گل پلازہ آتشزدگی کیس کا چالان مسترد، عدالت نے ازسرنو تحقیقات کا حکم دیدیا
جوڈیشل مجسٹریٹ جنوبی عاصم اسلم نے گل پلازہ آتشزدگی کیس کا چالان مسترد کرتے ہوئے ڈی ایس پی رینک کے افسر کو تفتیشی افسر مقرر کرنے اور ازسرنو تحقیقات کا حکم دیدیا۔
ایس بی سی اے، سول ڈیفنس، ریسکیو 1122، فائر بریگیڈ، کے ایم سی اور ٹریفک پولیس کے بیانات ریکارڈ کئے جائیں، ضلعی انتظامیہ سمیت تمام اداروں کے کردار کا تعین کیا جائے اور 15 روز میں تحقیقات مکمل کرکے رپورٹ پیش کی جائے۔ جوڈیشل مجسٹریٹ جنوبی کی عدالت کے روبر سانحہ گل پلازہ کیس کی سماعت ہوئی۔
ملزمان تنویر پاستا و دیگر عدالت میں پیش ہوئے۔ عارف ستائی سرکاری وکیل عدالت میں پیش ہوئے۔ سرکاری وکیل نے موقف دیا کہ ہم نے پولیس کے چالان پر 3 دفعہ اعتراضات لگا کر واپس کیا ہے۔پراسکیوشن نے اسکروٹنی نوٹ پولیس فائل سے غائب ہونے کا انکشاف کیا۔
عدالت نے تفتیشی افسر سے استفسار کیا کہ جو اسکروٹنی نوٹ پراسکیوشن کی طرف سے ملا ہے، وہ پولیس فائل کا حصہ ہے یا نہیں۔ تفتیشی افسر نے کہا کہ جو اعتراضات لگائے گئے تھے، وہ میں نے دور کردیئے ہیں۔ سرکاری وکیل نے موقف دیا کہ جن لوگوں نے غیر قانونی ریگولرائزیشن کی ان کیخلاف کارروائی کریں۔ سول ڈیفنس والوں نے 2022 میں کہا تھا کہ فائر سیفٹی قوانین پر عمل کریں۔ فائر سیفٹی والوں نے ایسوسی ایشن کو لیٹر دیا ہوا ہے، سب ٹھیک ہے۔ ایس بی سی اے نے غیر قانونی ریگولرائیشن کی ہے اس کو صرف خط لکھا گیا ہے بس۔
عدالت نے ریمارکس دیئے کہ ایک طرف پراسکیوشن نے چالان عدالت بھیجا ہے اور ایک طرف اعتراضات لگا رہے ہیں۔ وکیل صفائی نے موقف دیا کہ 72 لوگوں کی جانیں چلی گئیں ہیں، 5 ارب روپے سے زائد کی رقم سندھ حکومت نے ان ملزمان کے کہنے پر دیئے ہیں۔ 5 ارب 77 کروڑ روپے سندھ حکومت نے تنویر پاستا کے ہاتھوں سے دلواے۔
تفتیشی افسر کو میں نے کہا کہ جو حادثہ ہوا ہے، اب ان اصل ملزمان کو سامنے لائیں تاکہ آئندہ ایسا نا ہو۔ سرکاری وکیل نے موقف دیا کہ اب بھی شہر میں ایسے واقعات ہورہے ہیں اگر کارروائی ہوتی تو ریگولرائیشن کرتے ہوئے ڈرتے۔ فائر سیفٹی والے بھی این او سی دیتے ہوئے ڈرتے۔ پولیس نے اپنا کام کیا ہی نہیں ہے پیسہ نعم البدل نہیں ہے۔ کسی سرکاری ادارے کی مجرمانہ غفلت نہیں ہے کیا۔
عدالت نے ریمارکس دیئے کہ ایک دفعہ چالان عدالت میں جمع کرادیا ہے۔ وکیل صفائی نے موقف اپنایا کہ لوگ گھنٹوں تک چیختے رہے چلاتے رہے فائر برگیڈ تاخیر سے پہنچی پھر ان کے پاس پانی نہیں تھا۔ عدالت نے ریمارکس میں کہا کہ اپرول سے زیادہ دوکانیں تھیں؟ ملزم تنویر پاستا نے کہا کہ 11 سو 9 دوکانیں تھیں بعد میں ان کی تعداد بڑھائی گئی۔
