وزارت داخلہ کا آڈٹ؛ چار ارب کے اعتراضات عائد، 4 ارب کی ریکوری بھی نہ ہوسکی
آڈیٹر جنرل آف پاکستان کی رپورٹ 2025-26ء جاری کردی گئی جس میں وزارت داخلہ میں 8 ارب 32 کروڑ روپے کے آڈٹ اعتراضات کی نشاندہی کی گئی ہے اور وزارت داخلہ کے ذیلی محکموں میں 4 ارب روپے سے زائد کی عدم ریکوری کا بھی انکشاف ہوا ہے۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ وزارت داخلہ پرمٹ اور اسلحہ لائسنسوں کی فیس بھی وصول کرنے میں ناکام رہا، بلٹ پروف گاڑیوں کے پرمٹ کی 2 کروڑ 24 لاکھ کی فیس اور جرمانے وصول نہیں ہوئے، بلٹ پروف گاڑیوں کے 164 این او سیز سے سالانہ فیس بھی نہیں لی گئی، 3421 اسلحہ لائسنسوں کی 5 کروڑ 62 لاکھ فیس بھی خزانے میں جمع نہیں ہوئی۔
آڈٹ رپورٹ کے مطابق اسلحہ لائسنس کو مینول بک سے مشین ریڈ ایبل نہ کرنے پر بھی آڈٹ حکام نے اعتراض عائد کیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق 25 ہزار 516 اسلحہ لائسنس میں 16 ہزار سے زائد ممنوعہ بور کے ہیں، ممنوعہ بور اسلحہ لائسنسز کے اجراء کے ڈیٹا میں بھی خامیاں پائی گئیں، وزارت داخلہ کی خریداری میں بھی 2 ارب 58 کروڑ روپے کی بے ضابطگیاں ہوئیں۔
رپورٹ کے مطابق انٹرنل کنٹرول کے 41 کروڑ روپے سے زائد کے اڈٹ اعتراضات بھی اٹھا دیئے گئے، فراڈ اور مالی خوردبرد سے متعلق 29 کروڑ روپے کی بے ضابطگیاں بھی رپورٹ ہوئیں۔