زیارت: 21 شہدا کی میتیں لواحقین احتجاجاً اسپتال سے دھرنے میں لےگئے، مظاہرین اور پولیس میں کشیدگی

لواحقین نے وزیراعظم اور آرمی چیف سے مذاکرات تک زیارت کے 21 شہداء کی تدفین نہ کرنے کا اعلان کردیا

زیارت کے 21 شہداء کی میتیں لواحقین احتجاجاً سول اسپتال سے دھرنے میں لے گئے، وزیراعظم اور آرمی چیف سے مذاکرات تک تدفین نہ کرنے کا اعلان کردیا۔

زیارت کے علاقے مانگی ڈیم فیز تھری میں دہشت گرد حملے میں شہید ہونے والے 21 پولیس اہلکاروں کی میتیں لواحقین اور مظاہرین نے احتجاجاً سول اسپتال کوئٹہ سے اپنے قبضے میں لے کر ہنہ اوڑک ائیرپورٹ روڈ پر جاری احتجاجی دھرنے میں منتقل کر دیں، جس کے باعث اسپتال میں شدید کشیدگی، افراتفری اور سیکیورٹی کی صورتحال پیدا ہوگئی۔

ذرائع کے مطابق 21 شہداء کا پوسٹ مارٹم مکمل ہو چکا تھا، تاہم میتوں کی حوالگی اور تدفین کے حوالے سے پیدا ہونے والی صورتحال پر لواحقین میں شدید غم و غصہ پایا گیا۔

احتجاج کے دوران لواحقین، مقامی شہریوں اور مختلف سیاسی جماعتوں کے کارکنوں نے سول اسپتال میں نعرے بازی کی اور بعد ازاں میتیں اپنے ہمراہ دھرنے کے مقام پر لے گئے۔

اس موقع پر پاکستان تحریک انصاف کے رکن قومی اسمبلی عادل بازئی، پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے مرکزی رہنما عبدالرحیم زیارتوال سمیت دیگر سیاسی رہنما بھی موجود تھے، جنہوں نے شہداء کے ورثاء سے اظہار یکجہتی کیا

شہداء کی میتیں ہنہ اوڑک ائیرپورٹ روڈ پر جاری احتجاجی دھرنے میں پہنچنے کے بعد مظاہرین نے اعلان کیا کہ جب تک وزیراعظم پاکستان اور چیف آف آرمی اسٹاف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سے براہِ راست مذاکرات نہیں ہوتے، اس وقت تک دھرنا جاری رکھا جائے گا اور شہداء کی میتوں کی تدفین بھی نہیں کی جائے گی۔

مظاہرین کا کہنا تھا کہ وہ اپنے مطالبات کی منظوری تک احتجاج ختم نہیں کریں گے۔

ایک شہید کے لواحق نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ان کے پیاروں کی میتیں کئی گھنٹوں سے اسپتال میں موجود تھیں جبکہ اہل خانہ انہیں آبائی علاقوں میں لے جا کر تدفین کرنا چاہتے تھے۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ شہداء کے ورثاء کے جذبات کا احترام کیا جائے اور انہیں انصاف فراہم کیا جائے۔

احتجاج کے دوران بعض مقامات پر مظاہرین اور پولیس کے درمیان کشیدگی بھی دیکھنے میں آئی۔

ذرائع کے مطابق پتھراؤ کے نتیجے میں متعدد پولیس اہلکار زخمی ہوئے، جس کے بعد پولیس نے سول اسپتال اور اطراف کے علاقوں میں سیکیورٹی مزید سخت کرتے ہوئے کئی راستے بند کر دیےیاد رہے کہ گزشتہ روز زیارت کے علاقے مانگی ڈیم فیز تھری میں دہشت گردوں کے حملے میں دو ایس ایچ اوز سمیت متعدد پولیس اہلکار شہید ہوئے تھے۔