عدالت نے تفتیشی افسر سے استفسار کیا کہ ایس بی سی اے سے نقشہ لیا ہے کتنی دوکانیں منظور شدہ تھیں؟ وکیل صفائی نے کہا کہ اس حوالے سے کمشنر کراچی کی رپورٹ میں سب لکھا ہوا ہے۔ عدالت نے استفسار کیا کہ سول ڈیفنس والوں کا کام کیا کام ہوتا ہے۔ فائر ڈیپارٹمنٹ، کے ایم سی کا کیا کام ہے؟ عدالت نے تفتیشی افسر سے استفسار کیا کہ کون اس طرح کے حادثات میں کام کرے گا، کمانڈ کس کے پاس ہوگی؟ تفتیشی افسر نے کہا کہ فائر برگیڈ کے ایم سی کے ساتھ کام کرتا ہے۔
عدالت نے ریمارکس دیئے کہ ہنگامی صورتحال میں کس ادارے کا کیا کام ہے، آپ کو پتہ نہیں ہے اور آپ نے تفتیش کی ہے۔ عدالت نے تفتیشی افسر سے استفسار کیا کہ سول ڈیفنس کا کیا کام ہے؟ تفتیشی افسر نے کہا کہ سول ڈیفنس کا کام ہر سال معائنہ کرنا ہے۔
عدالت نے استفسار کیا کہ تفتیش مکمل ہوگئی ہے یا نہیں؟ تفتیشی افسر نے کہا کہ تفتیش مکمل ہوگئی ہے۔ عدالت نے استفسار کیا کہ فائر برگیڈ کا افسر کون ہے؟ اس کا تعلق کس ادارے سے ہے؟ اداروں نے اپنا کام صحیح سے کیا ہے؟ تفتیشی افسر نے کہا کہ وہ آئیں گے۔ عدالت نے ریمارکس دیئے کہ جس کو ملزم ہونا چاہیے اگر وہ گواہ بن جائے۔
تفتیششی افسر نے کہا کہ عدالت لکھ دے میں ملزم بنادوں گا۔ عدالت نے اظہار برہمی کرتے ہوئے ریمارکس دیئے کہ کیوں لکھے آپ نے کیا تفتیشی کی ہے۔ تفتیشی افسر کہتا ہے کہ کسی ادارے کی کوئی مجرمانہ غفلت نہیں ہے۔ وکیل صفائی نے موقف دیا کہ کیوں ڈی سی کو بچایا جارہا ہے ؟ کیوں فائر برگیڈ اور ریسکیو اداروں کو بچایا جارہا ہے۔ تفتیشی افسر نے کہا کہ سول ڈیفنس والوں نے بتایا کہ فائر ایکسٹینگیوشر اور فائر بالز ایکسپائر تھے۔
عدالت نے استفسار کیا کہ اگر یہ انتظامات نہیں تھے تو اس کیخلاف کس ادارے کو ایکشن لینا ہوتا ہے؟ اداروں نے اپنا کام ٹھیک سے کیا ہے یا نہیں یہ بتائیں؟ تفتیشی افسر نے کہا کہ سول ڈیفنس والے کہتے ہیں ہم نے فائر سیفٹی سے متعلق اعلی حکام کو لکھا تھا۔ عدالت نے استفسار کیا کہ کیا باہر نکلنے کے راستے کھلے ہوئے تھے؟ تفتیشی افسر نے کہا کہ ان کے چوکیداروں کو ریسکیو 1122 والوں نے اتارا ہے۔ لائٹ بند ہونے کی صورت میں روشنی کا کوئی انتظام نہیں تھا۔ عدالت نے استتفسار کیا کہ کمشنر کی رپورٹ کو پولیس فائل کا حصہ بنایا ہے؟ تفتیشی افسر نے کہا کہ نہیں کمشنر کی رپورٹ پولیس فائل کا حصہ نہیں ہے۔
