شہید علی خامنہ ای کی نماز جنازہ کب ہوگی اور کون پڑھائے گا؟ تفصیلات آگئیں
آیت اللہ خامنہ ای کی نماز جنازہ کل بروز اتوار نماز فجر میں پڑھائی جائے گی
ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای، اہل خانہ اور عسکری قیادت 28 فروری کو اسرائیل اور امریکا کے مشترکہ حملے میں شہید ہوگئے تھے۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق شہید علی خامنہ ای کی تجہیز و تکفین کا آغاز کل 3 جولائی سے تہران کی امام خمینی گرینڈ مصلیٰ میں ہوگیا جب عالمی وفود نے میتوں کا دیدار کیا، فاتحہ خوانی کی اور تعزیتی کلمات درج کیے۔
آج 4 جولائی کو شہید علی خامنہ ای اور ان کے اہل خانہ کی میتیں شیشے کے تابوت میں عوامی دیدار کے لیے رکھ دی گئیں جہاں ملک بھر سے آئے ہوئے لاکھوں سوگواران پورا دن فاتحہ خوانی بھی کریں گے۔
کل بروز اتوار 5 جولائی کو فجر میں نماز جنازہ ادا کی جائے گی جس میں 100 ممالک کے نمائندوں سمیت ایک کروڑ سے زائد افراد کی شرکت متوقع ہے۔ اس کے بعد میت کو جلوس کی صورت میں تہران سے قم لے جایا جائے گا۔
اگلے روز قم سے میت کو عراق کے شہروں نجف اور کربلا لے جایا جائے گا اور وہاں بھی نماز جنازہ ادا کی جائے گی۔ اس کے بعد میت واپس ایران لائی جائے گی اور 9 جولائی کو مشہد میں امام رضا کے مزار میں سپردخاک کیا جائے گا۔
ایرانی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ سابق سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای اور ان کے اہل خانہ کی نماز جنازہ مختلف شہروں میں ممتاز شیعہ مرجعِ تقلید علماء کی امامت میں ادا کی جائے گی۔
تہران میں ہونے والی نماز جنازہ آیت اللہ جعفر سبحانی تبریزی پڑھائیں گے جب کہ قم میں آیت اللہ ناصر مکارم شیرازی اور مشہد میں آیت اللہ حسین نوری ہمدانی نماز جنازہ پڑھائیں گے۔
علی خامنہ ای کے صاحبزادے اور ایران کے موجودہ سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کی نماز جنازہ میں شرکت کے حوالے سے تاحال کوئی حتمی اعلان سامنے نہیں آیا۔
بی بی سی فارسی نے دعویٰ کیا کہ جنازے کے انتظامی امور کے سیکریٹری علی اکبر کا کہنا ہے کہ مجتبیٰ خامنہ ای کی شرکت کا فیصلہ سپریم لیڈر کے اہل خانہ کریں گے۔
اگر اہل خانہ جنازے میں شریک ہونے کا فیصلہ کرتے ہیں تو اس کا باقاعدہ اعلان ان کے دفتر کی جانب سے کیا جائے گا۔
یاد رہے کہ مجتبیٰ خامنہ ای نے 28 فروری 2026 کو جنگ کے پہلے روز اپنے والد آیت اللہ علی خامنہ ای اور والدہ کی شہادت کے بعد سپریم لیڈر کا منصب سنبھالا تاہم وہ اب تک منظرعام پر نہیں آئے ہیں۔