فیفا ورلڈکپ: ٹرمپ کی مداخلت پر فیصلہ تبدیل کیے جانے پر تنازع کھڑا ہوگیا

امریکی کوچ نے اس فیصلے کو سخت قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ یہ ریڈ کارڈ کا مستحق واقعہ نہیں تھا

فیفا نے امریکی صدر کی مداخلت کے بعد امریکی کھلاڑی فولارین بالوگن کی ریڈ کارڈ کے باعث ایک میچ کی فوری معطلی کا فیصلہ واپس لے لیا۔

اس فیصلے سے فولارین بالوگن بیلجیئم کے خلاف ورلڈکپ کے پری کوارٹر فائنل میں کھیلنے کے اہل ہوگئے ہیں جس کے بعد عالمی فٹبال میں نئی بحث چھڑ گئی۔

بالوگن کو بوسنیا اینڈ ہرزیگووینا کے خلاف میچ میں وی اے آر جائزے کے بعد حریف کھلاڑی تارک محرمووچ کے ٹخنے پر خطرناک ٹیکل کرنے پر ریڈ کارڈ دکھایا گیا تھا۔

اگرچہ امریکی کوچ ماریسیو پوچیٹینو نے اس فیصلے کو سخت قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ یہ ریڈ کارڈ کا مستحق واقعہ نہیں تھا۔

رپورٹس کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے فیفا کے صدر جیانی انفانٹینو سے رابطہ کرکے اس فیصلے پر نظرثانی کی درخواست کی جس کے بعد فیفا نے ضابطہ اخلاق کے آرٹیکل 27 کے تحت بالوگن کی معطلی ایک سال کی آزمائشی مدت کے لیے مؤخر کر دی، تاہم ریڈ کارڈ برقرار رہے گا۔

فیفا نے واضح کیا ہے کہ اگر اس مدت کے دوران بالوگن اسی نوعیت کی کسی اور خلاف ورزی کے مرتکب ہوئے تو موجودہ معطلی فوری طور پر نافذ کر دی جائے گی، اس کے علاوہ نئی خلاف ورزی پر الگ سزا بھی دی جا سکتی ہے۔

اس فیصلے پر بیلجیئم کی جانب سے ناراضی کا اظہار کیا گیا جبکہ فیفا نے معاملے پر مزید تبصرہ نہیں کیا۔

Load Next Story