عدالت نے تفتیشی افسر پر اظہار برہمی کرتے ہوئے ریمارکس دیئے کہ یہ فائل آپ نے خود بنائی ہے یا کسی نے تھمادی ہے، آپ کو پتہ نہیں ہے رپورٹ فائل میں لگی ہوئی ہے۔
عدالت نے وکیل صفائی سے مکالمہ میں کہا کہ تفتیشی افسر کے مطابق کسی ادارے کی کوئی ذمہ داری نہیں۔ وکیل صفائی نے موقف دیا کہ لوگ جلتے رہے لیکن ادارے نیچے کھڑے دیکھتے رہے۔ تفتیش کرلی کہ آگ کیوں لگی۔ یہ نہیں کی کہ اس کے بعد کیا ہوا، اتنے لوگ کیوں مرے۔ کہتے ہیں ملزمان نے دروازے بند کردیئے تھے۔ اس وقت 5 ہزار لوگ گل پلازہ میں موجود تھے۔ اگر دروازے بند ہوتے تو وہ 5 ہزار لوگ کیسے نکلے۔
ڈی سی آفس اور گل پلازہ بالکل آمنے سامنے ہیں۔ تاخیر کیوں ہوئی پھر، ریسکیو میں ناکامی کیوں ہوئی۔ دروازے بند تھے تو کوئی ایک تالا بھی آئی او صاحب نے قبضے میں لیا؟ چیف فائر آفیسر نااہل ترین آدمی ہے۔ گاڑیوں میں پانی نہیں، سیڑھیاں لگا کر کھڑکیاں نہیں کاٹی۔
وکیل صفائی نے انکشاف کیا کہ اسنارکل موجود تھی لیکن کوئی اسے آپریٹ نہیں کرسکا۔ عدالتی طلبی پر پراسیکیوٹر رزاق بھی عدالت میں پیش ہوئے۔ عدالت نے استفسار کیا کہ کیا آپ پولیس کے اس چالان سے مطمئن ہیں؟ پراسیکیوٹر نے موقف دیا کہ میں مطمئن تو بالکل نہیں ہوں۔
عدالت نے ریمارکس دیئے کہ آپ ذرا عدالت کی معاونت کریں۔ پراسیکیوٹر نے موقف اپنایا کہ کمیشن بنا وہاں تمام ادارے پیش ہوئے۔ لیکن کمیشن کی رپورٹ چالان میں نہیں لگائی گئی۔ عدالت نے ریمارکس دیئے کہ وہ تو پبلش ہی نہیں کی گئی ہے نا۔
پراسیکیوٹر نے موقف دیا کہ لیکن میڈیا میں اس کے متعلق ایک ایک پوائنٹ چلا ہے۔ وکیل صفائی نے موقف دیا کہ قتل بالسبب کا کیس ہے یہ۔ لیکن سبب کیا بنا، اس کا تو بتایا ہی نہیں گیا۔ آپ کی عدالت کے باہر 50 سال پرانا زنگ آلود فائر ایکسٹنگویشر لگا ہوا ہے۔ کیا یہ فائر ڈیپارٹمنٹ کا کام نہیں ہے کہ وہ آکر چیک کریں۔ عدالت نے چالان مسترد کردیا۔
عدالت نے ریمارکس دیئے کہ ایس بی سی اے، ڈسٹرکٹ پولیس اور ٹریفک پولیس کا کردار بھی واضح کیا جائے۔ یہ بھی بتایا جائے کہ ان اداروں کی کہاں کیا غفلت کی ہے۔ ہر ادارے کی کردار اور غفلت کو تفتیش میں واضح کیا جائے۔ اگر ٹریفک کلئیر تھا تو فائر برگیڈ کی گاڑیاں کیوں فوری طور پر نہیں بھیجی۔
عدالت نے ڈی ایس پی رینک کے افسر کو تفتیشی افسر مقرر کرنے اور ازسرنو تحقیقات کا حکم دیدیا۔ عدالت نے حکم دیا کہ ایس بی سی اے، سول ڈیفنس، ریسکیو 1122، فائر بریگیڈ، کے ایم سی اور ٹریفک پولیس کے بیانات ریکارڈ کئے جائیں، ضلعی انتظامیہ سمیت تمام اداروں کے کردار کا تعین کیا جائے اور 15 روز میں تحقیقات مکمل کرکے رپورٹ پیش کی جائے۔