شام میں لڑائی جاری60افراد ہلاک جنگ کا جلد خاتمہ نظر نہیں آتا براہیمی
حلب کی ایک عمارت بمباری سے تباہ ،تین بچوں سمیت پانچ افرادکا پورا کنبہ جاں بحق، شہر کے قریب سرکاری چھاؤنی کا محاصرہ.
وزارت اطلاعات کی ویب سائٹ ہیک،شمال کے علاقے پر باغیوں کا قبضہ،حکومت کے پاس صرف فضائیہ کی طاقت رہ گئی،اے ایف پی. فوٹو: رائٹرز
شام میں پیرکوبھی بدترین تشدد جاری رہاجس میں 31 شہریوں سمیت کم ازکم 60 افرادہلاک ہوگئے۔
حلب میںسرکاری فضائیہ کی بمباری سے ایک رہائشی عمارت تباہ ہوگئی اس میں تین بچوں سمیت پانچ افرادپرمشتمل ایک خاندان کے تمام افرادجاں بحق ہوگئے۔
اقوام متحدہ کے ایلچی لخدارابراہیمی نے سلامتی کونسل کے بندکمرے کے اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے کہاہے کہ شام کی خانہ جنگی بدترین صورت اختیارکرتی جارہی ہے اوراس کا جلدخاتمہ نظرنہیں آتا۔ملک میں خوراک کی قلت پیداہوچکی ہے۔
شہریوں پربدترین تشدد کیاجارہاہے۔لوگ اسپتالوں میں جانے سے بھی ڈرتے ہیں کیونکہ زیادہ تراسپتال سرکاری فوج کے زیرکنٹرول ہیں۔15افراددوسرے ملکوں میں پناہ لے چکے ہیں۔
ان کا کہناتھا کہ صدربشارالاسدپرانے شام کی بحالی چاہتے ہیں جس پر40 سال ان کے والداورخودوہ حکومت کرچکے ہیں۔ملک کے 2,200 میں سے دوہزاراسکول بندہوچکے ہیں۔
فرانسیسی خبررساں ایجنسی کے مطابق شام کے شمال کا سیکڑوں کلومیٹرکاعلاقہ فری سیریئین آرمی کے قبضے میں جاچکا ہے،سرکاری قبضہ کہیں ہے بھی توچھاؤنیوں تک ہے جن کے آس پاس حکومت مخالفین نے بارودی سرنگیں بچھا رکھیں ہیں۔
اب سیکڑوںکلومیٹرتک سفرکے دوران کہیں سرکاری فوج نظرنہیں آتی۔باغی لیڈروں کا کہناہے کہ انھوںنے حلب کے قریب چھاؤنی کا گھیراؤکرلیاہے جوحلب پران کے قبضے میں آخری رکاوٹ ہے۔قصبوں اوردیہات میں جگہ جگہ جلے ہوئے ٹینک نظرآتے ہیں۔
باغیوں کا کہناہے کہ حکومت کے پاس صرف فضائیہ رہ گئی ہے جس کی بمباری ان کیلیے مشکلات پیداکررہی ہے۔اردن کی سرحدی فوج کا کہناہے کہ اب تک دوہزارشامی فوجی منحرف ہوکران کے ملک میں داخل ہوچکے ہیں۔
پیرکوشام کی وزارت اطلاعات کو ہیک کرلیاگیا۔ایک ای میل میں لبنان میں شام کے سفیرکی برطرفی کا اعلان کردیاگیاجسے بعدازاں شامی وزارت اطلاعات نے یہ کہ کرواپس لے لیاکہ اس کی ویب سائٹ ہیک کرلی گئی تھی۔
حلب میںسرکاری فضائیہ کی بمباری سے ایک رہائشی عمارت تباہ ہوگئی اس میں تین بچوں سمیت پانچ افرادپرمشتمل ایک خاندان کے تمام افرادجاں بحق ہوگئے۔
اقوام متحدہ کے ایلچی لخدارابراہیمی نے سلامتی کونسل کے بندکمرے کے اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے کہاہے کہ شام کی خانہ جنگی بدترین صورت اختیارکرتی جارہی ہے اوراس کا جلدخاتمہ نظرنہیں آتا۔ملک میں خوراک کی قلت پیداہوچکی ہے۔
شہریوں پربدترین تشدد کیاجارہاہے۔لوگ اسپتالوں میں جانے سے بھی ڈرتے ہیں کیونکہ زیادہ تراسپتال سرکاری فوج کے زیرکنٹرول ہیں۔15افراددوسرے ملکوں میں پناہ لے چکے ہیں۔
ان کا کہناتھا کہ صدربشارالاسدپرانے شام کی بحالی چاہتے ہیں جس پر40 سال ان کے والداورخودوہ حکومت کرچکے ہیں۔ملک کے 2,200 میں سے دوہزاراسکول بندہوچکے ہیں۔
فرانسیسی خبررساں ایجنسی کے مطابق شام کے شمال کا سیکڑوں کلومیٹرکاعلاقہ فری سیریئین آرمی کے قبضے میں جاچکا ہے،سرکاری قبضہ کہیں ہے بھی توچھاؤنیوں تک ہے جن کے آس پاس حکومت مخالفین نے بارودی سرنگیں بچھا رکھیں ہیں۔
اب سیکڑوںکلومیٹرتک سفرکے دوران کہیں سرکاری فوج نظرنہیں آتی۔باغی لیڈروں کا کہناہے کہ انھوںنے حلب کے قریب چھاؤنی کا گھیراؤکرلیاہے جوحلب پران کے قبضے میں آخری رکاوٹ ہے۔قصبوں اوردیہات میں جگہ جگہ جلے ہوئے ٹینک نظرآتے ہیں۔
باغیوں کا کہناہے کہ حکومت کے پاس صرف فضائیہ رہ گئی ہے جس کی بمباری ان کیلیے مشکلات پیداکررہی ہے۔اردن کی سرحدی فوج کا کہناہے کہ اب تک دوہزارشامی فوجی منحرف ہوکران کے ملک میں داخل ہوچکے ہیں۔
پیرکوشام کی وزارت اطلاعات کو ہیک کرلیاگیا۔ایک ای میل میں لبنان میں شام کے سفیرکی برطرفی کا اعلان کردیاگیاجسے بعدازاں شامی وزارت اطلاعات نے یہ کہ کرواپس لے لیاکہ اس کی ویب سائٹ ہیک کرلی گئی تھی۔