ابتدائی مرحلے میں 9 شہداء کی نماز جنازہ سرکاری اعزاز کے ساتھ ادا کرنے کے بعد انہیں سپرد خاک کیا جا چکا ہے، جبکہ باقی 21 شہداء کی میتیں پوسٹ مارٹم کے لیے سول اسپتال کوئٹہ منتقل کی گئی تھیں۔

ڈی آئی جی کوئٹہ پولیس عمران شوکت کے مطابق پوسٹ مارٹم مکمل ہونے کے بعد 21 شہداء کی نماز جنازہ پولیس لائنز کوئٹہ میں ادا کی جانی تھی، تاہم لواحقین کے احتجاج اور میتیں اپنے ساتھ لے جانے کے باعث صورتحال تبدیل ہوگئی۔

دوسری جانب سیکیورٹی فورسز نے دعویٰ کیا ہے کہ کارروائی کے دوران حملے میں ملوث 15 دہشت گرد ہلاک کر دیے گئے ہیں، جبکہ واقعے کے بعد صوبے بھر میں سوگ، غم و غصہ اور تشویش کی فضا برقرار ہے۔

ادھر زیارت کے شہریوں نے زیارت کراس کے مقام پر قومی شاہراہ بھی بند کر رکھی ہے، جبکہ ہنہ اوڑک ائیرپورٹ روڈ پر جاری دھرنے میں شریک ہیں۔

مظاہرین کا کہنا ہے کہ وہ اپنے مطالبات کی منظوری اور اعلیٰ سطحی مذاکرات تک احتجاج جاری رکھیں گے اور شہداء کی میتوں کی تدفین بھی مؤخر رکھی جائے گی۔

سیاسی رہنماؤں نے صوبائی اور وفاقی حکومت سے فوری مداخلت کرتے ہوئے شہداء کے لواحقین کے تحفظات دور کرنے، امن و امان کی صورتحال بہتر بنانے اور مسئلے کا پرامن حل نکالنے کا مطالبہ کیا ہے۔

دوسری جانب ہنہ اوڑک سانحے کے متاثرین پانچ شہداء کی میتوں کے ہمراہ مسلسل پانچویں روز بھی ائیرپورٹ روڈ پر دھرنا دیے بیٹھے ہیں اور اپنے مطالبات کی منظوری تک احتجاج جاری رکھنے کا اعلان کر چکے ہیں۔

دونوں دھرنوں کے باعث ائیرپورٹ روڈ، کوئلہ پھاٹک،  اور ملحقہ شاہراہوں پر ٹریفک کی روانی شدید متاثر ہے، جبکہ شہریوں کو آمدورفت میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔

ٹریفک پولیس نے متعدد مقامات پر متبادل راستے مختص کر دیے ہیں۔ادھر بلوچستان میں دہشت گردی کے حالیہ واقعات کے تناظر میں وزیراعظم پاکستان میاں شہباز شریف آج کوئٹہ پہنچ رہے ہیں، جہاں ان کی زیر صدارت نیشنل اپیکس کمیٹی کا اہم اجلاس ہوگا۔

اجلاس میں وفاقی وزراء، وزیراعلیٰ بلوچستان، اعلیٰ عسکری قیادت، سینئر سکیورٹی حکام اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے نمائندے شرکت کریں گے۔

اجلاس میں بلوچستان کی امن و امان کی مجموعی صورتحال، دہشت گردی کے حالیہ واقعات، سکیورٹی اقدامات اور آئندہ کی حکمت عملی پر غور کیا جائے گا۔واضح رہے کہ زیارت کے علاقے مانگی ڈیم فیز تھری میں دہشت گردوں کے حملے میں متعدد پولیس اہلکار شہید ہوئے تھے، جبکہ سکیورٹی فورسز کی جوابی کارروائی میں 15 خوارج ہلاک کیے گئے تھے۔

دوسری جانب ہنہ اوڑک سانحہ بھی حالیہ دنوں بلوچستان کے بڑے المناک واقعات میں شمار کیا جا رہا ہے، جس کے خلاف احتجاج مسلسل جاری ہے۔

Load Next Story