شہید ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کی تدفین روضہ حضرت امام رضا کے احاطے میں کردی گئی
تہران سے قم اور پھر عراق کے شہروں نجف اور کربلا میں زیارت کے بعد شہید آیت اللہ خامنہ ای کو دوبارہ ایران کے شہر مشہد لایا گیا جہاں ان کی نماز جنازہ ادا کرنے کے بعد ان کی تدفین روضہ حضرت امام رضا کے احاطے میں کردی گئی۔
ایرانی میڈیا کے مطابق شہید آیت اللہ علی خامنہ ای کی نماز جنازہ مشہد میں امام رضاؑ کے روضے کے احاطے میں ادا کی گئی جس میں لاکھوں سوگواروں نے شرکت کی اور اپنے محبوب لیڈر کے لیے دعائے مغفرت کی۔
آیت اللہ خامنہ ای کی نماز جنازہ کی امامت ان کے بڑے صاحبزادے مصطفیٰ خامنہ ای نے کی جب کہ ان کے دیگر بھائی بھی پہلی صف میں موجود تھے تاہم موجودہ سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای شریک نہیں تھے۔
اس سے قبل ایرانی سرکاری ٹیلی وژن نے اعلان کیا تھا کہ مشہد میں علی خامنہ ای کے جنازہ آیت اللہ حسین نوری ہمدانی پڑھائیں گے تاہم آج نوری ہمدانی کی عدم موجودگی کی کوئی وجہ نہیں بتائی گئی۔
نماز جنازہ کے بعد دل گرفتہ سوگواروں نے اشکبار آنکھوں کے ساتھے شہید سپریم لیڈر کے جسد خاکی کو پورے احترام و اعزاز سے سپرد خاک کیا۔ فضا دورد و سلام سے گونجتی رہی۔ سینہ کوبی اور آہ و بکا کے مناظر بھی دیکھنے کو ملے۔
اس موقع پر لاکھوں افراد موجود تھے جنھوں نے سرخ اور سیاہ پرچم تھامے ہوئے تھے۔امریکا اور صدر ٹرمپ سے قتل کا بدلہ لینے کے نعرے بھی لگائے گئے جب کہ اسرائیل و امریکا مردہ باد کے فلک شگاف نعرے بھی لگتے رہے۔
یاد رہے کہ شہید خامنہ ای کو 28 فروری کو امریکی و اسرائیلی حملے میں شہید کیا گیا تھا جب کہ تجہیز و تکفین کا آغاز جنگ بندی کے بعد 3 جولائی سے شروع ہوا تھا اور آج تدفین کردی گئی۔
امام رضاؑ کے روضے میں تدفین کی وصیت
آیت اللہ علی خامنہ نے اپنے مدفن کے طور پر امام رضا کے پہلو کا انتخاب کیا تھا چنانچہ اُن کی وصیت اور ورثا کی تجویز پر شہید سپریم لیڈر کو مشہد میں امام رضا کے مزار کے احاطے میں سپردخاک کیا گیا۔
غیر معمولی سکیورٹی انتظامات
سرکاری میڈیا کے مطابق تدفین کے موقع پر مشہد میں انتہائی سخت حفاظتی انتظامات کیے گئے ہیں۔ ایران کی فضائی حدود کے بعض حصوں میں عارضی پابندیاں عائد کی گئیں جبکہ سکیورٹی فورسز اور پاسدارانِ انقلاب کی بڑی نفری تعینات ہے۔
علاوہ ازیں آیت اللہ خامنہ ای کے تابوت کو عراق سے مشہد منتقل کرتے وقت ایک جنگی طیارے نے فضائی نگرانی اور حفاظتی حصار بھی فراہم کیا جس کی ویڈیو بھی جاری کی گئی۔
ایرانی امریکا کے تازہ فضائی حملوں کو خاطر میں نہ لائے
تدفین سے چند گھنٹے قبل امریکا کی جانب سے ایران میں ریلوے پلوں اور دیگر اہداف کو بھی نشانہ بنایا گیا ایسا پہلی بار تھا جب جنگ کے دوران شہری علاقوں پر حملے ہوئے۔
جس کے باعث تہران اور مشہد کے درمیان ٹرین سروس بھی متاثر ہوئی جب کہ ایرانی حکومت نے بھی امریکی حملوں کو تجہیز و تکفین کے عمل کو متاثر کرنے کی کوشش قرار دیتے ہوئے سخت مذمت کی۔
ایران میں سوگ کی فضا
ملک بھر میں سرکاری عمارتوں پر پرچم سرنگوں ہیں، مساجد اور مذہبی مراکز میں دعائیہ تقریبات جاری ہیں، جبکہ لاکھوں افراد سیاہ لباس پہن کر مشہد کی جانب روانہ ہوئے ہیں۔
ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ یہ رسومات نہ صرف ایک قومی سوگ کی علامت ہیں بلکہ ایران کی سیاسی و مذہبی قیادت سے عوامی وابستگی کا اظہار بھی ہیں۔
واضح رہے کہ آیت اللہ خامنہ ای کی تجہیز و تکفین 3 جولائی سے شروع ہونے والی تعزیتی جلوسوں، نماز جنازہ اور تدفین میں 45 سے زائد ممالک کے سیاسی رہنماؤں اور نمائندوں کے علاوہ 90 سے زیادہ ممالک کے علماء، مذہبی شخصیات اور سائنس دانوں نے بھی شرکت کی۔