی مفادات کو نقصان پہنچانے والے افراد کے احتساب کے لیے پہلے سے خاصے قوانین ملک میں نافذ ہیں اور فوری طور پر کسی نئے قانون کی ضرورت نہیں۔ پنجاب اسمبلی کے اسپیکر نے اس بل کو 1870ء کے قانون کی نقل قرار دیتے ہوئے مسترد کیا۔ ان کے اس فیصلے سے اسپیکر کے ادارہ کی حرمت میں اضافہ ہوا، اس طرح کا قانون پھر نہیں بننا چاہیے۔

Load Next Story