سندھ منیمم ویجز بورڈ نے 60 صنعتوں کے ہنرمندوں کی کم ازکم اجرت میں اضافے کی سفارش کردی
سندھ حکومت نے 60 صنعتوں کے نیم ہنرمند، ہنرمند اور اعلیٰ ہنرمند کارکنوں کی کم از کم اجرتوں میں اضافے کی تجویز جاری کردی، اسی طرح کم ازکم اجرت 43 ہزار مقرر کرنے کی بھی سفارش جاری کرتے ہوئے 14 روز میں اعتراضات طلب کرلیے۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق سندھ حکومت کے سندھ منیمم ویجز بورڈ نے صوبے بھر کی 60 مختلف صنعتوں میں کام کرنے والے نیم ہنرمند، ہنر مند اور اعلیٰ ہنر مند کارکنوں کی کم از کم ماہانہ اجرتوں میں اضافے کی مجوزہ شرحیں سرکاری گزٹ کے ذریعے جاری کردی ہیں۔
نوٹی فکیشن کے مطابق موجودہ اجرتوں میں 7.5 فیصد تک اضافے کی تجویز دی گئی ہے۔ مجوزہ نئی کم از کم ماہانہ اجرت کے تحت نیم ہنرمند کارکن کی تنخواہ 44 ہزار 484 روپے، ہنر مند کارکن کی 53 ہزار 350 روپے جبکہ اعلیٰ ہنر مند کارکن کی کم از کم ماہانہ اجرت 55 ہزار 626 روپے مقرر کرنے کی تجویز پیش کی گئی ہے۔
سندھ منیمم ویجز بورڈ کے مطابق یہ مجوزہ شرحیں مہنگائی، معاشی حالات، پیداواری صلاحیت اور سہ فریقی مشاورت کو مدنظر رکھتے ہوئے تیار کی گئی ہیں۔
نوٹی فکیشن پر عوام، صنعت کاروں، آجر تنظیموں اور مزدور نمائندوں سے 14 روز کے اندر اعتراضات اور تجاویز طلب کی گئی ہیں، جن کا جائزہ لینے کے بعد حتمی نوٹی فکیشن جاری کیا جائے گا۔
نوٹی فکیشن میں واضح کیا گیا ہے کہ یہ مجوزہ کم از کم اجرتیں صوبہ سندھ کی 60 صنعتوں پر لاگو ہوں گی، جبکہ آجر کسی بھی کارکن کو مقررہ کم از کم اجرت سے کم تنخواہ ادا نہیں کر سکیں گے اور مرد و خواتین کارکنوں کو یکساں نوعیت کے کام پر مساوی کم از کم اجرت دینا لازم ہوگا۔
سندھ میں کم از کم تنخواہ 43 ہزار مقرر کرنے کی سفارش
حکومتِ سندھ کے سندھ منیمم ویجز بورڈ نے صوبے بھر کے صنعتی اور تجارتی اداروں میں کام کرنے والے غیر ہنرمند بالغ اور نوعمر مزدوروں کے لیے کم از کم اجرت 43 ہزار روپے ماہانہ مقرر کرنے کی سفارش جاری کردی۔
اس سلسلے میں باضابطہ نوٹی فکیشن سندھ گورنمنٹ گزٹ میں شائع کر دیا گیا ہے۔ نوٹی فکیشن کے مطابق مجوزہ کم از کم اجرت 207 روپے فی گھنٹہ، 1,654 روپے یومیہ اور 43 ہزار روپے ماہانہ ہوگی۔ یہ شرحیں صوبہ سندھ کے تمام رجسٹرڈ اور غیر رجسٹرڈ صنعتی و تجارتی اداروں پر یکساں طور پر لاگو ہوں گی جبکہ حتمی منظوری کے بعد ان کا اطلاق یکم جولائی 2026ء سے ہوگا۔
سندھ منیمم ویجز بورڈ نے عوام، آجران اور دیگر متعلقہ فریقین سے کہا ہے کہ وہ نوٹیفکیشن کی اشاعت کے 14 دن کے اندر اپنی تجاویز یا اعتراضات تحریری طور پر بورڈ کو ارسال کریں۔ مقررہ مدت گزرنے کے بعد موصول ہونے والے اعتراضات پر غور نہیں کیا جائے گا۔
نوٹیفکیشن میں واضح کیا گیا ہے کہ کم از کم اجرت ہر قسم کے مستقل، عارضی، کنٹریکٹ، یومیہ اجرت اور پیس ریٹ ملازمین پر لاگو ہوگی، جبکہ جن کارکنوں کو پہلے ہی اس سے زیادہ اجرت مل رہی ہے، ان کی تنخواہ میں کوئی کمی نہیں کی جاسکے گی۔
سندھ میں کم از کم تنخواہ 43 ہزار مقرر کرنے پر اعتراضات طلب
سندھ منیمم ویجز بورڈ نے صوبے بھر کے صنعتی اور تجارتی اداروں میں کام کرنے والے غیر ہنرمند بالغ اور نوعمر مزدوروں کے لیے کم از کم اجرت 43 ہزار روپے ماہانہ مقرر کرنے کی سفارش جاری کردی۔
اس سلسلے میں باضابطہ نوٹی فکیشن سندھ گورنمنٹ گزٹ میں شائع کر دیا گیا ہے۔ نوٹی فکیشن کے مطابق مجوزہ کم از کم اجرت 207 روپے فی گھنٹہ، 1,654 روپے یومیہ اور 43 ہزار روپے ماہانہ ہوگی۔ یہ شرحیں صوبہ سندھ کے تمام رجسٹرڈ اور غیر رجسٹرڈ صنعتی و تجارتی اداروں پر یکساں طور پر لاگو ہوں گی جبکہ حتمی منظوری کے بعد ان کا اطلاق یکم جولائی 2026ء سے ہوگا۔
سندھ منیمم ویجز بورڈ نے عوام، آجران اور دیگر متعلقہ فریقین سے کہا ہے کہ وہ نوٹیفکیشن کی اشاعت کے 14 دن کے اندر اپنی تجاویز یا اعتراضات تحریری طور پر بورڈ کو ارسال کریں۔ مقررہ مدت گزرنے کے بعد موصول ہونے والے اعتراضات پر غور نہیں کیا جائے گا۔
نوٹیفکیشن میں واضح کیا گیا ہے کہ کم از کم اجرت ہر قسم کے مستقل، عارضی، کنٹریکٹ، یومیہ اجرت اور پیس ریٹ ملازمین پر لاگو ہوگی، جبکہ جن کارکنوں کو پہلے ہی اس سے زیادہ اجرت مل رہی ہے، ان کی تنخواہ میں کوئی کمی نہیں کی جاسکے گی۔