پاکستان میں عدلیہ کے مختلف شعبوں میں بدعنوانی منظم نوعیت اختیار کر چکی ہے، رپورٹ
پاکستان کے عدالتی نظام میں بدعنوانی کے خطرات، عدالتی آزادی میں کمی اور انسانی حقوق پر اثرات سے متعلق ایک نئی رپورٹ جاری کر دی گئی جس میں دعویٰ کیا گیا عدلیہ کے مختلف شعبوں میں بدعنوانی منظم نوعیت اختیارکر چکی ہے،اس کے باعث منصفانہ ٹرائل،قانون کے سامنے برابری اور بنیادی حقوق کے تحفظ کو شدید نقصان پہنچا ہے۔
یہ رپورٹ انٹرنیشنل فیڈریشن فار ہیومن رائٹس اور اس کی رکن تنظیم ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان نے مشترکہ طور پر جاری کی۔ رپورٹ 30انٹرویوز پر مبنی ہے جو وکلا، ججوں، صحافیوں، ماہرین تعلیم اور سول سوسائٹی کے نمائندوں سے کیے گئے۔
رپورٹ میں کہا گیا پاکستان کے عدالتی نظام میں بدعنوانی مختلف شکلوں میں موجود ہے، رشوت ستانی،اقربا پروری، پسند و ناپسند کی بنیاد پر فیصلے اور عدالتی آزادی میں مسلسل کمی ہوئی ہے،ان عوامل نے عدلیہ کی خود مختاری اورکردارکو متاثرکیا ہے،عدالتی بدعنوانی کے اثرات اقلیتوں اور خواتین پر زیادہ نمایاں ہیں۔