نوواک جوکووچ نے ومبلڈن کی تاریخ کا طویل ترین کوارٹر فائنل جیت لیا
سربیا کے تجربہ کار ٹینس اسٹار نوواک جوکووچ نے ومبلڈن کی تاریخ کا طویل ترین کوارٹر فائنل جیت لیا۔
نوواک جوکووچ نے کینیڈا کے تھرڈ سیڈ فیلکس اوجر-الیاسیم کو پانچ گھنٹے 15 منٹ تک جاری رہنے والے سنسنی خیز مقابلے کے بعد شکست دے کر سیمی فائنل میں جگہ بنالی۔
39 سالہ جوکووچ نے سخت مقابلے میں 6-7، 6-3، 3-6، 7-6 اور 6-7 سے کامیابی حاصل کی۔
39 years old. @DjokerNole things. #Wimbledon pic.twitter.com/W5GMGr6V0r
— Wimbledon (@Wimbledon) July 7, 2026
اس فتح کے ساتھ ہی وہ ومبلڈن کا ریکارڈ کے برابر آٹھواں ٹائٹل اور مجموعی طور پر 25واں گرینڈ سلیم جیتنے کی دوڑ میں برقرار ہیں جو انہیں گرینڈ سلیم تاریخ کا کامیاب ترین کھلاڑی بنا سکتا ہے۔
55th Grand Slam semi-final. 15th at Wimbledon.
Novak Djokovic outlasts Felix Auger-Aliassime in the longest quarter-final of all-time at #Wimbledon pic.twitter.com/cDlqbzfafn— Wimbledon (@Wimbledon) July 7, 2026
میچ کے بعد جوکووچ نے کہا کہ پانچ گھنٹے سے زائد جاری رہنے والے اس یادگار مقابلے کا حصہ بننا ان کے لیے اعزاز کی بات ہے۔
My longest Wimbledon match ever. An unforgettable nightshift 💪 pic.twitter.com/q0D10PVwFw
— Novak Djokovic (@DjokerNole) July 7, 2026
ان کے مطابق یہ ومبلڈن میں ان کے کیریئر کے بہترین میچوں میں سے ایک تھا جہاں دونوں کھلاڑیوں نے اعلیٰ معیار کا کھیل پیش کیا۔
Novak Djokovic is 39 years old and just won a 5 hour and 15 minute match at Wimbledon 😮 pic.twitter.com/ekB1peElnX
— SportsCenter (@SportsCenter) July 7, 2026
انہوں نے کہا کہ فیصلہ کن لمحات میں ملنے والے مواقع سے فائدہ اٹھانا ہی ان کی کامیابی کی بنیاد بنا جبکہ شائقین کی بھرپور حوصلہ افزائی نے بھی مقابلے کو مزید یادگار بنا دیا۔
اب سیمی فائنل میں ان کا سامنا دفاعی چیمپئن جینک سنر سے ہوگا۔