شارجہ سے کراچی آنے والا کارگو طیارہ خلیج میں لاپتہ، ریسکیو آپریشن شروع
فوٹو: فائل
شارجہ سے کراچی آنے والا کارگو طیارہ کراچی سے مغرب میں 155 ناٹیکل میل دور خلیج میں لاپتا ہوگیا، جس میں عملے کے 5 ارکان سوار ہیں۔
پاکستان ایئرپورٹس اتھارٹی (پی اے اے) نے کارگو طیارے کے لاپتا ہونے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ شارجہ سے کراچی آنے والی کے ٹو ایئرویز کی کارگو پرواز سے رابطہ منقطع ہوگیا۔
پی اے اے کی جانب سے جاری بیان میں بتایا گیا کہ کارگو طیارے نے رات 9 بج کر 18 منٹ پر نیویگیشنل سسٹم میں خرابی رپورٹ کی اور کراچی ایریا کنٹرول سینٹر نے فوری طور پر طیارے کی رہنمائی کی۔
پی اے اے نے بتایا کہ رات 9 بج کر 21 منٹ پر طیارہ ریڈار پر تیزی سے نیچے آتا دیکھا گیا اور طیارے نے اچانک اپنی سمت تبدیل کی، جس کے بعد کراچی سے تقریباً 155 ناٹیکل میل مغرب میں طیارے سے ریڈار اور مواصلاتی رابطہ منقطع ہوگیا۔
بیان میں کہا گیا کہ لاپتا طیارے کی تلاش کے لیے ریسکیو کوآرڈینیشن سینٹر فوری فعال کر دیا گیا اور مختلف اداروں کے تعاون سے لاپتا طیارے کے لیے سمندر میں سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن شروع کر دیا گیا۔
پی اے اے کے مطابق لاپتا کارگو طیارے میں عملے کے 5 افراد سوار تھے۔
طیارے میں سوار افراد کی تفصیلات
شارجہ سے کراچی آتے وقت لاپتہ ہونے والے طیارے کے عملے میں پائلٹ محمد رضوان ادریس، ساتھی پائلٹ فیصل جتوئی، انجنیئر محمد حامد، محمد عارف صدیقی، لوڈ ماسٹر محمد توفیق خان شامل ہیں۔
K2 Airways B 737 of Pakistan Cargo Flight enroute from Sharjah to Karachi at time 2118PST reported Navigational system issue and was promptly guided by KARACHI ACC.
— Pakistan Airports Authority (@Pk_PAA_Official) July 7, 2026
قبل ازیں ذرائع نے بتایا تھا کہ طیارے نے دوران پرواز نیویگیشن مسئلے کی اطلاع دی تھی، پائلٹ نے اے ٹی سی سے ہیڈنگ کی درخواست کی، جس پر طیارے کو موجودہ سمت برقرار رکھنے کی ہدایت کی گئی۔
ابتدائی رپورٹ میں بتایا گیا کہ طیارہ اچانک دائیں جانب مڑا اور تیزی سے بلندی کھونے لگا، طیارے کی نیچے آنے کی رفتار تقریباً 15 ہزار فٹ فی منٹ ریکارڈ ہوئی اور اے ٹی سی کی متعدد کالز کے باوجود طیارے سے کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔
مزید بتایا گیا کہ کراچی کے مغرب میں تقریباً 155 ناٹیکل میل دور طیارہ ریڈار سے غائب ہوگیا۔
ذرائع نے بتایا کہ طیارہ پاکستان کے 2 ائیرویز کا تھا، کارگو فلائٹ نمبر کے ٹی اے 1732 نے شارجہ سے اڑان بھری تھی اور کریش کرجانے والا طیارہ بوئنگ 734 تھا۔
ذرائع نے بتایا کہ بدقسمت طیارہ اے پی بی او آئی رجسٹرڈ تھا۔
لاپتا طیارے کی تلاش کے لیے اسکائی ونگز ایوی ایشن سے رابطہ کرلیا گیا ہے اور ایدھی ائیراسٹاف کو اوڑماڑہ میں ممکنہ حادثے کے مقام کی جانب روانہ کردیا گیا ہے۔
ذرائع نے بتایا کہ سول ہوا بازی کے کراچی ہینگر میں سرویلنس طیارے کی ری فیولنگ کا عمل جاری ہے جبکہ میری ٹائم سکیورٹی ایجنسی نے اورماڑہ میں سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن شروع کر دیا، میری ٹائم سیکیورٹی ایجنسی کا ہوائی جہاز ڈیفینڈر سرچ اینڈ ریسکیو میں شامل ہے۔
ذرائع نے مزید بتایا کہ سمندر میں فاسٹ رسپانس بوٹس کے علاوہ دیگر بحری اثاثے بھی گراونڈ پر موجود ہیں۔
طیارے کے حوالے سے بتایا گیا کہ لاپتا طیارہ فنی خرابی کے بعد مرمت کے لیے شارجہ گیا تھا اور 5 دن شارجہ میں رہا اور فیری فلائٹ (خالی طیارہ) کرتے ہوئے کراچی واپس آرہا تھا۔
ذرائع نے مزید بتایا کہ شارجہ میں طیارے کی مرمت ناردرن ٹیکنیکس نامی کمپنی نے کی تھی۔
امدادی کارروائیاں جاری
پاکستان کی کارگو پرواز کے ٹو بوئنگ 737 طیارہ کراچی کے قریب سمندر میں لاپتا ہونے کی تصدیق کے بعد امدادی کارروائیاں جاری ہیں۔
ذرائع نے بتایا کہ سمندر میں لاپتا طیارے کی تلاش اور ریسکیو آپریشن شروع کر دیا گیا ہے، جاری سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن میں پاک بحریہ کا جنگی جہاز پی این ایس ذوالفقار متاثرہ علاقے کی جانب روانہ کر دیا گیا ہے۔
ذرائع نے بتایا کہ پاک فضائیہ کا ساب طیارہ بھی سرچ آپریشن میں حصہ لے رہا ہے، پاک بحریہ کا اے ٹی آر طیارہ بھی تربت سے پرواز کر کے تلاش کی کارروائی میں شامل ہو چکا ہے۔
اسی طرح پاکستان نیشنل شپنگ کارپوریشن کے تجارتی جہاز لاہور کو بھی سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن کے لیے تعینات کر دیا گیا ہے۔
سمندر میں لاپتا طیارے کی تلاش اور ریسکیو آپریشن شروع کر دیا گیا۔ سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن میں پاک بحریہ کے جنگی جہازوں پی این ایس ذوالفقار اور پی این ایس حنین متاثرہ علاقے کی جانب روانہ کر دئیے گئے۔
اس کے علاوہ پاک بحریہ کا اے ٹی آر طیارہ بھی تربت سے پرواز کر کے تلاش کی کارروائی میں شامل ہو چکا ہے۔