کسٹمز کی کارروائیاں، 7 ارب 70 کروڑ روپے مالیت کی اشیا ضبط

مالی سال 2025-2026 کے دوران آئی پی آر سے متعلق انفورسمنٹ کاروائیوں میں اضافہ ہوا، 201مقدمات درج ہوئے

فوٹو: فائل

پاکستان کسٹمز نے ایک سال کے دوران کارروائیوں میں 7 ارب 70 کروڑ روپے مالیت کی اشیاء ضبط کرلیں۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق پاکستان کسٹمز کے ڈائریکٹوریٹ جنرل انٹیلیکچوئل پراپرٹی رائٹس نے مالی سال 2025-26 کے دوران آئی پی آر سے متعلق انفورسمنٹ کاروائیاں کر کے 201 مقدمات درج کرکے 24فیصد اضافے سے 7ارب 70کروڑ روپے مالیت کی اشیاء ضبط کرلیں۔

ڈائریکٹوریٹ جنرل کی سالانہ کارکردگی رپورٹ کے مطابق ضبط کی جانے والی میں جعلی پرتعیش اشیاء میں ٹیکسٹائل، آٹو پارٹس، کاسمیٹکس، جوتے، کنزیومر ڈیریبلز اور ٹریڈ مارک کی خلاف ورزی کرنے والی دیگر اشیاء شامل ہیں۔

اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ یہ کامیاب کارروائیاں صارفین کے تحفظ، جائز کاروبار کے فروغ اور مؤثر سرحدی نگرانی کے ذریعے غیر قانونی تجارت کی روک تھام کے لیے پاکستان کسٹمز کے عزم کی عکاسی کرتی ہیں۔

ڈائریکٹوریٹ کی جانب سے انفورسمنٹ کاروائیوں کے ساتھ آگاہی کے فروغ اور متعلقہ شراکت داروں کے ساتھ روابط کو مزید مستحکم بنانے کے لیے ملک بھر میں 30 آگاہی سیشنز، ورکشاپس اور سیمینارز کا انعقاد بھی کیا گیا۔

ان پروگراموں میں کسٹمز افسران، چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری، درآمد کنندگان، برآمد کنندگان، تاجر برادری، کسٹمز کلیئرنگ ایجنٹس، رائٹس ہولڈرز اور دیگر متعلقہ فریقین نے شرکت کی۔

اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ ان سرگرمیوں کا مقصد دانشورانہ املاک کے حقوق، سرحدی انفورسمنٹ کے طریقہ کار اور جائز تجارت و سرمایہ کاری کے تحفظ کی اہمیت سے متعلق آگاہی میں اضافہ کرنا تھا۔

ڈائریکٹر جنرل، انٹیلیکچوئل پراپرٹی رائٹس انفورسمنٹ (کسٹمز) عبدالقادر میمن نے کہا ہے کہ پاکستان کسٹمز استعداد کار میں مسلسل اضافہ، جدید رسک مینجمنٹ تکنیکوں کے استعمال، ٹیکنالوجی سے استفادہ اور قومی و بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ قریبی تعاون کے ذریعے اپنی انفورسمنٹ صلاحیتوں کو مزید مضبوط بناتا رہے گا۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کسٹمز جعلی اور نقل شدہ مصنوعات کی درآمد، برآمد اور ٹرانزٹ کی مؤثر روک تھام کے لیے سرحدی انفورسمنٹ کے اقدامات کو مزید مضبوط بناتا رہے گا تاکہ صارفین کا تحفظ، جائز کاروبار کی حوصلہ افزائی اور پاکستان میں منصفانہ اور مسابقتی تجارتی ماحول کو فروغ دیا جاسکے۔

ڈائریکٹوریٹ قومی قوانین اور بین الاقوامی بہترین روایات کے مطابق پاکستان کی سرحدوں پر دانشورانہ املاک کے حقوق کے مؤثر نفاذ کے لیے اپنے عزم پر قائم ہے تاکہ ملک کی معاشی ترقی کو فروغ دیتے ہوئے جائز تجارت کو مزید سہولت فراہم کی جاسکے۔

Load Next Story